بھارت…کون سی جمہوریت اور کون سا امن

بھارت میں جمہوریت کو کئی مستقل صدمے لاحق ہیں جن میں سب سے بڑا صدمہ مسلمانوں کا ہے ۔

Abdulqhasan@hotmail.com

روزی روز گار کے مارے ہوئے پاکستانیوں کو شاید بھول گیا ہو کہ بھارت اور ہمارے درمیان دشمنی کا ایک اٹوٹ رشتہ جو زندہ ہے پاکستانی تو کبھی اس رشتے کو بھول بھی جاتے ہیں لیکن ہندو کبھی نہیں بھولتے اور جب بھی موقع ملتا ہے وہ اس کا اظہار ضرور کر دیتے ہیں جیسے سقوط ڈھاکہ کے وقت بھارتی ہندو وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اور اندرا نے یہ سچ کہا تھا۔ ہمارے قائد کے بقول جب سرزمین ہند پر پہلا شخص مسلمان ہوا تھا تو اس دن وہ پاکستان بن گیا تھا۔

ہندوستان کی سرزمین پر کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کی آمد کی یہی تاریخیں تھیں جب یہاں کے کسی باشندے نے کسی صوفی کی خانقاہ پر خدا کے حضور سر جھکایا تھا یا مجاہدوں کے کسی لشکر کے ساتھ یہاں داخل ہوا تھا۔ مسلمان جب کسی نہ کسی صورت میں سر زمین ہند میں داخل ہوتے تو وہ برتر صورت میں تھے۔ حکمران تھے فاتح تھے اور مقامی آبادی کے سرپرست تھے۔ تب سے لے کر برطانوی دور سے آزادی تک یہ ملک مسلمانوں کا محکوم ملک رہا۔ جیسے غلامی اس کا مقدر تھی اور حکمرانی مسلمانوں کی تقدیر رہی۔ یہی وہ سیاسی تاریخی پس منظر رہا جس کو سامنے رکھ کر ہندوستان کے علماء نے اس ملک کو ہمیشہ اپنا ملکیتی ملک سمجھا ایک ایسا ملک جو انھوں نے فتح کیا تھا اور اس پر اپنی فتح برقرار رکھی تھی۔

آج کا ہندو حکمران زبان سے اگر یہ نہیں کہتا کہ اس نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے لیکن اس کے دل و دماغ سے بدلے کا یہ تصور کبھی جاتا نہیں ہے اس لیے کہ ہندو نے ہندوستان کو صرف ایک ہندو ملک ہی مانا ہے اور یہاں صرف ہندوئوں کو آباد ہونے کا حق دیا ہے بلکہ آباد ہونے کا بھی کہاں یہاں اس سرزمین پرقدم رکھنے کا حق بھی صرف ہندو کو ہے وہ خواہ ہندوئوں کے اپنے بنائے ہوئے چار طبقوں میں سے سب سے نچلے طبقے کا دلت اور اچھوت ہو یا برہمن جو سب سے برتر سمجھا گیا ہے۔ ایک مورخ نے جب دیکھا کہ ہندو قوم چار غیر مساوی طبقوں میں تقسیم ہے تو اس نے بھارت کی جمہوریت کو غیر مساوی طبقوں کی جمہوریت کا نام دیا۔ اسے جمہوریت کی جدید اصطلاح کے مطابق جمہوریت ماننے سے انکار کر دیا۔

بھارت میں جمہوریت کو کئی مستقل صدمے لاحق ہیں جن میں سب سے بڑا صدمہ مسلمانوں کا یہاں صدیوں سے چلے آنے والے وجود کا ہے جو ہندو مت کے بالکل متضاد ہے۔ جب تک اتنی بڑی اور جاندار تعداد میں مسلمان یہاں آباد ہیں تب تک بھارت بڑی جمہوریت نہیں بن سکتا۔ مسلمان اور ہندو دو متضاد قومیں ہیں۔ ان کا رہنا سہنا ان کی بود و باش اور ان کا کلچر سب کچھ متضاد ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر ان کی جداگانہ قومیت کا سوال سامنے آتا ہے حتیٰ کہ کل تک ریلوے اور اسکولوں میں پانی بھی دو الگ الگ برتنوں میں ہوا کرتا تھا۔ ہندو پانی اور مسلم پانی کی اصطلاح عام تھی۔ یہ سلسلہ اس قدر طویل ہے کہ اس کے بیان کے لیے کئی کتابیں درکار ہیں۔


کھانا پینا لباس حتیٰ کہ سونا جاگنا بستر وغیرہ یہ سب مختلف ہیں۔ ملنا جلنا تک ایک جیسا نہیں۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ کسی سے ہاتھ ملانا چاہیں تو وہ ہاتھ کھینچ لے اور اگر بادل نخواستہ ملا بھی لے تو ہاتھ کو دھو لے تفصیلات کہاں تک بیان کریں ہر بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر تو دونوں انسان دکھائی دیتے ہیں مگر ہر بات میں مختلف ہیں۔ ایسی دو قوموں کا مل کر رہنا ممکن نہیں تھا اسی لیے ہمارے بزرگوں نے مجبور ہو کر پاکستان یعنی مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا اور اسے لے کر مسلمانوں کو ہندوئوں سے محفوظ کر لیا لیکن دونوں قوموں میں اعتماد پیدا نہ ہو سکا اور آج تک اس عدم اعتماد کی فضا کا سامنا ہے جو ہمیشہ رہے گا اور ایک مستقل خطرہ بن کر رہے گا۔

اسی خطرے کی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں جن کی وجہ سے مغائرت اور بے اعتمادی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے کئی راستے نکالے گئے جن میں بہتر راستہ کاروبار اور تجارت کا سمجھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جب کاروبار ہو گا اسلحہ کا نہیں ضروریات زندگی کا کھانے پینے کی اشیاء کا عام ضروریات زندگی کا تو انسانوں کے درمیان قربت بڑھے گی۔ تعلقات بہتر ہوں گے لیکن یہاں پھر دونوں قوموں کے کاروباری مزاج اور نفع نقصان آڑے آ گئے۔

ہمارے نئے حکمران کاروبار کو اس حد تک ترجیح دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان ویزے تک ختم کر دینے کی تجویز دی بلکہ لاہور میں تو واہگہ کی دیواریں تک ختم کر دینے کی خواہش کا اظہار بھی ہوا مگر دوسری طرف سے ایسی کسی قسم کی گرمجوشی ظاہر نہیں کی گئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوئوں کو یقین ہے کہ پاکستان اب ان کے لیے کوئی قابل ذکر ملک نہیں رہا۔ بقول ایک ہندو دانشور کے فی الحال ہمارا مقصد پاکستان کی شرارتوں سے بچ کر رہنا ہے کیونکہ آئی ایس آئی ایسے ادارے اب بھی موجود ہیں جو بھارت کے خلاف کسی کارروائی سے باز نہیں آ سکتے اور ان سے بچ کر رہنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اگر کاروبار میں امن دکھائی دیتا ہے مگر فوج اور اس کے متعلقہ اداروں کو تجارت وغیرہ میں امن دکھائی نہیں دیتا۔

ان حالات میں پاکستان کو حد سے زیادہ خبردار اور چوکنا رہنا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ بھارت نے ہمارے اندر تخریبی کارروائیاں کس حد تک پھیلا دی ہیں۔ اس وقت اگر ملک کو بچانے کے لیے کوئی ادارہ سرگرم اور ہر وقت خبردار ہے تو وہ فوج ہے اور فوج کے خلاف کوئی کارروائی پاکستان کے خلاف کارروائی ہے۔
Load Next Story