پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے بند دروازے ’’سری لنکن چابی‘‘ سے کھولنے کا منصوبہ

سری لنکا کے صدر راجاپکسے نے حوصلہ افزا بیان دیا، ہم ان کے کرکٹ بورڈ کو خط بھیج رہے ہیں، نجم سیٹھی

سری لنکا کے صدر راجاپکسے نے حوصلہ افزا بیان دیا، ہم ان کے کرکٹ بورڈ کو خط بھیج رہے ہیں، نجم سیٹھی. فوٹو: فائل

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے بند دروازے''سری لنکن چابی '' سے کھولنے کا منصوبہ بنا لیا گیا، حال ہی میں بطور چیئرمین بحال ہونے والے نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے صدر راجاپکسے نے حوصلہ افزا بیان دیا، ہم ان کے کرکٹ بورڈ کو خط بھیج رہے ہیں۔

رواں سال کسی غیر ملکی ٹیم کی میزبانی کیلیے خاصا کام کرچکے،ہمارا موقف ہے کہ یہاں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں، پنجاب حکومت کے تعاون سے فول پروف انتظامات کرینگے۔ دوسری جانب بورڈ کے سربراہ کی طرف سے دفتر سنبھالنے کے پہلے روز ہی کرکٹرز کی بھی فریاد سن لی گئی،انھیں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20کی فیس فوری ادا کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مارچ2009 میں سری لنکن ٹیم کو لاہور کے لبرٹی چوک میں دہشتگردوں نے نشانہ بنایا جس میں کئی کھلاڑی شدید زخمی ہوگئے تھے، اس واقعے کے بعد سے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند اور میدان ویران ہیں،بنگلہ دیش کئی بار سیریز کھیلنے کے وعدے کرکے مکر گیا، اب پی سی بی نے آئی لینڈرز سے آس لگالی ہے۔


سری لنکا میں جب خانہ جنگی کا دور دورہ تھا تو گرین شرٹس نے وہاں کے کئی ٹورز کیے، اب پاکستان کرکٹ پر مشکل حالات ہیں تو سری لنکن صدر راجا پکسے مدد پر آمادہ نظر آتے ہیں، چین میں ایک اجلاس کے موقع پر پاکستانی ہم منصب ممنون حسین سے ملاقات میں انھوں نے کہا کہ ''ہماری ٹیم کو لازمی طور پر پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے کیونکہ ہم دہشتگردوں کو خود پر حاوی ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے''۔ حال ہی میں عہدے پر بحال ہونے والے چیئرمین پی سی بی نے دوبارہ چارج سنبھالنے کے پہلے روز ضروری امور نمٹانے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ سری لنکن صدر کی طرف سے کچھ عرصے قبل بھی اسی نوعیت کا حوصلہ افزا بیان سامنے آیا تھا،چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے بتایاکہ اس وقت بوجوہ پیش رفت نہ ہوسکی تاہم اب اس ممکنہ پیشکش سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کو شش کرینگے۔

سری لنکن بورڈ کو خط لکھ رہے ہیں،امید ہے کہ کوئی مثبت پیش رفت ہوگی،انھوں نے کہا کہ رواں سال کسی غیر ملکی ٹیم کی میزبانی کیلیے خاصا ہوم ورک کرچکے ہیں، ہمارا موقف ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا انعقاد کراتے ہوئے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، پنجاب حکومت کے تعاون سے ہر لحاظ سے فول پروف انتظامات کرسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ڈومیسٹک ڈھانچے میں بہتری کیساتھ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی پر خاص توجہ مرکوز ہے، ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہونگی لیکن فوری طور پر متوقع ٹیم کا نام نہیں بتا سکتا۔ سربراہ کی تبدیلی سے بورڈ کے عمومی معاملات بار بار تعطل کا شکار ہونے کے سوال پر نجم سیٹھی نے کہاکہ ہم عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں، ذکااشرف کی بحالی کا فیصلہ آنے پر صورتحال واضح نہیں تھی، اس لیے پی سی بی کا رخ نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے مینجمنٹ کمیٹی کو کام کرنے کی اجازت دیدی، اس حوالے سے بین الصوبائی رابطے کی وزارت کا تحریری حکم نامہ بھی مل گیا تو آفس جوائن کرلیا، انھوں نے کہا کہ جس دن اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آیا،کرکٹرز کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20کی میچ فیس جاری کرنے کیلیے دستخط کرنا چاہتا تھا لیکن نہ کرسکا،آج آتے ہی یہ کام مکمل کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بورڈ کے سربراہ کی تبدیلی سے کوچنگ اسٹاف غیر یقینی کیفیت کاشکار ہوسکتا تھا، ایک ملکی اور غیر ملکی نے مجھے فون کرکے کہا کہ اب کیا ہوگا، میرا جواب تھا کہ عدالتی فیصلے کی پابندی کرنا ہوگی،ایک کا کہنا تھا کہ اگر آپ بورڈ کے سربراہ نہ ہوئے تو کیا مجھے بھی جانا ہوگا، میرا مشورہ تھا کہ اگر ذکا اشرف آپ کی خدمات برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پاکستان کرکٹ کیلیے ضرور کام کریں۔
Load Next Story