آئین و قانون مجھے جیو کے مقدمہ کی سماعت سے نہیں روکتے جسٹس جواد خواجہ
درست ہے کہ میرشکیل الرحمن میرے رشتے دار ہیں مگر میں 20 سال سے ان سے نہیں ملا، جسٹس جواد خواجہ
درست ہے کہ میرشکیل الرحمن میرے رشتے دار ہیں مگر میں 20 سال سے ان سے نہیں ملا، جسٹس جواد خواجہ فوٹو: فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ میں جیو کی درخواست کی سماعت کے دوران تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے نجی ٹی وی کے خود پر اعتراضات مسترد کردیے اور قرار دیا ہے کہ ججز کا ضابطہ اخلاق، حلف اور آئین و قانون انھیں جیو کے مقدمہ کی سماعت سے نہیں روکتے۔
عدالت نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر جیو کی پٹیشن سے متعلق بدھ کی رات کو نشر ہونے والے پروگرام کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا اور اس معاملے کو جیو کی پٹیشن سے الگ کرکے زیر غور لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جیو ٹی وی کی پٹیشن کی سماعت شروع کی، دوران سماعت جسٹس جواد نے کہاکہ ہماری کچھ اقدار ہیں جن سے ہم پوری طرح آشنا ہیں۔ اس موقع پر محمود اختر نقوی نے پیش ہو کر کہا کہ میں نے توہین رسالت کے حوالے سے17 مئی کو درخواست دائر کی تھی جو تاحال سماعت کیلیے نہیں لگائی گئی مگر کل دائر ہونیوالی درخواست لگا دی گئی جس پر جسٹس جواد نے انھیں کہا کہ درخواست لگوانے کیلیے چیف جسٹس کو درخواست دیں، یہ ان کا اختیار ہے۔
جسٹس جواد نے کہاکہ اگر بینچ کے کسی رکن جج پر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو ہمیں اس بارے میں علم ہونا چاہیے، وفاق اور پیمرا سمیت کسی کو بھی کوئی عذر ہے تو ایک گھنٹے میں آکر بتادے، جس کے بعد عدالت ایک گھنٹے کیلیے برخاست کر دی گئی۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل اور اے آر وائی کے اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ وفاق کو کیس سننے پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ صابر شاکر نے کہاکہ جس پروگرام میں جج کے بارے میں اعتراض کیا گیا، اس کے اینکر لاہور میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں وکیل کرنے کیلیے کچھ وقت دیا جائے۔ اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت ایک بار پھر ایک گھنٹے کیلیے ملتوی کردی کہ ایک گھنٹے کے بعد پروگرام سکرپٹ عدالت میں دیکھا جائیگا۔
بعد ازاں پروگرام کے بعض حصے دیکھے گئے جس کے بعد جسٹس جواد نے کہاکہ ججوں کو اس طرح کے ریمارکس سے بینچ سے نہیں ہٹایا جاسکتا، کسی جج کے کیس سے الگ ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ میرشکیل الرحمن میرے رشتے دار ہیں مگر میں 20 سال سے ان سے نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی کوئی مقدس گائے نہیں، ہمارے فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی مگر عدلیہ، فوج، پارلیمنٹ سمیت ملکی اداروں کے وقار پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ پیمرا اہلکار کہتے ہیں کہ رات پروگرام نشر ہوا، سو گئے تھے، اب نوٹس لیں گے۔
پیمرا اہلکار زاہد ملک نے عدالت کو بتایا کہ پروگرام کو مانیٹر کیا ہے، کمنٹس بنا کر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیئے، امید ہے کہ آج اس پر کوئی کارروائی ہوگی۔ جسٹس گلزار نے کہاکہ پیمرا اگر اپنا آئینی کردار ادا کرتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے لکھوایا کہ پروگرام میں جسٹس جواد ایس خواجہ پر الزام لگایا گیا کہ ان کی میرشکیل الرحمن سے رشتے داری ہے، ان کے بھائی کی اہلیہ میرشکیل الرحمان کی بہن ہے، یہ بیان پروگرام میں عقیل کریم ڈھیڈی نے دیا، حقیقت یہ ہے کہ فاضل جج کو نہیں یاد کہ وہ 15، 16 سال سے غمی خوشی کے علاوہ کبھی اپنی بھاوج سے ملے ہوں۔ عدالت نے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کیس آج سننے کا فیصلہ کیا اور آبزرویشن دی کہ اگر پیمرا اپنی ذمے داری نبھاتی تو یہ صورتحال پید انہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ میں جیو کی درخواست کی سماعت کے دوران تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے نجی ٹی وی کے خود پر اعتراضات مسترد کردیے اور قرار دیا ہے کہ ججز کا ضابطہ اخلاق، حلف اور آئین و قانون انھیں جیو کے مقدمہ کی سماعت سے نہیں روکتے۔
عدالت نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر جیو کی پٹیشن سے متعلق بدھ کی رات کو نشر ہونے والے پروگرام کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا اور اس معاملے کو جیو کی پٹیشن سے الگ کرکے زیر غور لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جیو ٹی وی کی پٹیشن کی سماعت شروع کی، دوران سماعت جسٹس جواد نے کہاکہ ہماری کچھ اقدار ہیں جن سے ہم پوری طرح آشنا ہیں۔ اس موقع پر محمود اختر نقوی نے پیش ہو کر کہا کہ میں نے توہین رسالت کے حوالے سے17 مئی کو درخواست دائر کی تھی جو تاحال سماعت کیلیے نہیں لگائی گئی مگر کل دائر ہونیوالی درخواست لگا دی گئی جس پر جسٹس جواد نے انھیں کہا کہ درخواست لگوانے کیلیے چیف جسٹس کو درخواست دیں، یہ ان کا اختیار ہے۔
جسٹس جواد نے کہاکہ اگر بینچ کے کسی رکن جج پر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو ہمیں اس بارے میں علم ہونا چاہیے، وفاق اور پیمرا سمیت کسی کو بھی کوئی عذر ہے تو ایک گھنٹے میں آکر بتادے، جس کے بعد عدالت ایک گھنٹے کیلیے برخاست کر دی گئی۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل اور اے آر وائی کے اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ وفاق کو کیس سننے پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ صابر شاکر نے کہاکہ جس پروگرام میں جج کے بارے میں اعتراض کیا گیا، اس کے اینکر لاہور میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں وکیل کرنے کیلیے کچھ وقت دیا جائے۔ اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت ایک بار پھر ایک گھنٹے کیلیے ملتوی کردی کہ ایک گھنٹے کے بعد پروگرام سکرپٹ عدالت میں دیکھا جائیگا۔
بعد ازاں پروگرام کے بعض حصے دیکھے گئے جس کے بعد جسٹس جواد نے کہاکہ ججوں کو اس طرح کے ریمارکس سے بینچ سے نہیں ہٹایا جاسکتا، کسی جج کے کیس سے الگ ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ میرشکیل الرحمن میرے رشتے دار ہیں مگر میں 20 سال سے ان سے نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی کوئی مقدس گائے نہیں، ہمارے فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی مگر عدلیہ، فوج، پارلیمنٹ سمیت ملکی اداروں کے وقار پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ پیمرا اہلکار کہتے ہیں کہ رات پروگرام نشر ہوا، سو گئے تھے، اب نوٹس لیں گے۔
پیمرا اہلکار زاہد ملک نے عدالت کو بتایا کہ پروگرام کو مانیٹر کیا ہے، کمنٹس بنا کر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیئے، امید ہے کہ آج اس پر کوئی کارروائی ہوگی۔ جسٹس گلزار نے کہاکہ پیمرا اگر اپنا آئینی کردار ادا کرتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے لکھوایا کہ پروگرام میں جسٹس جواد ایس خواجہ پر الزام لگایا گیا کہ ان کی میرشکیل الرحمن سے رشتے داری ہے، ان کے بھائی کی اہلیہ میرشکیل الرحمان کی بہن ہے، یہ بیان پروگرام میں عقیل کریم ڈھیڈی نے دیا، حقیقت یہ ہے کہ فاضل جج کو نہیں یاد کہ وہ 15، 16 سال سے غمی خوشی کے علاوہ کبھی اپنی بھاوج سے ملے ہوں۔ عدالت نے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کیس آج سننے کا فیصلہ کیا اور آبزرویشن دی کہ اگر پیمرا اپنی ذمے داری نبھاتی تو یہ صورتحال پید انہیں ہوتی۔