وفاق کی امداد کے بغیر کراچی سے لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کرسکتے کے الیکٹرک
کے الیکٹرک کاسندھ ہائیکورٹ میں اعتراف،وفاقی وزیر بجلی و پانی کے بیان کی نقل پیش
سرکاری امداد اور وفاق سے بجلی لینا ہے تو ادارے کی نجکاری کا کیا فائدہ، درخواست گزار۔ فوٹو: فائل
کے الیکٹرک(کے ای ایس سی )نے نجی خود مختارادارے کی حیثیت میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی صلاحیت نہ ہونے کا اعتراف کرلیا۔
کے الیکٹرک نے جمعے کو سندھ ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلیے وفاق کی امداد کی ضرورت ہے اور وفاقی وزیر کہہ چکے ہیں کہ 2018تک لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ ممکن نہیں،اس ضمن میں وفاقی وزیربجلی و پانی کے بیان کی نقل بھی عدالت میں پیش کی گئی تاہم کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار اور دوسرے اداروں سے بجلی لینے کے متعلق بھی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کرسکا اور مزید مہلت طلب کی، درخواست گزار نے کے ای ایس سی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری اسی لیے کی گئی تھی کہ نجی کمپنی بہتر انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ بجلی کے بحران پر قابو پاسکے گی لیکن اگر اب بھی سرکاری امداد اور وفاق سے بجلی لینا ہے تو اس ادارے کی نجکاری کا کیا فائدہ۔
انھوںنے عدالت سے درخواست کی کہ کے ای ایس سی کی نجکاری کا معاہدہ طلب کیا جائے، چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی،درخواست میں وفاقی وزارت برائے نجکاری،اوگرا،نیپرا اور کے الیکٹرک کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اس لیے لوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں۔
درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا ہے کہ شہر میں 10سے 12گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ،شہری ذہنی اذیت کے باعث ذہنی امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں،ایسے حالات میں شہریوں کے باعث سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں ہے جبکہ شہر میں ایسے علاقے میں ہیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی جو کہ امتیازی سلوک ہے، سماعت کے موقع پر کے الیکٹرک کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ 2018تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں،اس حوالے سے وفاقی وزیر کے بیان کا اخباری تراشہ بھی منسلک کیا ہے۔
رانا فیص الحسن نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اور اسطرح شارٹ فال صرف 437میگاواٹ کا ہے لہٰذالوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں،کے الیکٹرک سے پیداواری صلاحیت کی تفصیلات اور کے ای ایس سی کی نجکاری سے متعلق کمیشن کی رپورٹ منگوائی جائے،عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کے الیکٹرک نے جمعے کو سندھ ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلیے وفاق کی امداد کی ضرورت ہے اور وفاقی وزیر کہہ چکے ہیں کہ 2018تک لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ ممکن نہیں،اس ضمن میں وفاقی وزیربجلی و پانی کے بیان کی نقل بھی عدالت میں پیش کی گئی تاہم کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار اور دوسرے اداروں سے بجلی لینے کے متعلق بھی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کرسکا اور مزید مہلت طلب کی، درخواست گزار نے کے ای ایس سی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری اسی لیے کی گئی تھی کہ نجی کمپنی بہتر انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ بجلی کے بحران پر قابو پاسکے گی لیکن اگر اب بھی سرکاری امداد اور وفاق سے بجلی لینا ہے تو اس ادارے کی نجکاری کا کیا فائدہ۔
انھوںنے عدالت سے درخواست کی کہ کے ای ایس سی کی نجکاری کا معاہدہ طلب کیا جائے، چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی،درخواست میں وفاقی وزارت برائے نجکاری،اوگرا،نیپرا اور کے الیکٹرک کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اس لیے لوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں۔
درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا ہے کہ شہر میں 10سے 12گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ،شہری ذہنی اذیت کے باعث ذہنی امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں،ایسے حالات میں شہریوں کے باعث سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں ہے جبکہ شہر میں ایسے علاقے میں ہیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی جو کہ امتیازی سلوک ہے، سماعت کے موقع پر کے الیکٹرک کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ 2018تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں،اس حوالے سے وفاقی وزیر کے بیان کا اخباری تراشہ بھی منسلک کیا ہے۔
رانا فیص الحسن نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اور اسطرح شارٹ فال صرف 437میگاواٹ کا ہے لہٰذالوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں،کے الیکٹرک سے پیداواری صلاحیت کی تفصیلات اور کے ای ایس سی کی نجکاری سے متعلق کمیشن کی رپورٹ منگوائی جائے،عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔