پی سی بی میں قبضے کی قانونی جنگ کے اخراجات پر سوال اٹھنے لگے

سیٹھی اور ذکا نے پیسے خود دیے یا بورڈ اخراجات ادا کررہا ہے معلوم کیاجائے، توقیر ضیا

تمام فیسز خود ہی دیں (ذکا اشرف) وزارت بین الصوبائی امور کے ذمے ہیں، کرکٹ بورڈ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ میں قبضے کی قانونی جنگ کے اخراجات پر سوال اٹھنے لگے، سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیا کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف اپنے پیسے خرچ کر رہے یا تمام اخراجات بورڈ کے خزانے سے ادا کیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں صاحبان کے درمیان عدالتی جنگ میں وکلااور کورٹ فیس کی مد میں یقیناً ایک بڑی رقم خرچ ہو رہی ہو گی، لہٰذا دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پیسہ کرکٹ بورڈ کا تو نہیں۔ توقیرضیا نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے اس بحران سے دنیا ہمیں غیر معتبر، غیرسنجیدہ اورغیرذمہ دار سمجھنے لگی جبکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے بدنام ہے۔ انھوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ لڑائی 2 پڑھے لکھے،اپنی فیلڈ کے مستحکم اور پیسے والے اشخاص کی ہے جو اب انا کا مسئلہ بن چکی۔


توقیر ضیا نے کہا کہ میں نے نجم سیٹھی سے پہلے بھی یہی کہا تھا کہ وہ آخر کیوں اس عہدے میں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں، انھوں نے دنیا دیکھ لی پیسہ بھی ان کی ضرورت نہیں، جہاں تک شہرت کی بات ہے تو وہ ویسے ہی میڈیا کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بطوربورڈ سرپرست مسئلے کو جتنا جلد ہوسکے حل کریں۔ توقیرضیا نے کہا کہ حکومت نے چونکہ نجم سیٹھی کی تقرری کی لہٰذا وہ ان کی حمایت کر رہی ہے،پسند ناپسند اپنی جگہ لیکن حکومت کو کرکٹ بورڈ کے معاملات عدالتوں میں نمٹائے جانے کا سلسلہ ختم کرانا ہوگا، جو بھی کرنا ہے یہ پیٹرن کی صوابدید ہونی چاہیے، پیٹرن کو چاہیے کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو آئین تیار کرکے الیکشن کرائے اور جو بھی جیتے اسے 2،3 سال دیے جائیں تاکہ وہ اپنی پالیسی کے مطابق کام کرسکے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیراعظم نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو پاکستانی کرکٹ کا مذاق اڑتا رہے گا۔ دوسری جانب رابطے پر ذکا اشرف نے کہا کہ میں نے اپنے کیس میں پی سی بی کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا اور تمام اخراجات خود برداشت کر رہا ہوں، بورڈ ترجمان نے کہا کہ چونکہ وزارت بین الصوبائی امور اس کیس کی مدعی ہے لہذا اخراجات اسی کے ذمہ ہیں۔
Load Next Story