تھائی لینڈ میں جمہوریت کا بستر گول
تھائی لینڈ میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری سیاسی محاذ آرائی اور احتجاج کا سلسلہ چل رہا تھا ...
تھائی لینڈ میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری سیاسی محاذ آرائی اور احتجاج کا سلسلہ چل رہا تھا. فوٹو؛ اے ایف پی/فائل
ISLAMABAD:
تھائی لینڈ میں جاری طویل سیاسی بحران کا نتیجہ ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی باہمی محاذ آرائی اور احتجاجی جلسے جلوسوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے فوج نے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی ۔اس موقعے پر جو بیان فوج کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری ہوا ،اس میں ایک قانون کا حوالے دیا گیا ہے جس کی رو سے فوج کو بحران میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جمہوریت دنیا بھر میں ایک بہترین طرزحکومت مانا جاتا ہے،جس میں عوام اپنی پسندکے مطابق اپنے نمایندوں کا چنائوکرتے ہیں تاکہ وہ ان کے مسائل حل کروا سکیں۔
تھائی لینڈ میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری سیاسی محاذ آرائی اور احتجاج کا سلسلہ چل رہا تھا اور یہ کچھ زیادہ ہی دراز ہوچلا تھا ، گزشتہ سال دسمبرسے جاری احتجاج کے باعث بجٹ کی منظوری بھی نہیںدی جا سکی تھی۔ دوسری جانب عبوری وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی ایڈوائزرکا کہنا ہے کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس سے قبل 2006ء میں بھی فوج نے اقتدارپر قبضہ جما لیا تھا۔ تھائی لینڈ میںحزب اختلاف کی جماعتیںاقتدار ایک غیرمنتخب انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ملک کا آئین ازسرنو مرتب کر سکیں۔ لیکن شاید سیاسی جماعتیں جوش جذبات واحتجاج میں جمہوریت کے بنیادی وصف تحمل،برداشت اورمذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کے عمل کو بھول گئیں اور فوج کو بآسانی ایک خودساختہ ''جواز'' ہاتھ آگیا۔
گزشتہ پیرکو وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت حزب اختلاف کے دباؤ میں آکر استعفیٰ نہیں دے گی۔کاش سیاسی قیادت مل بیٹھ کر کوئی سیاسی حل تلاش کرلیتی تو آج یہ نوبت پیش نہ آتی ۔ پاکستان میں بھی نئی منتخب حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر'انتخابی نتائج میں دھاندلی' کو جواز بنا کے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بڑی طویل قربانیوں کے بعد بحال ہوئی ہے یہ ہماری سیاسی قیادت کے کڑے امتحان کا وقت ہے کہ وہ معاملات کو سیاسی سمجھ بوجھ سے حل کرلیتی ہیں یا پھر احتجاج کو طول دے کر جمہوریت کا چمن اجاڑنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے۔
تھائی لینڈ میں جاری طویل سیاسی بحران کا نتیجہ ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی باہمی محاذ آرائی اور احتجاجی جلسے جلوسوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے فوج نے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی ۔اس موقعے پر جو بیان فوج کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری ہوا ،اس میں ایک قانون کا حوالے دیا گیا ہے جس کی رو سے فوج کو بحران میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جمہوریت دنیا بھر میں ایک بہترین طرزحکومت مانا جاتا ہے،جس میں عوام اپنی پسندکے مطابق اپنے نمایندوں کا چنائوکرتے ہیں تاکہ وہ ان کے مسائل حل کروا سکیں۔
تھائی لینڈ میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری سیاسی محاذ آرائی اور احتجاج کا سلسلہ چل رہا تھا اور یہ کچھ زیادہ ہی دراز ہوچلا تھا ، گزشتہ سال دسمبرسے جاری احتجاج کے باعث بجٹ کی منظوری بھی نہیںدی جا سکی تھی۔ دوسری جانب عبوری وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی ایڈوائزرکا کہنا ہے کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس سے قبل 2006ء میں بھی فوج نے اقتدارپر قبضہ جما لیا تھا۔ تھائی لینڈ میںحزب اختلاف کی جماعتیںاقتدار ایک غیرمنتخب انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ملک کا آئین ازسرنو مرتب کر سکیں۔ لیکن شاید سیاسی جماعتیں جوش جذبات واحتجاج میں جمہوریت کے بنیادی وصف تحمل،برداشت اورمذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کے عمل کو بھول گئیں اور فوج کو بآسانی ایک خودساختہ ''جواز'' ہاتھ آگیا۔
گزشتہ پیرکو وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت حزب اختلاف کے دباؤ میں آکر استعفیٰ نہیں دے گی۔کاش سیاسی قیادت مل بیٹھ کر کوئی سیاسی حل تلاش کرلیتی تو آج یہ نوبت پیش نہ آتی ۔ پاکستان میں بھی نئی منتخب حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر'انتخابی نتائج میں دھاندلی' کو جواز بنا کے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بڑی طویل قربانیوں کے بعد بحال ہوئی ہے یہ ہماری سیاسی قیادت کے کڑے امتحان کا وقت ہے کہ وہ معاملات کو سیاسی سمجھ بوجھ سے حل کرلیتی ہیں یا پھر احتجاج کو طول دے کر جمہوریت کا چمن اجاڑنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے۔