سانحہ کراچی 2 چشم دید گواہوں کے بیانات قلم بند 10افراد زیر حراست
آگ لگنے کے وقت مالکان موجودتھے، اکائونٹنٹ
دو چشم دید گواہوں نےعدالت کو بتایا کہ آگ لگنے والے دن فیکٹری کا ایمرجنسی دروازہ جو ہمیشہ کھلا ہوا ہوتا ہے وہ بھی بند تھا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری کے مالکان نے عدالت میں پیش ہونے سے انکارکردیا۔
فاضل عدالت نے ملزمان کی موجودگی کے بغیر دوگواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں،تفصیلات کے مطابق منگل کو سانحہ بلدیہ کے تفتیشی افسرچوہدری ظفر اقبال نے ایس پی ثاقب سلطان کی سربراہی میں دو چشم دید گواہوں کو ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164کے تحت بیان قلمبند کرانے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری کے روبرو پیش کیا ۔
اس موقع پر مقدمے میں نامزد شاہد ، عبدالعزیز اور ارشد بھائیلا عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو عدالتی نوٹس کی تعمیل ہوچکی ہے تاہم فاضل عدالت نے ملزمان کی موجودگی کے بغیر گواہوں کو طلب کیا اور بیانات قلمبند کیے ،گواہ خرم اقبال نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ فیکٹری میں اکائونٹنٹ ہے ،حادثے کے روز وہ ڈیوٹی پر تھا ۔
شام چھ بجے کے قریب چیف اکائونٹنٹ عبدالمجید نے شور کیا کہ فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے، وہ آفس سے باہر آئے، گیٹ کے قریب فیکٹری کے مالک شاہد بھائیلا، ڈائریکٹر اوردیگرافراد موجود تھے ،اس دوران فیکٹری میں دھواں اور آگ کے شعلے بلند تھے، خارجی دروازے بند تھے ،فیکٹری کی بالائی منزل کی جانب جانے والے زینے کا دروازہ بھی بند تھا جسے انھوں نے کبھی بھی بند نہیں دیکھا تھا، اندر سے چیخوں کی آوازیں بلند تھیں ۔
مالک نے چیف اکائونٹنٹ کو کہا کہ وہ فائربریگیڈ کو فون کریں ،انھوں نے فون کیا تاہم وہ نہیں آئے ،آگ بڑھتی جارہی تھی، شاہد نے چیف اکائونٹنٹ کو فائربریگیڈ کو خود لانے کو کہا ،وہ گئے اور کچھ دیر بعد ایک گاڑی کے ہمراہ آئے، اس وقت تک آگ بہت زیادہ بھڑک چکی تھی اور متعدد کارکن ہلاک و بے ہوش ہوچکے تھے۔
اسی اثنا میں دیگر گاڑیاں بھی فیکٹری پہنچ گئیں تھیں ،فائر بریگیڈکے عملے نے انھیں اور مالکان کو گیٹ سے باہر نکال دیااورگیٹ بند کردیا تھا، وہ اپنے گھر چلا گیا تھا ،دوسرے گواہ محمد عمر نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ مشین آپریٹر ہے اس روز وہ پہلی منزل پر موجود تھا ۔
اس منزل پر دس سے زائد کارکن تھے ،شام6بجے کے بعد اچانک فیکٹری میں دھواں دیکھا اور آگ لگ گئی ،شور سنتے ہی وہ باہر کی طرف بھاگے لیکن خارجی دروازہ بند تھا اور تالہ لگا ہوا تھا، انھوں نے شور کیا دوسرے دروازے کی طرف بھاگے لیکن وہ بھی بند تھا، اس منزل کے کونے میں ایمرجنسی دروازہ تھا جو ہمیشہ کھلا ہوا ہوتا ہے لیکن وہ بھی بند تھا ،دھوئیں سے سانس نہیں لی جارہی تھی۔
دم گھٹنے لگا ،سامنے کھڑکی تھی ،جسے مشینوں کے ذریعے توڑا نیچے ،بہت رش تھا ایک رسی کے ذریعے چلانگ لگادی تھی ،دوسری جانب گندا نالہ تھا بہت سے کارکنوں نے اپنی جان بچانے کیلیے نالے میں چھلانگ لگائی۔تھی وہ گرتے ہی بے ہوش ہوگیا تھا، اس موقع پر پولیس نے مالکان کے نام لینے پر دبائو ڈالا ،فاضل عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ،گواہ نے کہا کہ اس نے مالکان کو نہیں دیکھا تھا اور نالے میں گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔
بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری کے مالکان نے عدالت میں پیش ہونے سے انکارکردیا۔
فاضل عدالت نے ملزمان کی موجودگی کے بغیر دوگواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں،تفصیلات کے مطابق منگل کو سانحہ بلدیہ کے تفتیشی افسرچوہدری ظفر اقبال نے ایس پی ثاقب سلطان کی سربراہی میں دو چشم دید گواہوں کو ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164کے تحت بیان قلمبند کرانے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری کے روبرو پیش کیا ۔
اس موقع پر مقدمے میں نامزد شاہد ، عبدالعزیز اور ارشد بھائیلا عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو عدالتی نوٹس کی تعمیل ہوچکی ہے تاہم فاضل عدالت نے ملزمان کی موجودگی کے بغیر گواہوں کو طلب کیا اور بیانات قلمبند کیے ،گواہ خرم اقبال نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ فیکٹری میں اکائونٹنٹ ہے ،حادثے کے روز وہ ڈیوٹی پر تھا ۔
شام چھ بجے کے قریب چیف اکائونٹنٹ عبدالمجید نے شور کیا کہ فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے، وہ آفس سے باہر آئے، گیٹ کے قریب فیکٹری کے مالک شاہد بھائیلا، ڈائریکٹر اوردیگرافراد موجود تھے ،اس دوران فیکٹری میں دھواں اور آگ کے شعلے بلند تھے، خارجی دروازے بند تھے ،فیکٹری کی بالائی منزل کی جانب جانے والے زینے کا دروازہ بھی بند تھا جسے انھوں نے کبھی بھی بند نہیں دیکھا تھا، اندر سے چیخوں کی آوازیں بلند تھیں ۔
مالک نے چیف اکائونٹنٹ کو کہا کہ وہ فائربریگیڈ کو فون کریں ،انھوں نے فون کیا تاہم وہ نہیں آئے ،آگ بڑھتی جارہی تھی، شاہد نے چیف اکائونٹنٹ کو فائربریگیڈ کو خود لانے کو کہا ،وہ گئے اور کچھ دیر بعد ایک گاڑی کے ہمراہ آئے، اس وقت تک آگ بہت زیادہ بھڑک چکی تھی اور متعدد کارکن ہلاک و بے ہوش ہوچکے تھے۔
اسی اثنا میں دیگر گاڑیاں بھی فیکٹری پہنچ گئیں تھیں ،فائر بریگیڈکے عملے نے انھیں اور مالکان کو گیٹ سے باہر نکال دیااورگیٹ بند کردیا تھا، وہ اپنے گھر چلا گیا تھا ،دوسرے گواہ محمد عمر نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ مشین آپریٹر ہے اس روز وہ پہلی منزل پر موجود تھا ۔
اس منزل پر دس سے زائد کارکن تھے ،شام6بجے کے بعد اچانک فیکٹری میں دھواں دیکھا اور آگ لگ گئی ،شور سنتے ہی وہ باہر کی طرف بھاگے لیکن خارجی دروازہ بند تھا اور تالہ لگا ہوا تھا، انھوں نے شور کیا دوسرے دروازے کی طرف بھاگے لیکن وہ بھی بند تھا، اس منزل کے کونے میں ایمرجنسی دروازہ تھا جو ہمیشہ کھلا ہوا ہوتا ہے لیکن وہ بھی بند تھا ،دھوئیں سے سانس نہیں لی جارہی تھی۔
دم گھٹنے لگا ،سامنے کھڑکی تھی ،جسے مشینوں کے ذریعے توڑا نیچے ،بہت رش تھا ایک رسی کے ذریعے چلانگ لگادی تھی ،دوسری جانب گندا نالہ تھا بہت سے کارکنوں نے اپنی جان بچانے کیلیے نالے میں چھلانگ لگائی۔تھی وہ گرتے ہی بے ہوش ہوگیا تھا، اس موقع پر پولیس نے مالکان کے نام لینے پر دبائو ڈالا ،فاضل عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ،گواہ نے کہا کہ اس نے مالکان کو نہیں دیکھا تھا اور نالے میں گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔