پاکستانی تاجروں کیلیے آئندہ ماہ ویزا پالیسی نرم کردیں گے فلپائن
پاک فلپائن اقتصادی سیشن رمضان کے بعد ہوگا، دوطرفہ تجارت کم ہے، بڑھائی جائے، سفارتکار
پاک فلپائن اقتصادی سیشن رمضان کے بعد ہوگا، دوطرفہ تجارت کم ہے، بڑھائی جائے، سفارتکار فوٹو: فائل
پاکستان میں تعینات فلپائن کے سفارتکار ڈومنگو ڈی لوسیناریو جے آر نے کہا ہے کہ پاکستان اور فلپائن کا مشترکہ اقتصادی سیشن ماہ رمضان کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ اور مفید رائے کے تبادلے کا موقع ملے گا۔
یہ بات انہوں نے کراچی چیمبرآف کامرس کے دورے کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن کی حکومت ستمبر2014 میں پاکستانی تاجروں کے منیلا و دیگر شہروں کے دورے کے حوالے سے پلان ترتیب دے رہی ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان بزنس ٹو بزنس میٹنگز کا اہتمام اور تبادلہ خیال کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کراچی چیمبر کو بھی فلپائن کا دورہ کرنے والے وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہاکہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 114ملین ڈالر ہے جوانتہائی کم ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک تجارتی وفود کے تبادلے سے دوطرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن بنا سکتے ہیں تاہم تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان گزشتہ 65 برسوں سے بہترین تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان بہتر سفارتی و دوستانہ تعلقات ہیں جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ فلپائنی سفارتکار نے کہاکہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے جس کی وجہ سے یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے جبکہ فلپائن کی آبادی100ملین ہے جو پاکستانی تاجروں و صنعت کاروں کوبے پناہ کاروباری مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے آزاد ویزا پالیسی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ فلپائن اپنی ویزا پالیسی پرنظرثانی کرتے ہوئے اسے مزید متوازن بنا رہاہے اور جون2014سے پاکستانی تاجروں کو ویزے کے حوالے سے مزید نرمیاں متعارف کرائے گا۔
یہ بات انہوں نے کراچی چیمبرآف کامرس کے دورے کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن کی حکومت ستمبر2014 میں پاکستانی تاجروں کے منیلا و دیگر شہروں کے دورے کے حوالے سے پلان ترتیب دے رہی ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان بزنس ٹو بزنس میٹنگز کا اہتمام اور تبادلہ خیال کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کراچی چیمبر کو بھی فلپائن کا دورہ کرنے والے وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہاکہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 114ملین ڈالر ہے جوانتہائی کم ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک تجارتی وفود کے تبادلے سے دوطرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن بنا سکتے ہیں تاہم تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان گزشتہ 65 برسوں سے بہترین تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان بہتر سفارتی و دوستانہ تعلقات ہیں جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ فلپائنی سفارتکار نے کہاکہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے جس کی وجہ سے یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے جبکہ فلپائن کی آبادی100ملین ہے جو پاکستانی تاجروں و صنعت کاروں کوبے پناہ کاروباری مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے آزاد ویزا پالیسی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ فلپائن اپنی ویزا پالیسی پرنظرثانی کرتے ہوئے اسے مزید متوازن بنا رہاہے اور جون2014سے پاکستانی تاجروں کو ویزے کے حوالے سے مزید نرمیاں متعارف کرائے گا۔