انا کی جنگ میں کرکٹ کا خون
پی سی بی کے اصل مسائل نظرانداز ہوگئے
پی سی بی کے اصل مسائل نظرانداز ہوگئے۔ فوٹو: فائل
''کرکٹ ایک نشہ ہے جس کی اسے ایک بار لت لگ جائے تو مر کر ہی پیچھا چھوٹتا ہے، مجھے دیکھو کتنی عمر ہو چکی اس کے باوجود اب بھی نوجوانوں کو کھیلتا دیکھ کر دل مچلنے لگتا ہے مگر کمزور ہاتھ پاؤں دیکھ کر آہیں بھرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں''۔
یہ جملے کرکٹ بورڈ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے میرے اس سوال پر ادا کیے کہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی کیوں پی سی بی سے الگ ہونے پر آمادہ نہیں ہیں، میں نے ان سے پھر پوچھا کہ میں جو جاننا چاہتا ہوں آپ کا جواب تو اس سے بالکل الگ ہے، انھوں نے پھر کہا کہ'' تم صحافیوں میں صبر بالکل نہیں ہے، پہلے میری بات تو پوری ہونے دو، میں نے ابھی کرکٹرز کے بارے میں بتایا اب منتظمین کی جانب آ جاؤ، تم فلاں صاحب کو جانتے ہو، میں نے کہا نہیں، پھر ایک اور نام لے کر بولے یہ تو ٹی وی پر پروگرام بھی کرتے ہیں ان کے بارے میں تو سنا ہو گا، میں نے کہا کہ جی سنا تو ہے مگر اتنا خاص نہیں، اس کے بعد انھوں نے چند کاروباری شخصیات کے نام لے کر کہا کہ یہ سب ارب پتی ہیں مگر عوام میں انھیں کتنی مقبولیت حاصل ہے؟
البتہ اب اگر میں ڈاکٹر نسیم اشرف، اعجاز بٹ،شہریار خان کے نام لوں تو سب ان سے واقف ہوں گے،اگر ان کی شناخت محض ایک ڈاکٹر،اوسط درجے کے سابق کرکٹر اور سفارتکار کی ہوتی تو مخصوص طبقے میں ہی پہچان ملتی''مگر، میں نے کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے ٹوک دیا کہ ابھی رک جاؤ ورنہ چائے ختم کرتے ہی واپس چلے جانا، اگر تم فلاں کے ریفرنس سے نہ آئے ہوتے تو میں ملتا بھی نہیں کیونکہ اب میں نے صحافیوں سے ملاقات کرنا چھوڑ دیا ہے،یا سچی بات تو یہ ہے کہ میڈیا ہی مجھے اب لفٹ نہیں کراتا، پہلے میری زبان سے ادا شدہ چند جملے ہی اخبارات کی شہ سرخیاں بن جاتے، میں قذافی اسٹیڈیم کی سیڑھیاں اترتا تو نیچے اخبار نویس انتظار کر رہے ہوتے، اب تو کافی عرصے بعد کسی نے مجھے یاد کیا۔
ایک بارایک نیوز ایجنسی والے نے فون پر بات کی تو اگلے روز اخبارات میں دیکھتا رہا کہیں خبر نظر نہ آئی، میرے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں مگر جتنی رقم چاہوں خرچ کرنے کے بعد بھی مجھے اتنی میڈیا کوریج نہیں مل سکتی جتنی پی سی بی کے دنوں میں مفت میں مل جایا کرتی تھی،آئی سی سی میٹنگزکے کیا کہنے، یہ جملہ ادا کرتے ہی انھوں نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں، شان سے میٹنگ میں شریک ہونا ساری دنیا کے میڈیا کی نگاہوں کا مرکز بننا، پھر وطن آتے ہی ایئرپورٹ پر میڈیا کو منتظر پانا، ارے تم کیا جانو کتنا اچھا لگتا تھا، یہ جو فلاں سپراسٹار ہے ناں یہ تو میرے گھر ہر ہفتے آ کر کھانا کھاتا اور میرے پوتے کی سالگرہ میں تو پوری ٹیم آئی تھی، اسکول میں اس کی خوب واہ واہ ہوگئی۔
میرے بیٹے بیٹیوں کا بھی اپنا حلقہ احباب میں رعب پڑ گیا تھا، اب تو وہ ۔۔۔ میرا فون بھی نہیں اٹھاتا حالانکہ اسے میں نے ہی کپتان بنوایا تھا، میں نے مفت کے کتنے ٹورز بھی کیے، ہاں ہاں میں جانتا ہوں کہ تم یہ کہو گے کہ آپ کو تو پیسے کی کوئی کمی نہیں پھر ایسی بات کیوں کر رہے ہیں، میاں مفت کی چیزوں کا الگ ہی مزا ہے، ہوٹل، کار، ہوائی ٹکٹ کے ساتھ روز کا خرچ ، وہ بچوں کی طرح خوش ہونے لگے۔ مگر آپ کا عہدہ تو اعزازی ہوتا ہے، یہ سوال سن کر انھوں نے زوردار قہقہہ لگایا، اعزازی ارے ایسا عہدہ اگر اعزازی بھی ہو تو کون بے وقوف منع کرے گا، تم نے کتنا پڑھا ہوا ہے، انھوں نے مجھ سے سوال کیا۔
میرا جواب تھا انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کا، وہ پھر کہنے لگے تم نے اتنا پڑھ لیا اور بھی بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے، مگر بہت کم کی اتنی تنخواہ ہو گی جتنے ہمارے الاؤنسز اور دیگر فوائد تھے، پھر ٹیم جس ملک کے دورے پر جاتی ہمارا جانا بھی ضروری ہوتا، اگر تم صحافی نہ ہوتے تو اور بھی کئی راز کی باتیں بتاتا مگر تم اپنی بریکنگ نیوز کے چکر میں پڑ کر مجھے بدنام کر دو گے، اس لیے خاموش رہو، مگر جیسے فلاں چیئرمین نے اپنے ادارے کو کنٹریکٹ دلایا ایسے کئی کام ہم بھی کرتے تھے۔ مجھے یقین ہے اب تمہیں بورڈ پر قبضے کی جنگ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا، خبردار جو کہیں میرا نام لیا، میں تو تم سے ملاقات ہونے سے ہی مکر جاؤں گا، یہ کہتے ہی انھوں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
قارئین مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے تھے کہ بورڈ میں آخر ایسا کیا ہے جس کے پیچھے بڑے بڑے لوگ بھاگتے ہیں، شائد اب انھیں اس کا جواب مل جائے، پی سی بی تو اب فٹبال بن چکا ، کبھی ایک تو کبھی دوسرے کو پاس ملتا ہے لیکن اس سے نہ صرف ملکی کرکٹ بلکہ ملک کو بھی سخت نقصان ہو رہا ہے، غیرملکی میڈیا بھی ہمارا خوب مذاق اڑا رہا ہے، جب تک سیاسی مداخلت جاری رہی ایسا ہوتا رہے گا، ہمارے یہاں حکومت تبدیل تو پی سی بی کا سربراہ بدلنا بھی ضروری ہے، ایک پارٹی ذکا اشرف کو لائی، نئی حکومت آئی تو انھیں عہدے پر ٹکنے نہیں دیا گیا، اب تک یہ میوزیکل چیئر گیم جاری ہے، ذکا اشرف نہ ہی نجم سیٹھی پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں۔
دراصل یہ سارا کھیل انا کا ہے،اسی لیے عدالتی جنگ پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے، کرکٹ کا کوئی نہیں سوچ رہا، اب تو ٹیم کو بھی اچھا بہانہ مل گیا، ورلڈکپ میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو مصباح الحق نے اپنی تقریر ابھی ہی سوچ لی ہو گی کہ بورڈ میں غیر یقینی کے سبب ہمیں کھیل پر توجہ دینے کا موقع نہ ملا، نجم سیٹھی معروف ٹی وی اینکر ہیں، ان پر اب اتنے الزامات لگ رہے ہیں، ٹی وی رائٹس کے معاملے پر بھی بڑا شور مچا، ایسے میں انھیں خود چاہیے تھا کہ پی سی بی سے ہٹ کر خود کو کلیئر کراتے، مگر انھوں نے ایسا نہ کیا، اسی طرح ذکا اشرف کو بھی عدالت سے بحال ہونے کے بعد اچھا موقع ملا کہ مستعفی ہو کر باوقار انداز سے گھر جاتے،وہ بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت انھیں کام نہیں کرنے دے گی۔
حریف سیاسی جماعت سے تعلق ہونے کے ساتھ ماضی کے چند واقعات بھی ان کی راہ میں حائل ہیں، قذافی اسٹیڈیم کی دیوار ٹوٹنے کے بعد کیا ہوا تھا سب کو یاد ہو گا، اس وقت تو چیئرمین نے سری لنکن ٹیم پر حملے کا ذمہ دار بھی پنجاب حکومت کو قرار دے دیا تھا، ایسی باتیں کون بھولتا ہے، اب دونوں ہی ڈٹے ہوئے ہیں، مسئلے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ کسی تیسرے کو چیئرمین بورڈ بنا کر معاہدے پر دستخط کرائے جائیں کہ فلاں تاریخ تک بورڈ کے انتخابات کرا کے عہدہ چھوڑ دوں گا اور خود کو اس پوزیشن کا امیدوار نہیں بناؤں گا، سب سے اچھا یہ ہوتا کہ شہریار خان جیسے کسی شخص کو ذمہ داری سونپ دی جاتی مگر ایسا نہ کیا گیا جس کی وجہ سے کسی جائیداد کے جھگڑے کی طرح یہ کیس بھی عدالت میں پہنچ گیا ہے، اس میں سیاسی چالیں بھی چلی جا رہی ہیں۔
ذکا اشرف نے گذشتہ بحالی کے وقت اتنی تقرریاں کر دیں کہ وہ لوگ بھی نکالے جانے پر اب بورڈ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اس بار انھوں نے عارف عباسی کو ساتھ ملا کر نجم سیٹھی کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیے، یہ بھی حیران کن بات ہے کہ عارف عباسی کو بخوبی علم تھا کہ ذکا اشرف دوبارہ برطرف ہو سکتے ہیں پھر بھی نجانے کیوں وہ ڈوبتی کشتی میں سوار ہوئے، اسی طرح عدالت میں سماعت سے قبل اچانک بعض صحافیوں کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں ذکا اشرف کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات لکھی گئی تھیں، حیران کن طور پر اس پر سب سے اوپر لفظ ''کانفیڈینشل'' (خفیہ) درج تھا، کوئی بچہ بھی جان سکتا ہے کہ ایسی رپورٹ خود بورڈ کے سوا کوئی افشا نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد بھارت سے سیریز کا شوشہ چھوڑا گیا، اس پر بھارتی بورڈ کی پراسرار خاموشی بھی معنیٰ خیز رہی،اس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے ''کارناموں'' میں اضافے کے لیے ایک سیاسی چال تھی، اتنا جوڑ توڑ تو شائد وزیر بننے کے لیے بھی نہ ہوتا ہو، پاکستان میں اولمپک ایسوسی ایشن کا بھی بیڑا غرق ہو چکا، دو گروپس دست گریباں ہیں، اس وجہ سے عالمی مقابلوں میں ٹیموں کی شرکت پر سوالیہ نشان عائد اور ملک پر پابندی کا بھی خطرہ ہے،یہ مسئلہ بھی کافی عرصے سے چل رہا مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، اب تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں کرکٹ میں بھی پی سی بی ذکا گروپ اور پی سی بی سیٹھی گروپ نہ بن جائیں، سب ملک سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہاں بدنامی کی کسی کوفکر نہیں۔
بورڈ ملازمین بیچارے مصیبت میں ہیں،ایک کو سلام کریں تو دوسرا بحال ہونے کے بعد سابقہ چیف سے قربت کا الزام لگا کر زیرعتاب لے آتا ہے، خاص طور پر چیف ایگزیکٹیو سبحان احمد بیچارے سخت مشکل میں ہیں، بعض دوست انھیں یہ کہہ کر بھی طنز کا نشانہ بناتے ہیں کہ کل ذکا اشرف کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا آج نجم سیٹھی کے قریب ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج میں ایک ادارے کے ساتھ وابستہ ہوں، میرے باس جو صاحب ہوں گے میں یقیناً ان کی عزت کرؤں گا، جانے کے بعد جب دوسرا آئے گا تو ان سے بھی اسی احترام سے پیش آؤں گا، ہماری وابستگی ادارے سے ہوتی ہے شخصیات کے ساتھ نہیں۔
گذشتہ کئی برسوں میں ملکی کرکٹ کا جو تیا پانچہ کیا گیا اگر سبحان نہ ہوتے تو آج حال مزید خراب ہوتا، وہ کھیل کو سمجھنے والے انسان ہیں اور آئی سی سی میٹنگز وغیرہ میں پی سی بی کا موقف درست انداز میں پیش کر کے چیئرمینز کی لاعلمی کے ممکنہ نقصانات سے بچا لیتے ہیں، صدر اور وزیر اعظم بھی تبدیل ہوتے ہیں مگر اسٹاف تو پرانا ہی رہتا ہے، اس لیے جو بھی سربراہ ہو اسے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ملازمین کا کام ادارے کے وقار کا تحفظ ہے، وہ انفرادی شخصیات کے بجائے ادارے سے ہی وفادار رہے گا۔
ان دنوں سری لنکا سے ہی سیریز کی بھی باتیں ہو رہی ہیں، جب میں نے اپنے ایک دوست کو یہ خبر سنائی تو وہ کہنے لگا کہ '' اگر ایسا ہوا تو میں اپنی مونچھیں منڈوا لوں گا'' میں نے کہا کہ تمہاری تو مونچھیں ہی نہیں ہیں تو وہ کہنے لگا ''ٹیم کو آنے تو دو میں رکھ کر منڈوا لوں گا''۔ یہ ان دنوں پایا جانے والا ایک عام تاثر ہے، ملکی حالات میں بہتری تو لگتی ہے مگر ابھی اعتماد کی وہ فضا قائم نہیں ہوئی جو کسی غیرملکی ٹیم کو یہاں بلا سکے، صدر راجا پکسے کا دورئہ پاکستان کے بارے میں مثبت بیان جس سری لنکن اخبار میں شائع ہوا، اس کے نیچے تبصرے بھی درج تھے کہ صدر پہلے اپنے بچوں کو وہاں بھیجیں پھر ٹیم کو بھیجئے گا۔
اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ لاہور میں حملے کو سری لنکنز فراموش نہیں کر پائے، بنگلہ دیش تک تو دو بار دورے کے وعدے کر کے مکر چکا ایسے میں سری لنکا کہاں آئے گا، جس طرح سیاستدان الیکشن سے قبل بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اب پی سی بی میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، ملکی کرکٹ کے میدان یقینا ان دنوں ویران ہیں مگر اس ایشو سے بڑا مسئلہ بورڈ کا بحران ہے، ابھی تو غیر یقینی کی فضا ہے،رات تک ایک صاحب چیئرمین ہوتے ہیں اگلی صبح ان کے نام پر سابق کا لفظ لگ چکا ہوتا ہے، ایسے میں پہلے خود لڑ کر یہ تو فیصلہ کرلیں کہ کون پکا سربراہ ہے پھر یہاں کرکٹ ٹیموں کو بھی لڑوا لیجیے گا۔
skhaliq@express.com.pk
یہ جملے کرکٹ بورڈ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے میرے اس سوال پر ادا کیے کہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی کیوں پی سی بی سے الگ ہونے پر آمادہ نہیں ہیں، میں نے ان سے پھر پوچھا کہ میں جو جاننا چاہتا ہوں آپ کا جواب تو اس سے بالکل الگ ہے، انھوں نے پھر کہا کہ'' تم صحافیوں میں صبر بالکل نہیں ہے، پہلے میری بات تو پوری ہونے دو، میں نے ابھی کرکٹرز کے بارے میں بتایا اب منتظمین کی جانب آ جاؤ، تم فلاں صاحب کو جانتے ہو، میں نے کہا نہیں، پھر ایک اور نام لے کر بولے یہ تو ٹی وی پر پروگرام بھی کرتے ہیں ان کے بارے میں تو سنا ہو گا، میں نے کہا کہ جی سنا تو ہے مگر اتنا خاص نہیں، اس کے بعد انھوں نے چند کاروباری شخصیات کے نام لے کر کہا کہ یہ سب ارب پتی ہیں مگر عوام میں انھیں کتنی مقبولیت حاصل ہے؟
البتہ اب اگر میں ڈاکٹر نسیم اشرف، اعجاز بٹ،شہریار خان کے نام لوں تو سب ان سے واقف ہوں گے،اگر ان کی شناخت محض ایک ڈاکٹر،اوسط درجے کے سابق کرکٹر اور سفارتکار کی ہوتی تو مخصوص طبقے میں ہی پہچان ملتی''مگر، میں نے کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے ٹوک دیا کہ ابھی رک جاؤ ورنہ چائے ختم کرتے ہی واپس چلے جانا، اگر تم فلاں کے ریفرنس سے نہ آئے ہوتے تو میں ملتا بھی نہیں کیونکہ اب میں نے صحافیوں سے ملاقات کرنا چھوڑ دیا ہے،یا سچی بات تو یہ ہے کہ میڈیا ہی مجھے اب لفٹ نہیں کراتا، پہلے میری زبان سے ادا شدہ چند جملے ہی اخبارات کی شہ سرخیاں بن جاتے، میں قذافی اسٹیڈیم کی سیڑھیاں اترتا تو نیچے اخبار نویس انتظار کر رہے ہوتے، اب تو کافی عرصے بعد کسی نے مجھے یاد کیا۔
ایک بارایک نیوز ایجنسی والے نے فون پر بات کی تو اگلے روز اخبارات میں دیکھتا رہا کہیں خبر نظر نہ آئی، میرے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں مگر جتنی رقم چاہوں خرچ کرنے کے بعد بھی مجھے اتنی میڈیا کوریج نہیں مل سکتی جتنی پی سی بی کے دنوں میں مفت میں مل جایا کرتی تھی،آئی سی سی میٹنگزکے کیا کہنے، یہ جملہ ادا کرتے ہی انھوں نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں، شان سے میٹنگ میں شریک ہونا ساری دنیا کے میڈیا کی نگاہوں کا مرکز بننا، پھر وطن آتے ہی ایئرپورٹ پر میڈیا کو منتظر پانا، ارے تم کیا جانو کتنا اچھا لگتا تھا، یہ جو فلاں سپراسٹار ہے ناں یہ تو میرے گھر ہر ہفتے آ کر کھانا کھاتا اور میرے پوتے کی سالگرہ میں تو پوری ٹیم آئی تھی، اسکول میں اس کی خوب واہ واہ ہوگئی۔
میرے بیٹے بیٹیوں کا بھی اپنا حلقہ احباب میں رعب پڑ گیا تھا، اب تو وہ ۔۔۔ میرا فون بھی نہیں اٹھاتا حالانکہ اسے میں نے ہی کپتان بنوایا تھا، میں نے مفت کے کتنے ٹورز بھی کیے، ہاں ہاں میں جانتا ہوں کہ تم یہ کہو گے کہ آپ کو تو پیسے کی کوئی کمی نہیں پھر ایسی بات کیوں کر رہے ہیں، میاں مفت کی چیزوں کا الگ ہی مزا ہے، ہوٹل، کار، ہوائی ٹکٹ کے ساتھ روز کا خرچ ، وہ بچوں کی طرح خوش ہونے لگے۔ مگر آپ کا عہدہ تو اعزازی ہوتا ہے، یہ سوال سن کر انھوں نے زوردار قہقہہ لگایا، اعزازی ارے ایسا عہدہ اگر اعزازی بھی ہو تو کون بے وقوف منع کرے گا، تم نے کتنا پڑھا ہوا ہے، انھوں نے مجھ سے سوال کیا۔
میرا جواب تھا انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کا، وہ پھر کہنے لگے تم نے اتنا پڑھ لیا اور بھی بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے، مگر بہت کم کی اتنی تنخواہ ہو گی جتنے ہمارے الاؤنسز اور دیگر فوائد تھے، پھر ٹیم جس ملک کے دورے پر جاتی ہمارا جانا بھی ضروری ہوتا، اگر تم صحافی نہ ہوتے تو اور بھی کئی راز کی باتیں بتاتا مگر تم اپنی بریکنگ نیوز کے چکر میں پڑ کر مجھے بدنام کر دو گے، اس لیے خاموش رہو، مگر جیسے فلاں چیئرمین نے اپنے ادارے کو کنٹریکٹ دلایا ایسے کئی کام ہم بھی کرتے تھے۔ مجھے یقین ہے اب تمہیں بورڈ پر قبضے کی جنگ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا، خبردار جو کہیں میرا نام لیا، میں تو تم سے ملاقات ہونے سے ہی مکر جاؤں گا، یہ کہتے ہی انھوں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
قارئین مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے تھے کہ بورڈ میں آخر ایسا کیا ہے جس کے پیچھے بڑے بڑے لوگ بھاگتے ہیں، شائد اب انھیں اس کا جواب مل جائے، پی سی بی تو اب فٹبال بن چکا ، کبھی ایک تو کبھی دوسرے کو پاس ملتا ہے لیکن اس سے نہ صرف ملکی کرکٹ بلکہ ملک کو بھی سخت نقصان ہو رہا ہے، غیرملکی میڈیا بھی ہمارا خوب مذاق اڑا رہا ہے، جب تک سیاسی مداخلت جاری رہی ایسا ہوتا رہے گا، ہمارے یہاں حکومت تبدیل تو پی سی بی کا سربراہ بدلنا بھی ضروری ہے، ایک پارٹی ذکا اشرف کو لائی، نئی حکومت آئی تو انھیں عہدے پر ٹکنے نہیں دیا گیا، اب تک یہ میوزیکل چیئر گیم جاری ہے، ذکا اشرف نہ ہی نجم سیٹھی پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں۔
دراصل یہ سارا کھیل انا کا ہے،اسی لیے عدالتی جنگ پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے، کرکٹ کا کوئی نہیں سوچ رہا، اب تو ٹیم کو بھی اچھا بہانہ مل گیا، ورلڈکپ میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو مصباح الحق نے اپنی تقریر ابھی ہی سوچ لی ہو گی کہ بورڈ میں غیر یقینی کے سبب ہمیں کھیل پر توجہ دینے کا موقع نہ ملا، نجم سیٹھی معروف ٹی وی اینکر ہیں، ان پر اب اتنے الزامات لگ رہے ہیں، ٹی وی رائٹس کے معاملے پر بھی بڑا شور مچا، ایسے میں انھیں خود چاہیے تھا کہ پی سی بی سے ہٹ کر خود کو کلیئر کراتے، مگر انھوں نے ایسا نہ کیا، اسی طرح ذکا اشرف کو بھی عدالت سے بحال ہونے کے بعد اچھا موقع ملا کہ مستعفی ہو کر باوقار انداز سے گھر جاتے،وہ بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت انھیں کام نہیں کرنے دے گی۔
حریف سیاسی جماعت سے تعلق ہونے کے ساتھ ماضی کے چند واقعات بھی ان کی راہ میں حائل ہیں، قذافی اسٹیڈیم کی دیوار ٹوٹنے کے بعد کیا ہوا تھا سب کو یاد ہو گا، اس وقت تو چیئرمین نے سری لنکن ٹیم پر حملے کا ذمہ دار بھی پنجاب حکومت کو قرار دے دیا تھا، ایسی باتیں کون بھولتا ہے، اب دونوں ہی ڈٹے ہوئے ہیں، مسئلے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ کسی تیسرے کو چیئرمین بورڈ بنا کر معاہدے پر دستخط کرائے جائیں کہ فلاں تاریخ تک بورڈ کے انتخابات کرا کے عہدہ چھوڑ دوں گا اور خود کو اس پوزیشن کا امیدوار نہیں بناؤں گا، سب سے اچھا یہ ہوتا کہ شہریار خان جیسے کسی شخص کو ذمہ داری سونپ دی جاتی مگر ایسا نہ کیا گیا جس کی وجہ سے کسی جائیداد کے جھگڑے کی طرح یہ کیس بھی عدالت میں پہنچ گیا ہے، اس میں سیاسی چالیں بھی چلی جا رہی ہیں۔
ذکا اشرف نے گذشتہ بحالی کے وقت اتنی تقرریاں کر دیں کہ وہ لوگ بھی نکالے جانے پر اب بورڈ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اس بار انھوں نے عارف عباسی کو ساتھ ملا کر نجم سیٹھی کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیے، یہ بھی حیران کن بات ہے کہ عارف عباسی کو بخوبی علم تھا کہ ذکا اشرف دوبارہ برطرف ہو سکتے ہیں پھر بھی نجانے کیوں وہ ڈوبتی کشتی میں سوار ہوئے، اسی طرح عدالت میں سماعت سے قبل اچانک بعض صحافیوں کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں ذکا اشرف کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات لکھی گئی تھیں، حیران کن طور پر اس پر سب سے اوپر لفظ ''کانفیڈینشل'' (خفیہ) درج تھا، کوئی بچہ بھی جان سکتا ہے کہ ایسی رپورٹ خود بورڈ کے سوا کوئی افشا نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد بھارت سے سیریز کا شوشہ چھوڑا گیا، اس پر بھارتی بورڈ کی پراسرار خاموشی بھی معنیٰ خیز رہی،اس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے ''کارناموں'' میں اضافے کے لیے ایک سیاسی چال تھی، اتنا جوڑ توڑ تو شائد وزیر بننے کے لیے بھی نہ ہوتا ہو، پاکستان میں اولمپک ایسوسی ایشن کا بھی بیڑا غرق ہو چکا، دو گروپس دست گریباں ہیں، اس وجہ سے عالمی مقابلوں میں ٹیموں کی شرکت پر سوالیہ نشان عائد اور ملک پر پابندی کا بھی خطرہ ہے،یہ مسئلہ بھی کافی عرصے سے چل رہا مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، اب تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں کرکٹ میں بھی پی سی بی ذکا گروپ اور پی سی بی سیٹھی گروپ نہ بن جائیں، سب ملک سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہاں بدنامی کی کسی کوفکر نہیں۔
بورڈ ملازمین بیچارے مصیبت میں ہیں،ایک کو سلام کریں تو دوسرا بحال ہونے کے بعد سابقہ چیف سے قربت کا الزام لگا کر زیرعتاب لے آتا ہے، خاص طور پر چیف ایگزیکٹیو سبحان احمد بیچارے سخت مشکل میں ہیں، بعض دوست انھیں یہ کہہ کر بھی طنز کا نشانہ بناتے ہیں کہ کل ذکا اشرف کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا آج نجم سیٹھی کے قریب ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج میں ایک ادارے کے ساتھ وابستہ ہوں، میرے باس جو صاحب ہوں گے میں یقیناً ان کی عزت کرؤں گا، جانے کے بعد جب دوسرا آئے گا تو ان سے بھی اسی احترام سے پیش آؤں گا، ہماری وابستگی ادارے سے ہوتی ہے شخصیات کے ساتھ نہیں۔
گذشتہ کئی برسوں میں ملکی کرکٹ کا جو تیا پانچہ کیا گیا اگر سبحان نہ ہوتے تو آج حال مزید خراب ہوتا، وہ کھیل کو سمجھنے والے انسان ہیں اور آئی سی سی میٹنگز وغیرہ میں پی سی بی کا موقف درست انداز میں پیش کر کے چیئرمینز کی لاعلمی کے ممکنہ نقصانات سے بچا لیتے ہیں، صدر اور وزیر اعظم بھی تبدیل ہوتے ہیں مگر اسٹاف تو پرانا ہی رہتا ہے، اس لیے جو بھی سربراہ ہو اسے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ملازمین کا کام ادارے کے وقار کا تحفظ ہے، وہ انفرادی شخصیات کے بجائے ادارے سے ہی وفادار رہے گا۔
ان دنوں سری لنکا سے ہی سیریز کی بھی باتیں ہو رہی ہیں، جب میں نے اپنے ایک دوست کو یہ خبر سنائی تو وہ کہنے لگا کہ '' اگر ایسا ہوا تو میں اپنی مونچھیں منڈوا لوں گا'' میں نے کہا کہ تمہاری تو مونچھیں ہی نہیں ہیں تو وہ کہنے لگا ''ٹیم کو آنے تو دو میں رکھ کر منڈوا لوں گا''۔ یہ ان دنوں پایا جانے والا ایک عام تاثر ہے، ملکی حالات میں بہتری تو لگتی ہے مگر ابھی اعتماد کی وہ فضا قائم نہیں ہوئی جو کسی غیرملکی ٹیم کو یہاں بلا سکے، صدر راجا پکسے کا دورئہ پاکستان کے بارے میں مثبت بیان جس سری لنکن اخبار میں شائع ہوا، اس کے نیچے تبصرے بھی درج تھے کہ صدر پہلے اپنے بچوں کو وہاں بھیجیں پھر ٹیم کو بھیجئے گا۔
اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ لاہور میں حملے کو سری لنکنز فراموش نہیں کر پائے، بنگلہ دیش تک تو دو بار دورے کے وعدے کر کے مکر چکا ایسے میں سری لنکا کہاں آئے گا، جس طرح سیاستدان الیکشن سے قبل بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اب پی سی بی میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، ملکی کرکٹ کے میدان یقینا ان دنوں ویران ہیں مگر اس ایشو سے بڑا مسئلہ بورڈ کا بحران ہے، ابھی تو غیر یقینی کی فضا ہے،رات تک ایک صاحب چیئرمین ہوتے ہیں اگلی صبح ان کے نام پر سابق کا لفظ لگ چکا ہوتا ہے، ایسے میں پہلے خود لڑ کر یہ تو فیصلہ کرلیں کہ کون پکا سربراہ ہے پھر یہاں کرکٹ ٹیموں کو بھی لڑوا لیجیے گا۔
skhaliq@express.com.pk