کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی غالب

غیریقینی کے باعث چھوٹے سرمایہ کارغائب، بعض شعبوں کی خریداری، انڈیکس 14پوائنٹس اضافے سے 28 ہزار 756 ہوگیا

غیریقینی کے باعث چھوٹے سرمایہ کارغائب، بعض شعبوں کی خریداری، انڈیکس 14پوائنٹس اضافے سے 28 ہزار 756 ہوگیا۔ فوٹو: آن لائن/فائل

نئے وفاقی بجٹ میں حصص کی تجارت پر کیپٹل گینز ٹیکس کی شرح کے حوالے سے غیرواضح صورتحال اورسرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں کے سائیڈ لائن پر رہنے کے سبب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی معمولی اتارچڑھائو کے بعد محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔

مارکیٹ کی غیرواضح سمت کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کار بھی سائیڈ لائن رہے البتہ بینکنگ سمیت بعض مخصوص شعبوں میں انسٹیٹیوشنز کی خریداری کے سبب محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی، تیزی کے سبب46.06 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں2 ارب53 کروڑ19 لاکھ40 ہزار495 روپے کا اضافہ ہوگیا، ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ قبل ازبجٹ تجارتی سرگرمیاں محدود ہونے سے مارکیٹ معمولی نوعیت کی اتارچڑھائو کی زد میں رہے گی اور مختصرالمدت سرمایہ کاری رحجان برقرار رہے گی۔


ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر22.48 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم محدود خریداری سرگرمیوں کے سبب دوسرے سیشن میں مندی کے اثرات زائل ہوگئے، کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر64 لاکھ72 ہزار733 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ میوچل فنڈز کی جانب سے34 لاکھ68 ہزار89 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے30 لاکھ4 ہزار644 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس14.45 پوائنٹس کے اضافے سے 28756 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس7.44 پوائنٹس کی کمی سے19688.35 اور کے ایم آئی30 انڈیکس47.30 پوائنٹس کی کمی سے45598.75 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت10.44 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ4 لاکھ 44 ہزار640 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 343 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں158 کے بھائو میں اضافہ، 162 کے داموں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story