پی او اے کا تنازع۔۔۔ برف کب پگھلے گی

اس صورتحال میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کا نقصان اپنی جگہ، سب سے بڑا مسئلہ قومی ٹیموں کی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت پر۔۔۔

اس صورتحال میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کا نقصان اپنی جگہ، سب سے بڑا مسئلہ قومی ٹیموں کی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت پر سوالیہ نشان ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کھیلوں میں سیاست کا چلن کوئی نئی بات نہیں،دنیا بھر میں سپورٹس فیڈریشنز خود مختار اور آزادانہ حیثیت میں کام کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں جس کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کھیلوں کی تنظیمیں بھی ان کی دسترس میں رہیں۔

پاکستان میں مختلف سپورٹس فیڈریشنز ملکی ایونٹس کا انعقاد کرکے ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لیے کام کرتی ہیں، منتخب پلیئرز پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے بینر تلے عالمی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ملک میں متوازی دھڑے قائم ہوجانے کی وجہ سے کچھ سپورٹس تنظیمیں ایک کوجائز مانتی ہیں جبکہ چند دوسرے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرچکیں، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پی او اے کو تسلیم کرتی ہے تو دوسری طرف حکومت کے خیال میں قومی سپورٹس پالیسی کے تحت کوئی بھی عہدیدار دو بار سے زیادہ مدت کے لیے منتخب نہیں ہوسکتا، اس لئے اکرم ساہی کی سربراہی میں قائم پی او اے ہی ملک کی نمائندہ تنظیم ہے۔

اس صورتحال میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کا نقصان اپنی جگہ، سب سے بڑا مسئلہ قومی ٹیموں کی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت پر سوالیہ نشان ہے۔ عارف حسن کی سرپرستی میں مقابلوں میں شرکت کے خواہشمند کھلاڑیوں کوحکومت کی طرف سے این او سی جاری نہیں ہوتے جبکہ اکرم ساہی کی زیر قیادت تنظیم کے ذریعے شرکت کرنے والوں کو آئی او سی سے اجازت نہیں ملتی۔

متوازی دھڑوں کا تنازع حل کرنے کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ امور کو 21 مئی کو طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے اپنا موقف واضح کرنے کے لیے آخری مہلت ہے، دوسری صورت میں پابندی عائد کردی جائے گی۔ جواب میں حکومت سوئٹرزلینڈ کے ویزوں کے حصول میں مشکلات اور اجلاس کی تیاری کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق آئی او سی نے پاکستان کو مزید 19 دن کی مہلت فراہم کرتے ہوئے اس حوالے سے اجلاس 9 جون کو کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔


معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کو آئی او سی میٹنگ میں شرکت کرکے اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا ہے کہ آئی پی سی کے سیکرٹری آئندہ ماہ آئی او سی کے اجلاس میں واضح کریں گے کہ عارف حسن کا بطورصدر انتخاب سپورٹس پالیسی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا اب آئی او سی پاکستانی قوانین کا احترام کرتے ہوئے سپورٹس پالیسی کے مطابق اکرم ساہی کی سربراہی میں قائم پی او اے کو قبول کرے، تاہم آئی او سی نے پاکستانی موقف کو قبول نہ کرتے ہوئے عارف حسن کی حمایت جاری رکھی تو اس فیصلے کا احترام کریں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ملکی کھیلوں کو نقصان پہنچے، دوسری طرف صدر اکرم ساہی کا مختلف موقف سامنے آیا، ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی او سی نے عارف حسن کے حق میں فیصلہ دے بھی دیا تووہ اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے کیونکہ آئی او سی پہلے بھی یہ کہہ چکی کہ متوازی پی او اے کا تنازع پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اسے پاکستانی حکومت کو خود حل کرناچاہئے، ہماری پی او اے سے منسلک تمام فیڈریشنز سپورٹس پالیسی پر عمل درآمد کررہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی او سی انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان کی ملکی پرچم تلے شرکت پر پابندی لگانے کا فیصلہ تقریباً کرچکی ہے جس پر جولائی میں شیڈول ایگزیکٹو باڈی میٹنگ میں مہر ثبت کردی جائے گی،عالمی باڈی چاہتی ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی سپورٹس تنظیموں اور پی او اے کے معاملات میں حکومتی مداخلت محدود ہو۔

افسوس کی بات ہے کہ ایک عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پاکستان اس داخلی مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے، معاملہ کھیلوں اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کا ہے تو ارباب اختیار میں سے کوئی برف پگھلانے کی کوشش کیوں نہیں کرتا، انٹرنیشنل سطح پر برائے نام نمائندگی کے مواقع بھی گنوائے جاتے رہے تو ہم مزید کئی سال پیچھے چلے جائیں گے۔

abbas.raza@express.com.pk
Load Next Story