دو طرفہ تجارتی حجم میں سالانہ 33 فیصد اضافہ کرنا ہوگا برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر

سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود برطانوی کمپنیاں پاکستان میں انویسٹ کرنا چاہتی ہیں، انتھونی ٹکنوٹ

عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر انتہائی منفی ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے،انتھونی ٹکنوٹ فوٹو؛ اے پی پی

پاکستان میں تعینات برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنرجان انتھونی ٹکنوٹ نے کہا ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کی سلامتی کو درپیش اہم خطرہ ہیں جس سے غیرملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہورہی ہے۔

خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان میں زیادہ سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں، ان عوامل کے سبب عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر انتہائی منفی ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروصنعتکاروں سے خطاب کے دوران کہی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ عسکریت پسندی کے خلاف حکومت پاکستان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے اور برطانیہ کی 64 سیکیورٹی کمپنیاں سندھ پولیس کوآلات فراہم کرنے اور ٹریننگ دینے کی خواہشمند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی سمیت دیگر سخت چیلنجز کے باوجود برطانوی کمپنیاں پاکستان کی تجارت میں شراکت داری کی خواہاں ہیں جبکہ برطانیہ بھی پاکستان کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے 7 ماہ میں برطانیہ کے دو دورے کیے اور برطانوی وزیراعظم سے ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں2.5 ارب پائونڈ کے اضافے کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم کمیرون نے کہا ہے کہ پاکستان کی کس طرح مدد کی جائے کیونکہ وہ پاکستان کی ترقی کو فوکس کیے ہوئے ہیں جبکہ سال2015 تک پاکستان برطانیہ کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو3 ارب پائونڈ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن یہ ہدف صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب دوطرفہ تجارتی حجم میں سالانہ 33فیصد اضافہ ہو۔


جان انتھونی نے کہا کہ پاکستان کے شعبہ معدنیات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کے جاری توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے برطانوی کمپنیوں نے اپنی ایک اسٹڈی مرتب کی ہے جس میں ٹرانسمشن لائنز کی بہتری، انفرااسٹرکچراور شمالی علاقوں میں ہائیڈل کے36 پاورپروجیکٹس کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ متعدد برطانوی کمپنیوں نے پی پی ایل کے ساتھ آف شورمنصوبے پر ایم او یوز کیے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پی پی ایل کے ساتھ توانائی کے منصوبوں پر بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن مطلوبہ انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے سبب بلوچستان کی 80 فیصد کھجور کی پیداوارہرسال ضائع ہورہی ہے جس سے براہ راست کسانوں کو نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، روس، چین، برازیل ودیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں منافع بخش سرمایہ کاری آسان ہے لیکن یہاں کے چیلنجز مختلف نوعیت کے ہیں۔ پاکستان میں کان کنی، سیکیورٹی، انرجی اور انفرااسٹرکچر پر کام کرنا ہوگا جبکہ برطانوی سرمایہ کاری کے 450 ملین ڈالر لاگت سے قائم ہونے والے سیمنٹ پلانٹ جون میں آپریشنل ہوجائے گا جس کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کریں گے۔ برطانیہ کی ایک کمپنی کراچی میں آئندہ چند ماہ میں ڈی سیلینیشن پلانٹ لگائے گی جس کے نتیجے میں یومیہ 100گیلن پینے کاپانی دستیاب ہو سکے گا جبکہ کراچی شہر میں ہی کچرے کااستعمال کرتے ہوئے توانائی کی پیداوار کا ایک منصوبہ بھی شروع کیا جائیگاجس سے توانائی کی ضرورتوں کوپورا کیاجاسکے گا۔ان منصوبوں کی تکمیل کے دوران 4ہزار ورکز کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایاکہ یوکے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ(یو کے ٹی آئی)پاکستان میں بیرون ملک سے تجارت میں مدددیتے ہوئے کمپنیوں کی بھرپور معاونت کر رہی ہے جوکاروبار میں توسیع اور ترقی میں مدد گار ثابت ہو تی ہے۔برطانوی حکومت یوکے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اور دیگر شراکت دار مل جل کر کام کررہے ہیں اوربرطانیہ میں نئے کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے بھی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔

اس ضمن میں یوکے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کاروبار کو منافع بخش بنانے،عملی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مفید مشورے بھی فراہم کرتا ہے۔ اس موقع پر بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی، وائس چیئرمین انجم نثار،کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی،سینئر نائب صدر مفسر اے ملک،نائب صدر محمد ادریس،کے سی سی آئی کی ڈپلومیٹک افیئرز سب کمیٹی کے چیئرمین عبدالجبار دلال،سابق صدر اے کیو خلیل ،مجید عزیزنے بھی خطاب کیا۔
Load Next Story