جراثیم کش اسپرے مہم التوا کا شکار مزید4 مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق
ڈنگی بخار میں مبتلا مریضوںکی تعداد196ہوگئی
کراچی سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مچھروں اورڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مادہ مچھر ایڈیزایجپٹی کی افزائش نسل شروع ہوگئی ہے۔ فوٹو: فائل
DUBAI:
کراچی میں ڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مچھروں نے مزید4 مریضوں کو ڈنگی وائرس میں مبتلا کردیا۔
جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 196 ہوگئی ہے جبکہ ایک مریضہ بھی وائرس کا نشانہ بن کرجان کی بازی بھی ہارچکی ہے، دوسری جانب ماہرین طب نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈنگی وائرس سے بچائوکیلیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیںکیے جاسکے۔
مچھر مار اسپرے مہم بھی التوا کا شکار ہے ، دوسری جانب محکمہ صحت نے متا ثرہ مریضوں کی تشخیص اور پلیٹ لیٹ کی فراہمی کیلیے کوئی واضح احکامات جاری نہیںکیے ، ماہرین طب نے کہا ہے کہ ڈنگی وائرس اورملیریا کے مرض کا سیزن شروع ہوگیا ہے کراچی سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مچھروں اورڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مادہ مچھر ایڈیزایجپٹی کی افزائش نسل شروع ہوگئی ہے جووبائی صورت اختیارکرسکتی ہے۔
ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے،ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس کا شکار افرادغیر ضروری اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال نہ کریں کیونکہ ایسے مریضوں کے جسم میں پلیٹ لیٹ کی تعداد مزید کم ہوجاتی ہے اورزندگی کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں، مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں خون کا سی بی سی ٹیسٹ کراناچاہے، بچوں کو بھی غیر ضروری اینٹی بائیٹک ادویات سے بچانا ہوتا ہے ۔
ادھر عوام میںگذشتہ روزکراچی میں بارش ہونے کے بعد ڈنگی وائرس کا خوف طاری ہوگیا ہے کیونکہ یہ وائرس گذشتہ6سال سے تواترکے ساتھ رپورٹ ہورہا ہے، ماہرین نے بتایا کہ مچھر ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے لہٰذا عوام بھی گھروں،گلی۔
محلوںکی صفائی رکھیں اور گھروںکے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیںکیونکہ جمع ہونے والے پانی میں مچھروںکی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے اور جمع ہونے والے پانی میں معمول سا مٹی کا تیل چھڑک دیا جائے تو مچھروںکی افزائش نسل رک جاتی ہے کیونکہ پانی کی سطح پر مٹی کا تیل ہوتا ہے اور آکسیجن پانی کے اندر نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے مچھروںکی افزائش نسل رک جاتی ہے۔
کراچی میں ڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مچھروں نے مزید4 مریضوں کو ڈنگی وائرس میں مبتلا کردیا۔
جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 196 ہوگئی ہے جبکہ ایک مریضہ بھی وائرس کا نشانہ بن کرجان کی بازی بھی ہارچکی ہے، دوسری جانب ماہرین طب نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈنگی وائرس سے بچائوکیلیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیںکیے جاسکے۔
مچھر مار اسپرے مہم بھی التوا کا شکار ہے ، دوسری جانب محکمہ صحت نے متا ثرہ مریضوں کی تشخیص اور پلیٹ لیٹ کی فراہمی کیلیے کوئی واضح احکامات جاری نہیںکیے ، ماہرین طب نے کہا ہے کہ ڈنگی وائرس اورملیریا کے مرض کا سیزن شروع ہوگیا ہے کراچی سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مچھروں اورڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مادہ مچھر ایڈیزایجپٹی کی افزائش نسل شروع ہوگئی ہے جووبائی صورت اختیارکرسکتی ہے۔
ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے،ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس کا شکار افرادغیر ضروری اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال نہ کریں کیونکہ ایسے مریضوں کے جسم میں پلیٹ لیٹ کی تعداد مزید کم ہوجاتی ہے اورزندگی کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں، مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں خون کا سی بی سی ٹیسٹ کراناچاہے، بچوں کو بھی غیر ضروری اینٹی بائیٹک ادویات سے بچانا ہوتا ہے ۔
ادھر عوام میںگذشتہ روزکراچی میں بارش ہونے کے بعد ڈنگی وائرس کا خوف طاری ہوگیا ہے کیونکہ یہ وائرس گذشتہ6سال سے تواترکے ساتھ رپورٹ ہورہا ہے، ماہرین نے بتایا کہ مچھر ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے لہٰذا عوام بھی گھروں،گلی۔
محلوںکی صفائی رکھیں اور گھروںکے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیںکیونکہ جمع ہونے والے پانی میں مچھروںکی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے اور جمع ہونے والے پانی میں معمول سا مٹی کا تیل چھڑک دیا جائے تو مچھروںکی افزائش نسل رک جاتی ہے کیونکہ پانی کی سطح پر مٹی کا تیل ہوتا ہے اور آکسیجن پانی کے اندر نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے مچھروںکی افزائش نسل رک جاتی ہے۔