پیش امام اور موذن کی سیاسی تقرریاں اسامیوں کی فہرست طلب
محکمہ اوقاف نے کس کوکنٹریکٹ پر کب بھرتی کیا اور کتنی مدت بعد مستقل کیا، رپورٹ پیش کی جائے ،عدالت عالیہ سندھ
پیش امام کی تنخواہ2500،موذن کی2000،خادم کی تنخواہ 1500روپے ہے،مستقل نہیں کیاجارہا،درخواست گزار۔ فوٹو : فائل
ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہرکی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے محکمہ اوقاف کے سیکریٹری اور چیف ایڈمنسٹریٹرسے مساجد میں پیش اماموں،موذن اورخادمین کی منظور شدہ اسامیوں پر تقرریوں کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
سماعت کے موقع پر مولویوںکی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجودتھی، مساجد میں فرائض انجام دینے والے ملازمین نے محکمہ اوقاف، مذہبی امور، زکوۃ و عشر کے سیکرٹریز اور ایڈمنسٹریٹرز کو فریق بناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ان کے کنٹریکٹ پر تقرریاں 1995 سے 2009 کے دوران عمل میں آئیں لیکن سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ریگولرائز کیا جارہا ہے ،ملازمین طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر فرائض انجام دے رہے ہیں انھیں مستقل نہیںکیا جارہا،درخواست میں بتایاگیاہے کہ پیش امام کی تنخواہ 2500 موذن کی 2000اور خادم کی تنخواہ صرف 1500روپے ہے، انھوںنے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی تنخواہ صوبے میں مقرر کی گئی کم سے کم اجرت سے بھی کم ہے،اتنی کم تنخواہ کے باوجود ان پر برطرف کیے جانے کی تلوار لٹکی رہتی ہے، وہ خوف کے عالم میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
عبدالحسیب جمالی کے توسط سے دائر درخواست میں مزید بتایاگیاکہ درخواست گزاروں نے کئی بار حکام بالا کو مستقل کرنے کے لیے درخواستیں دیں لیکن وہ فنڈز کی کمی کا بہانہ بناکر انھیں ٹال دیتے ہیں ، 2010 میں محکمہ زکوٰۃ و عشر کی جانب سے مستقل ملازمین کے لیے بجٹ میں رقم رکھی گئی تاہم 2013 میں جب رقم مختص کی گئی تو صرف ان ملازمین کو مستقل کیاگیاجو حکمران پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
دوران سماعت سیکریٹری اوقاف نے بتایاکہ اوقاف ریونیو پیدا کرنے والا محکمہ ہے اور مزاروں اور دیگر ذرائع سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں لیکن اب حکومت سندھ نے انھیں گرانٹ دینا شروع کی ہے اور خصوصی طور پرمحکمہ اوقاف کی آمدنی سے دو گنا کرکے 21 کروڑ 60لاکھ روپے کی امداد دی گئی لیکن چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف عبدالرحمن چیمہ نے موقف اختیار کیاکہ ملازمین کی تنخواہوں کے لیے مستقل مد نہیں اورنہ ہی ضرورت کے مطابق رقم دی جاتی ہے ، سیکریٹری اور چیف ایڈمنسٹریٹر میں منظور شدہ اسامیوں پر بھی اختلاف پایا گیا۔
سماعت کے موقع پر مولویوںکی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجودتھی، مساجد میں فرائض انجام دینے والے ملازمین نے محکمہ اوقاف، مذہبی امور، زکوۃ و عشر کے سیکرٹریز اور ایڈمنسٹریٹرز کو فریق بناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ان کے کنٹریکٹ پر تقرریاں 1995 سے 2009 کے دوران عمل میں آئیں لیکن سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ریگولرائز کیا جارہا ہے ،ملازمین طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر فرائض انجام دے رہے ہیں انھیں مستقل نہیںکیا جارہا،درخواست میں بتایاگیاہے کہ پیش امام کی تنخواہ 2500 موذن کی 2000اور خادم کی تنخواہ صرف 1500روپے ہے، انھوںنے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی تنخواہ صوبے میں مقرر کی گئی کم سے کم اجرت سے بھی کم ہے،اتنی کم تنخواہ کے باوجود ان پر برطرف کیے جانے کی تلوار لٹکی رہتی ہے، وہ خوف کے عالم میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
عبدالحسیب جمالی کے توسط سے دائر درخواست میں مزید بتایاگیاکہ درخواست گزاروں نے کئی بار حکام بالا کو مستقل کرنے کے لیے درخواستیں دیں لیکن وہ فنڈز کی کمی کا بہانہ بناکر انھیں ٹال دیتے ہیں ، 2010 میں محکمہ زکوٰۃ و عشر کی جانب سے مستقل ملازمین کے لیے بجٹ میں رقم رکھی گئی تاہم 2013 میں جب رقم مختص کی گئی تو صرف ان ملازمین کو مستقل کیاگیاجو حکمران پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
دوران سماعت سیکریٹری اوقاف نے بتایاکہ اوقاف ریونیو پیدا کرنے والا محکمہ ہے اور مزاروں اور دیگر ذرائع سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں لیکن اب حکومت سندھ نے انھیں گرانٹ دینا شروع کی ہے اور خصوصی طور پرمحکمہ اوقاف کی آمدنی سے دو گنا کرکے 21 کروڑ 60لاکھ روپے کی امداد دی گئی لیکن چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف عبدالرحمن چیمہ نے موقف اختیار کیاکہ ملازمین کی تنخواہوں کے لیے مستقل مد نہیں اورنہ ہی ضرورت کے مطابق رقم دی جاتی ہے ، سیکریٹری اور چیف ایڈمنسٹریٹر میں منظور شدہ اسامیوں پر بھی اختلاف پایا گیا۔