صنعتی یونٹس میں ایمرجنسی وسیفٹی قوانین کا جائزہ لیا جائےکمشنر
اقدامات کا مقصد صنعتکاروں کو خوفزدہ کرنا نہیں ہے، روشن علی شیخ
کمشنر کراچی نے ٹیکنیکل کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کراچی کی فیکٹریوں اور کارخانوں میں ایمرجنسی اور سیفٹی کے حوالے سے انتظامات کے لیے 3 روز میں اپنی رپورٹ تیار کریں۔ فوٹو: فائل
کمشنر روشن علی شیخ نے کہا ہے کہ بلدیہ میں گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد ضروری ہے کہ تمام صنعتی یونٹس ، فیکٹریوں اور کارخانوں میں ایمرجنسی اور سیفٹی کے حوالے سے قوانین کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔
قوانین نافذ کرنے والے تمام اداروں بشمول سول ڈیفنس ، الیکٹریکل ، فائر وغیرہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی باہمی مشاورت سے جامع اور مربوط پالیسی مرتب کی جائے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، کمشنر کراچی نے ٹیکنیکل کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کراچی کی فیکٹریوں اور کارخانوں میں ایمرجنسی اور سیفٹی کے حوالے سے انتظامات کے لیے 3 روز میں اپنی رپورٹ تیار کریں، انھیں مختلف کیٹگری میں تقسیم کریں ان سفارشات میں کیٹیگری'' A''وہ ہوگی۔
جنھیں لازمی اور فوری طور پر تمام فیکٹریوں اور کارخانوں میں نافذ کرنا ہے اور عملدرآمد کروانا ہے تاہم کیٹیگری'' A'' کے نفاذ کے لیے صنعت کاروں کو 6 ماہ کی مدت کیلیے مہلت دی جائیگی،انھوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد صنعتکاروں کو ہراساں یا خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ ان تمام اقدامات سے پہلے تمام صنعت کاروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
قوانین نافذ کرنے والے تمام اداروں بشمول سول ڈیفنس ، الیکٹریکل ، فائر وغیرہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی باہمی مشاورت سے جامع اور مربوط پالیسی مرتب کی جائے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، کمشنر کراچی نے ٹیکنیکل کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کراچی کی فیکٹریوں اور کارخانوں میں ایمرجنسی اور سیفٹی کے حوالے سے انتظامات کے لیے 3 روز میں اپنی رپورٹ تیار کریں، انھیں مختلف کیٹگری میں تقسیم کریں ان سفارشات میں کیٹیگری'' A''وہ ہوگی۔
جنھیں لازمی اور فوری طور پر تمام فیکٹریوں اور کارخانوں میں نافذ کرنا ہے اور عملدرآمد کروانا ہے تاہم کیٹیگری'' A'' کے نفاذ کے لیے صنعت کاروں کو 6 ماہ کی مدت کیلیے مہلت دی جائیگی،انھوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد صنعتکاروں کو ہراساں یا خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ ان تمام اقدامات سے پہلے تمام صنعت کاروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔