سوا پانچ کھرب روپے کے میگا پروجیکٹس
ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور موجودہ حکومت کے شروع کردہ منصوبوں سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
سوا پانچ سو ارب روپے کے مجوزہ منصوبوں میں تمام صوبوں کا خیال رکھا گیا ہے فوٹو: ایکسپریس/فائل
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے آئندہ مالی سال یعنی 2014-15ء کے لیے 525 ارب روپے مالیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں (میگا پروجیکٹس) کی منظوری دیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ یہ تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور موجودہ حکومت کے شروع کردہ منصوبوں سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں پر اپوزیشن کے ایک حلقے کا اعتراض یہ کہ آخر یہ منصوبے صرف پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہی کیوں شروع کیے جاتے ہیں، کیا پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
تاہم وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد ان کا اعتراض ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ سوا پانچ سو ارب روپے کے مجوزہ منصوبوں میں تمام صوبوں کا خیال رکھا گیا ہے نیز ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف ملک میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے بلکہ عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔ وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں مالی سال 2014-15ء کے لیے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کو حتمی شکل دینے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا، سرکاری منصوبوں میں بدعنوانی کے احتمال کے تناظر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خزانے کا ایک ایک پیسہ قوم کی امانت ہے جس کا صحیح اور محتاط استعمال ہونا چاہیے۔ اجلاس میں خزانہ، منصوبہ بندی کے وفاقی وزراء کے علاوہ چند اراکین قومی اسمبلی اور متعلقہ وزارتوں کے سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے مزید کہا کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر چل پڑے ہیں اور موجودہ حکومت کے شروع کیے گئے منصوبوں سے عوام کا معیار زندگی بلند اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ آئندہ بجٹ میں عوام کی ترقی و خوشحالی کیلیے زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کے لیے بھاری رقوم مختص کی جائیں گی۔ وزیر اعظم نے جاری منصوبوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ لاہور کراچی موٹر وے پر کام کا آغاز بر وقت کیا جائے تا کہ اسے شیڈول کے مطابق تکمیل سے ہمکنار کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کام رواں سال کے آخر تک شروع ہو جائیگا۔
اجلاس میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کی جستہ جستہ تفصیلات پر بھی روشنی ڈالی گئی نیز دیامر بھاشا ڈیم (4500 میگاواٹ)، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (2160 میگاواٹ) کے علاوہ فیصل آباد خانیوال ایم 4 موٹر وے (57 کلومیٹر) اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے مختص رقوم کی منظوری دی گئی۔ واضح رہے کہ لاہور میٹرو ٹرین کے ناقدین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت نے براستہ مری اسلام آباد سے مظفر آباد تک نئے ریل لنک کی تعمیر کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی کی جا رہی ہے نیز حویلیاں سے پاک چین سرحد تک نئے ریل لنک کی تعمیر کے لیے بھی فیزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ گوادر کو ریل کے ذریعے کراچی کے ساتھ منسلک کرنے کی فیزیبلٹی اسٹڈی بھی جاری ہے اور نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ تک رابطہ سڑکوں، نئے گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ پراجیکٹ، گڈانی میں جیٹی اور انفرااسٹرکچر کی ترقی، گوادر پورٹ اقتصادی فری زون منصوبے، گوادر میں پاک چین ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور لال سوہانرا پارک فیزII میں قائد اعظم سولر پارک (600 میگاواٹ) منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
اگر ان تمام منصوبوں پر توقع کے مطابق عمل شروع ہو جاتا ہے تو اس کے ثمرات سے عوام کی کثیر تعداد مستفید ہو سکے گی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ان منصوبوں میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ یہ منصوبے جلد ازجلد مکمل ہو سکیں، اگر یہ منصوبے جلد مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا اور وطن عزیز تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔
تاہم وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد ان کا اعتراض ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ سوا پانچ سو ارب روپے کے مجوزہ منصوبوں میں تمام صوبوں کا خیال رکھا گیا ہے نیز ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف ملک میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے بلکہ عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔ وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں مالی سال 2014-15ء کے لیے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کو حتمی شکل دینے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا، سرکاری منصوبوں میں بدعنوانی کے احتمال کے تناظر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خزانے کا ایک ایک پیسہ قوم کی امانت ہے جس کا صحیح اور محتاط استعمال ہونا چاہیے۔ اجلاس میں خزانہ، منصوبہ بندی کے وفاقی وزراء کے علاوہ چند اراکین قومی اسمبلی اور متعلقہ وزارتوں کے سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے مزید کہا کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر چل پڑے ہیں اور موجودہ حکومت کے شروع کیے گئے منصوبوں سے عوام کا معیار زندگی بلند اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ آئندہ بجٹ میں عوام کی ترقی و خوشحالی کیلیے زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کے لیے بھاری رقوم مختص کی جائیں گی۔ وزیر اعظم نے جاری منصوبوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ لاہور کراچی موٹر وے پر کام کا آغاز بر وقت کیا جائے تا کہ اسے شیڈول کے مطابق تکمیل سے ہمکنار کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کام رواں سال کے آخر تک شروع ہو جائیگا۔
اجلاس میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کی جستہ جستہ تفصیلات پر بھی روشنی ڈالی گئی نیز دیامر بھاشا ڈیم (4500 میگاواٹ)، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (2160 میگاواٹ) کے علاوہ فیصل آباد خانیوال ایم 4 موٹر وے (57 کلومیٹر) اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے مختص رقوم کی منظوری دی گئی۔ واضح رہے کہ لاہور میٹرو ٹرین کے ناقدین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت نے براستہ مری اسلام آباد سے مظفر آباد تک نئے ریل لنک کی تعمیر کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی کی جا رہی ہے نیز حویلیاں سے پاک چین سرحد تک نئے ریل لنک کی تعمیر کے لیے بھی فیزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ گوادر کو ریل کے ذریعے کراچی کے ساتھ منسلک کرنے کی فیزیبلٹی اسٹڈی بھی جاری ہے اور نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ تک رابطہ سڑکوں، نئے گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ پراجیکٹ، گڈانی میں جیٹی اور انفرااسٹرکچر کی ترقی، گوادر پورٹ اقتصادی فری زون منصوبے، گوادر میں پاک چین ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور لال سوہانرا پارک فیزII میں قائد اعظم سولر پارک (600 میگاواٹ) منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
اگر ان تمام منصوبوں پر توقع کے مطابق عمل شروع ہو جاتا ہے تو اس کے ثمرات سے عوام کی کثیر تعداد مستفید ہو سکے گی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ان منصوبوں میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ یہ منصوبے جلد ازجلد مکمل ہو سکیں، اگر یہ منصوبے جلد مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا اور وطن عزیز تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔