انسداد خسرہ مہم کی کامیابی کیلیے شہری بھی کردار ادا کریں وزیر صحت
صحافی اور ذرائع ابلاغ مہم کی افادیت اجاگر کریں،سندھ کے 29اضلاع میں10لاکھ76ہزار922بچوںکوحفاظتی ٹیکے لگادیے گئے
لیاقت آباد میں انسداد خسرہ مہم کے دوران بچی کو خسرہ سے بچائو کا حفاظتی ٹیکہ لگایاجارہا ہے ،انسداد ی مہم 13 روز تک جاری رہے گی۔ فوٹو: ایکسپریس
کراچی سمیت سندھ میں شروع کی جانیوالی انسدا د خسرہ مہم کے پہلے دن سندھ کے29 اضلاع میں مجموعی طورپر 1076922بچوںکو خسرہ سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔
مہم کے دوران یہ بات یقینی بنائی جائے کہ 6 ماہ سے 10سال تک کی عمرکاکوئی بچہ خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے سے محرو م نہ رہے، مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے معا شر ے کے بااثرافراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے علا قے میں رہنے والے افرادکو قائل کریں کہ وہ اپنے بچوںکوخسرہ سے بچائو کی ویکسین ضرور لگوائیں جبکہ صحافی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے اخبارات اور اپنے پروگراموں میں حفاظتی مہم کی افادیت کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور و آگا ہی پیداکر نے کے لیے کردار ادا کریں۔
انسدادخسرہ مہم کی کامیابی کے لیے تمام مکتبہ فکرکے لوگوں سے را بطہ کیاجارہا ہے خصوصاً علما ، سیاسی نمائندوں اور علاقائی بااثر شخصیات کے ذریعے اس کام میں تیزی لائی جارہی ہے، ڈاکٹرصغیر احمد نے انسداد خسرہ مہم کے دوران کام کرنے والی ٹیموںکوہدا یت کی ہے کہ وہ اپناکام ایمانداری سے انجام دیں اور مہم کے دوران کوئی بھی غفلت کا مرتکب پایاگیا تو اس کے خلا ف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انسدادخسرہ مہم کے دوران کا م کرنے والی ٹیموںکو تحفظ فراہم کرنے کیلیے قانون نافذکرنے والے اداروںکے ساتھ موثر رابطہ برقرار ہے، انھوں نے محکمہ صحت کے افسران پر زور دیاکہ 13روزہ مہم کے دوران مقررہ ہدف ہر صورت مکمل کریں اس سلسلے میںکوئی کوتاہی برداشت نہیںکی جائے گی۔
مہم کے دوران یہ بات یقینی بنائی جائے کہ 6 ماہ سے 10سال تک کی عمرکاکوئی بچہ خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے سے محرو م نہ رہے، مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے معا شر ے کے بااثرافراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے علا قے میں رہنے والے افرادکو قائل کریں کہ وہ اپنے بچوںکوخسرہ سے بچائو کی ویکسین ضرور لگوائیں جبکہ صحافی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے اخبارات اور اپنے پروگراموں میں حفاظتی مہم کی افادیت کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور و آگا ہی پیداکر نے کے لیے کردار ادا کریں۔
انسدادخسرہ مہم کی کامیابی کے لیے تمام مکتبہ فکرکے لوگوں سے را بطہ کیاجارہا ہے خصوصاً علما ، سیاسی نمائندوں اور علاقائی بااثر شخصیات کے ذریعے اس کام میں تیزی لائی جارہی ہے، ڈاکٹرصغیر احمد نے انسداد خسرہ مہم کے دوران کام کرنے والی ٹیموںکوہدا یت کی ہے کہ وہ اپناکام ایمانداری سے انجام دیں اور مہم کے دوران کوئی بھی غفلت کا مرتکب پایاگیا تو اس کے خلا ف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انسدادخسرہ مہم کے دوران کا م کرنے والی ٹیموںکو تحفظ فراہم کرنے کیلیے قانون نافذکرنے والے اداروںکے ساتھ موثر رابطہ برقرار ہے، انھوں نے محکمہ صحت کے افسران پر زور دیاکہ 13روزہ مہم کے دوران مقررہ ہدف ہر صورت مکمل کریں اس سلسلے میںکوئی کوتاہی برداشت نہیںکی جائے گی۔