جولائی تا مئی ٹیکس ریونیو میں مزید 20 ارب روپے کے شارٹ فال کا خدشہ
تھری وفورجی اسپیکٹرم خریدنیوالی کمپنیوں کی ادائیگیوں پر وصول شدہ ٹیکس بھی شارٹ فال میں خاطر خواہ کمی نہ لاسکے گا
مئی کیلیے مقررہ 234.1 ارب کا ہدف حاصل کرنے کیلیے 10روز میں 136ارب روپے کی وصولیاں کرنا ہونگی، ایف بی آرذرائع۔ فوٹو: فائل
رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی)کے دوران ٹیکس وصولیوں کے شارٹ فال میں مزید 20 ارب روپے سے زائد کے شارٹ فال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو رواں ماہ(مئی)کیلئے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے آئندہ دس روز کے دوران 136ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کرنا ہونگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق رواں ماہ(مئی)میں اب تک مجموعی طور پر اٹھانوے ارب روپے کی ٹیکس وصولیاںہوئی ہیں جبکہ رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 234.1 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 174ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اگلے چندروز میں تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم خریدنے والی ٹیلیکام کمپنیوں کی طرف سے کی جانیوالی ادائیگیوں پر حاصل ہونیوالے ٹیکس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا مگر اس کے باوجود شارٹ فال زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرٹیلی کام کمپنیاں اسپیکٹرم کی قیمت خرید کا پچاس فیصد حصہ جمع کرواتی ہیں تو اس صورت میں ایف بی آر کو پانچ سے چھ ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا اور اگر ودہولڈنگ ٹیکس سو فیصد رقم پر ادا کیا جاتا ہے تو اس صورت میں بارہ سے تیرہ ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے رواں ماہ (مئی) کیلیے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے ایف بی آر کو 34.5 فیصد گروتھ حاصل کرنا ہوگا جو ایف بی آر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگی تاہم ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروتھ حاصل کرنے کیلیے ٹیکسوں میں دی جانیوالی چھوٹ کے کچھ ایس آر اوز واپس لینے سمیت دیگر خصوصی اقدامات اٹھانا ہونگے، انکے بغیر یہ گروتھ حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے رواں ماہ(مئی) کیلیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کیلیے انکم ٹیکس وصولیوں میں 43.1 فیصد، سیلز ٹیکس وصولیوں میں 32 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں40.4 فیصد جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں میں 14.8فیصد گروتھ کے اہداف مقرر کیے ہیں جو تاریخی چیلنج ہیں۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے رواں ماہ (مئی)کیلیے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف گزشتہ مالی سال 2012-13 کے اسی عرصے (مئی 2013)میں حاصل ہونیوالی 174.1ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں سے 34.5فیصد زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں ماہ کیلیے براہ راست ٹیکس (انکم ٹیکس) وصولیوں کا ہدف88.3ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی61.7ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں43.1فیصد زیادہ ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو رواں ماہ(مئی)کیلئے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے آئندہ دس روز کے دوران 136ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کرنا ہونگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق رواں ماہ(مئی)میں اب تک مجموعی طور پر اٹھانوے ارب روپے کی ٹیکس وصولیاںہوئی ہیں جبکہ رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 234.1 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 174ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اگلے چندروز میں تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم خریدنے والی ٹیلیکام کمپنیوں کی طرف سے کی جانیوالی ادائیگیوں پر حاصل ہونیوالے ٹیکس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا مگر اس کے باوجود شارٹ فال زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرٹیلی کام کمپنیاں اسپیکٹرم کی قیمت خرید کا پچاس فیصد حصہ جمع کرواتی ہیں تو اس صورت میں ایف بی آر کو پانچ سے چھ ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا اور اگر ودہولڈنگ ٹیکس سو فیصد رقم پر ادا کیا جاتا ہے تو اس صورت میں بارہ سے تیرہ ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے رواں ماہ (مئی) کیلیے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے ایف بی آر کو 34.5 فیصد گروتھ حاصل کرنا ہوگا جو ایف بی آر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگی تاہم ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروتھ حاصل کرنے کیلیے ٹیکسوں میں دی جانیوالی چھوٹ کے کچھ ایس آر اوز واپس لینے سمیت دیگر خصوصی اقدامات اٹھانا ہونگے، انکے بغیر یہ گروتھ حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے رواں ماہ(مئی) کیلیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کیلیے انکم ٹیکس وصولیوں میں 43.1 فیصد، سیلز ٹیکس وصولیوں میں 32 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں40.4 فیصد جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں میں 14.8فیصد گروتھ کے اہداف مقرر کیے ہیں جو تاریخی چیلنج ہیں۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے رواں ماہ (مئی)کیلیے مقرر کردہ 234.1 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف گزشتہ مالی سال 2012-13 کے اسی عرصے (مئی 2013)میں حاصل ہونیوالی 174.1ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں سے 34.5فیصد زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں ماہ کیلیے براہ راست ٹیکس (انکم ٹیکس) وصولیوں کا ہدف88.3ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی61.7ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں43.1فیصد زیادہ ہے۔