سانحہ بلدیہ ٹائون ٹریبونل کی فیکٹری کے تفصیلی معائنے کی ہدایت
چیف فائر آفیسر اور الیکٹریکل انسپکٹر سندھ کے درمیان آگ لگنے کی وجوہات پر اختلاف
فیکٹری کے معائنے کا ریکارڈ غائب ہونے کا بھی انکشاف، مذکورہ ریکارڈ پیش کرنیکی ہدایت. فوٹو فائل
بلدیہ ٹائون کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کی وجہ جاننے کیلیے تاحال کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی اور سطحی بنیادوں پر تجزیے کیے جارہے ہیں۔
یہ انکشاف جسٹس (ر) زاہد قربان علوی پر مشتمل تحقیقاتی ٹریبونل کی کارروائی کے دوران ہوا جب چیف فائر آفیسر اور الیکٹریکل انسپکٹر سندھ نے اعتراف کیا کہ ریسکیو آپریشن کے بعد انھوں نے جائے وقوع کا تفصیلی معائنہ نہیں کیا۔
جسٹس زاہد قربان علوی نے دونوں افسران کو ہدایت کی کہ وہ منگل کو(آج) ہی جائے وقوع کا معائنہ کریں اور رپورٹ بدھ کو ٹریبونل میں پیش کریں، منگل کو دونوں ماہرین میں آگ لگنے کی وجہ میں اختلاف دیکھنے میں آیا، دونوں ماہرین آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں کرسکے، چیف فائر آفیسر احتشام الدین کی رائے میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑکی۔
یہ انکشاف جسٹس (ر) زاہد قربان علوی پر مشتمل تحقیقاتی ٹریبونل کی کارروائی کے دوران ہوا جب چیف فائر آفیسر اور الیکٹریکل انسپکٹر سندھ نے اعتراف کیا کہ ریسکیو آپریشن کے بعد انھوں نے جائے وقوع کا تفصیلی معائنہ نہیں کیا۔
جسٹس زاہد قربان علوی نے دونوں افسران کو ہدایت کی کہ وہ منگل کو(آج) ہی جائے وقوع کا معائنہ کریں اور رپورٹ بدھ کو ٹریبونل میں پیش کریں، منگل کو دونوں ماہرین میں آگ لگنے کی وجہ میں اختلاف دیکھنے میں آیا، دونوں ماہرین آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں کرسکے، چیف فائر آفیسر احتشام الدین کی رائے میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑکی۔