مودی اور میاں پہلا حصہ
نریندرمودی 26 مئی 2014ء کو حلف اٹھا کر ہندوستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو جائینگے
zahedahina@gmail.com
نریندرمودی 26 مئی 2014ء کو حلف اٹھا کر ہندوستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔ تقریباً ایک سال قبل 5 جون 2013ء کو پاکستان میں میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا۔ میاں اور مودی کا پاکستان اور ہندوستان میں اقتدار میں آنا ایک نہیں کئی حوالوں سے نہایت اہم ہے۔
کچھ عرصے پہلے تک دنیا میں ''دائیں اور بائیں بازو'' کی اصطلاح بہت عام مقبول تھی اور ہر سیاسی اور معاشی واقعے کا تجزیہ ان دو حوالوں سے کیا جاتا تھا۔ اب سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا ۔ امریکا' روس اور چین کا معاشی نظام مارکیٹ اکانومی اور آزاد معیشت کے نظریے پر عمل پیرا ہے لہٰذا ماضی کی وہ عالمی تقسیم بھی ختم ہو گئی ہے جس کے مطابق وہ سیاسی جماعتیں اور دانشور جو سوویت یونین اور چین کے طرفدار تھے انھیں بائیں اور جو امریکا اور یورپ کے نظام کے حامی تھے انھیں دائیں بازو والا کہا جاتا تھا۔
ماضی قریب میں اسلامی تحریکیں چلانے والی تنظیمیں امریکا کی حامی تھیں' انھیں انتہائی دائیں بازو کی قوت کہا جاتا تھا آج یہ مذہبی قوتیں دنیا میں امریکا کے خلاف صف آرا ہیں لیکن اس عمل سے نہ وہ انقلابی ہو گئی ہیں اور نہ کوئی انھیں بائیں بازو کا کہتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک دو نہیں متعدد معاملات ایسے ہیں جن کے حوالے سے امریکی اقدمات کی حمایت کرنیوالوں میں بائیں بازو کے دانشور اور جماعتیں شامل ہیں۔ کیا اس طرح کا موقف اختیار کرنے پر کوئی انھیں ''دائیں بازو'' کا کہہ سکتا ہے؟ کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا انقلابی طور پر بدل گئی ہے اور تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے لہٰذا اب ماضی کے تجزیاتی پیمانوں سے بہت سے واقعات کی نہ سائنسی تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ان کے ذریعے درست نتائج اخذ کرنا ممکن ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں نریندر مودی اور میاں نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے معاملے کا بھی پرانے پیمانوں سے تجزیہ کیا جائے گا تو وہ زیادہ درست اور معروضی نتائج نہیں دے سکے گا۔ سب سے پہلے ہم بی جے پی اور نریندر مودی کے معاملے کو لیتے ہیں۔ ماضی کا تجزیاتی انداز استعمال کیا جائے تو بات زیادہ آگے نہیں بڑھے گی۔ بولیں تو چند جملوں اور لکھیں تو چند سطروں میں تجزیہ مکمل ہو جائے گا۔ درست طور پر یہ رائے آئے گی کہ بی جے پی کا تشخص ایک انتہا پسند ہندو جماعت کا ہے۔ سَنگھ پریوار سے اس کا گہرا نظریاتی تعلق ہے۔ یہ جماعت پنڈت نہرو کی سخت مخالف ہے کیونکہ اس کے خیال میں پنڈت جی بھی تقسیم ہند کے بنیادی ذمے داروں میں شامل ہیں۔ بی جے پی اور اس کے سخت گیر نظریاتی کارکن ہندوستانی مسلمانوں سے بھی شدید شکایت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ پاکستان کو مسلم اکثریتی علاقے میں بننا تھا۔ جب ان کو بالآخر ہندوستان میں رہنا تھا تو اپنے وطن کو تقسیم کرنے کے عمل میں ان کو شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بی جے پی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ہندوستان پر مسلمانوں کی کم و بیش 800 سالہ حکمرانی اور اس کے اثرات کو قطعی طور پر نا پسند کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس نے سیکولر ازم کے نام پر مسلمانوں کی بے جا حمایت کی۔ ان کا موقف ہے کہ سیکولر ازم کا مطلب اقلیتوں کی خوشامد کرنا نہیں۔ اس حوالے سے وہ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ پورے ہندوستان کا ایک سول کوڈ ہونا چاہیے۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ ہے بی جے پی اور اس کے وزیر اعظم کے تشخص کا سرسری خاکہ۔
بی جے پی اور نریندر مودی کے مذکورہ بالا تشخص کے حوالے سے اگر ماضی کے تجزیاتی پیمانوں کو استعمال کر کے نتائج نکالے جائیں تو انھیں اس طرح ہونا چاہیے :
(1) نریندر مودی اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کانگریس کے بنائے ہوئے ہندوستان کے سیکولر وفاقی جمہوری آئین کو بدلنے کی بھرپور کوشش کریں گے تا کہ اسے '' ہندوتوا'' کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
(2) نریندر مودی چونکہ ہندوستان کی تقسیم کو ایک المیہ تصور کرتے ہیں اور پاکستان کے قطعی خیر خواہ نہیں ہیں لہٰذا وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے اور کسی بھی رونما ہونیوالے واقعے کو بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ آور ہو جائیں گے۔
(3) نریندر مودی اور ان کی حکومت ہندوستان میں مسلمانوں' عیسائیوں اور نچلی ذاتوں کا جینا حرام کر دے گی، معیشت کے دروازے ان پر بند ہو جائینگے' ان کو ملازمتیں نہیں دی جائیں گی' انھیں بیروزگار کر دیا جائیگا، ایسے امتیازی قوانین بنائے جائیں گے جن سے مذہبی اقلیتیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو جائیں گی اور ترقی کے ثمرات صرف خالص اور اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے لیے مختص ہوں گے۔
یہ وہ نتائج ہیں جن پر پاکستان میں کٹر نظریاتی مخالفین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتاہے۔ ایسا نہ ہوتا تو نریندر مودی کے حوالے سے دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے یکسر متضاد ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بات آگے بڑھاتے ہیں اور ان لوگوں کے نقطہ نظر پر نگاہ ڈالتے ہیں جن کے خیال میں مودی کے برسرِ اقتدار آنے سے ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہو گا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ آئیے اب اس موضوع پر بھی گفتگو کر لی جائے۔
امکان یہ ہے کہ نریندر مودی ابتدا میں اپنا سیاسی لب و لہجہ سخت رکھیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوامی توقعات کے جس منہ زور گھوڑے پر سوار ہو کر وہ پردھان منتری بھون میں فاتحانہ داخل ہوئے ہیں' اسے قابو میں رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ان کا لہجہ ترش ہو گا لیکن عملاً وہ اپنے حامیوں اور ناقدین دونوں کو مایوس کرنیوالے کام کرینگے جو ان سے ماضی کے حوالے سے توقعات یا خدشات وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آر ایس ایس' بی جے پی اور اس نوع کی دیگر تنظیمیں اس ہندوستان کی پیداوار ہیں جو طویل مدت کی غلامی کے بعد آزاد ہوا تھا اور جہاں غربت و پسماندگی ناقابل بیان تھی۔
لاکھوں لوگوں کا قحط میں ہلاک ہو جانا یا چیچک، طاعون اور ہیضے جیسی وبائی امراض میں مبتلا ہو کر مر جانا ایک معمول تھا۔ محروم معاشروں میں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار رہتے ہیں۔ کبھی مذہب کبھی ذات' نسل' زبان کی بنیاد پر متحد ہو کر دوسروں سے نوالہ چھینتے ہیں' قتل کرتے اور قتل ہو جاتے ہیں۔ غربت اور محرومی کی سنگلاخ زمین سے ہی انتہا پسند نظریات کا اکھوا پھوٹتا ہے جو بعد میں جھاڑ جھنکاڑ پیڑ میں بدل جاتا ہے۔ ہر طبقہ' قوم' نسل اور ذات اپنی محرومی کا ذمے دار دوسرے کو قرار دیتی ہے اور یوں نفرت 'مخاصمت' قتل و غارتگری کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے اسباب اور فاشزم کے عروج میں بھی یہی عوامل کار فرما تھے۔ آج کا ہندوستان پرانے ہندوستان سے بہت مختلف ہے اور وقت کے ساتھ مزید مختلف ہوتا چلا جائے گا۔ اس ملک میں غریب موجود ہیں لیکن ان کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ کروڑوں پر مشتمل ایک جدید طرز زندگی رکھنے والی مڈل کلاس وجود میں آ چکی ہے جس کی تعداد میں صبح شام اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر بہت طاقتور ہے اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں اس شعبے کے مالکان شامل ہیں جن کے پاس اپنے ذاتی جہاز اور ہیلی کاپٹر ہیں۔ مشرقی پنجاب کے کسان کا معیار زندگی' امریکی کسان سے کم نہیں ہے۔
جب تک ہندوستان میں کاروبار محدود تھا اور اس کے لیے داخلی منڈی کی طلب پوری کرنی ممکن نہیں تھی اس وقت تک ہندوستان کا چھوٹا کارپوریٹ سیکٹر اور مختصر سی مڈل کلاس بہت تنگ نظر تھی کیونکہ وسیع النظری اس کی معاشی ضرورت نہیں تھی۔ آج کے بہت بڑے کاروباری طبقے کی ضرورت یہ ہے کہ نہ صرف پورے ہندوستان کو ایک مربوط اور مضبوط مارکیٹ میں بدل دیا جائے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر موجود کاروباری مواقعے سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے اس نے بی جے پی اور اس کے رہنما نریندر مودی کا انتخاب کیا ہے۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے بڑے کارپوریٹ سیکٹر' مضبوط مڈل کلاس اور عام ووٹروں نے 128 سال پہلے نو آبادیاتی دور میں قائم ہونے والی کانگریس جیسی سیکولر جماعت جس نے برطانوی سامراج کے خلاف طویل' صبر آزما اور کامیاب جدو جہد کی اور ہندوستان کو غلامی سے آزادی دلائی کو کیوں مسترد کیا اور بی جے پی جیسی جماعت اور فرقہ پرستی کا تشخص رکھنے والے نریندر مودی کے انتخاب کو کیوں ترجیح دی؟
اس اہم سوال اور دیگر امور پر گفتگو اگلے کالم تک اٹھائے رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)
کچھ عرصے پہلے تک دنیا میں ''دائیں اور بائیں بازو'' کی اصطلاح بہت عام مقبول تھی اور ہر سیاسی اور معاشی واقعے کا تجزیہ ان دو حوالوں سے کیا جاتا تھا۔ اب سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا ۔ امریکا' روس اور چین کا معاشی نظام مارکیٹ اکانومی اور آزاد معیشت کے نظریے پر عمل پیرا ہے لہٰذا ماضی کی وہ عالمی تقسیم بھی ختم ہو گئی ہے جس کے مطابق وہ سیاسی جماعتیں اور دانشور جو سوویت یونین اور چین کے طرفدار تھے انھیں بائیں اور جو امریکا اور یورپ کے نظام کے حامی تھے انھیں دائیں بازو والا کہا جاتا تھا۔
ماضی قریب میں اسلامی تحریکیں چلانے والی تنظیمیں امریکا کی حامی تھیں' انھیں انتہائی دائیں بازو کی قوت کہا جاتا تھا آج یہ مذہبی قوتیں دنیا میں امریکا کے خلاف صف آرا ہیں لیکن اس عمل سے نہ وہ انقلابی ہو گئی ہیں اور نہ کوئی انھیں بائیں بازو کا کہتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک دو نہیں متعدد معاملات ایسے ہیں جن کے حوالے سے امریکی اقدمات کی حمایت کرنیوالوں میں بائیں بازو کے دانشور اور جماعتیں شامل ہیں۔ کیا اس طرح کا موقف اختیار کرنے پر کوئی انھیں ''دائیں بازو'' کا کہہ سکتا ہے؟ کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا انقلابی طور پر بدل گئی ہے اور تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے لہٰذا اب ماضی کے تجزیاتی پیمانوں سے بہت سے واقعات کی نہ سائنسی تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ان کے ذریعے درست نتائج اخذ کرنا ممکن ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں نریندر مودی اور میاں نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے معاملے کا بھی پرانے پیمانوں سے تجزیہ کیا جائے گا تو وہ زیادہ درست اور معروضی نتائج نہیں دے سکے گا۔ سب سے پہلے ہم بی جے پی اور نریندر مودی کے معاملے کو لیتے ہیں۔ ماضی کا تجزیاتی انداز استعمال کیا جائے تو بات زیادہ آگے نہیں بڑھے گی۔ بولیں تو چند جملوں اور لکھیں تو چند سطروں میں تجزیہ مکمل ہو جائے گا۔ درست طور پر یہ رائے آئے گی کہ بی جے پی کا تشخص ایک انتہا پسند ہندو جماعت کا ہے۔ سَنگھ پریوار سے اس کا گہرا نظریاتی تعلق ہے۔ یہ جماعت پنڈت نہرو کی سخت مخالف ہے کیونکہ اس کے خیال میں پنڈت جی بھی تقسیم ہند کے بنیادی ذمے داروں میں شامل ہیں۔ بی جے پی اور اس کے سخت گیر نظریاتی کارکن ہندوستانی مسلمانوں سے بھی شدید شکایت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ پاکستان کو مسلم اکثریتی علاقے میں بننا تھا۔ جب ان کو بالآخر ہندوستان میں رہنا تھا تو اپنے وطن کو تقسیم کرنے کے عمل میں ان کو شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بی جے پی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ہندوستان پر مسلمانوں کی کم و بیش 800 سالہ حکمرانی اور اس کے اثرات کو قطعی طور پر نا پسند کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس نے سیکولر ازم کے نام پر مسلمانوں کی بے جا حمایت کی۔ ان کا موقف ہے کہ سیکولر ازم کا مطلب اقلیتوں کی خوشامد کرنا نہیں۔ اس حوالے سے وہ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ پورے ہندوستان کا ایک سول کوڈ ہونا چاہیے۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ ہے بی جے پی اور اس کے وزیر اعظم کے تشخص کا سرسری خاکہ۔
بی جے پی اور نریندر مودی کے مذکورہ بالا تشخص کے حوالے سے اگر ماضی کے تجزیاتی پیمانوں کو استعمال کر کے نتائج نکالے جائیں تو انھیں اس طرح ہونا چاہیے :
(1) نریندر مودی اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کانگریس کے بنائے ہوئے ہندوستان کے سیکولر وفاقی جمہوری آئین کو بدلنے کی بھرپور کوشش کریں گے تا کہ اسے '' ہندوتوا'' کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
(2) نریندر مودی چونکہ ہندوستان کی تقسیم کو ایک المیہ تصور کرتے ہیں اور پاکستان کے قطعی خیر خواہ نہیں ہیں لہٰذا وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے اور کسی بھی رونما ہونیوالے واقعے کو بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ آور ہو جائیں گے۔
(3) نریندر مودی اور ان کی حکومت ہندوستان میں مسلمانوں' عیسائیوں اور نچلی ذاتوں کا جینا حرام کر دے گی، معیشت کے دروازے ان پر بند ہو جائینگے' ان کو ملازمتیں نہیں دی جائیں گی' انھیں بیروزگار کر دیا جائیگا، ایسے امتیازی قوانین بنائے جائیں گے جن سے مذہبی اقلیتیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو جائیں گی اور ترقی کے ثمرات صرف خالص اور اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے لیے مختص ہوں گے۔
یہ وہ نتائج ہیں جن پر پاکستان میں کٹر نظریاتی مخالفین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتاہے۔ ایسا نہ ہوتا تو نریندر مودی کے حوالے سے دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے یکسر متضاد ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بات آگے بڑھاتے ہیں اور ان لوگوں کے نقطہ نظر پر نگاہ ڈالتے ہیں جن کے خیال میں مودی کے برسرِ اقتدار آنے سے ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہو گا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ آئیے اب اس موضوع پر بھی گفتگو کر لی جائے۔
امکان یہ ہے کہ نریندر مودی ابتدا میں اپنا سیاسی لب و لہجہ سخت رکھیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوامی توقعات کے جس منہ زور گھوڑے پر سوار ہو کر وہ پردھان منتری بھون میں فاتحانہ داخل ہوئے ہیں' اسے قابو میں رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ان کا لہجہ ترش ہو گا لیکن عملاً وہ اپنے حامیوں اور ناقدین دونوں کو مایوس کرنیوالے کام کرینگے جو ان سے ماضی کے حوالے سے توقعات یا خدشات وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آر ایس ایس' بی جے پی اور اس نوع کی دیگر تنظیمیں اس ہندوستان کی پیداوار ہیں جو طویل مدت کی غلامی کے بعد آزاد ہوا تھا اور جہاں غربت و پسماندگی ناقابل بیان تھی۔
لاکھوں لوگوں کا قحط میں ہلاک ہو جانا یا چیچک، طاعون اور ہیضے جیسی وبائی امراض میں مبتلا ہو کر مر جانا ایک معمول تھا۔ محروم معاشروں میں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار رہتے ہیں۔ کبھی مذہب کبھی ذات' نسل' زبان کی بنیاد پر متحد ہو کر دوسروں سے نوالہ چھینتے ہیں' قتل کرتے اور قتل ہو جاتے ہیں۔ غربت اور محرومی کی سنگلاخ زمین سے ہی انتہا پسند نظریات کا اکھوا پھوٹتا ہے جو بعد میں جھاڑ جھنکاڑ پیڑ میں بدل جاتا ہے۔ ہر طبقہ' قوم' نسل اور ذات اپنی محرومی کا ذمے دار دوسرے کو قرار دیتی ہے اور یوں نفرت 'مخاصمت' قتل و غارتگری کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے اسباب اور فاشزم کے عروج میں بھی یہی عوامل کار فرما تھے۔ آج کا ہندوستان پرانے ہندوستان سے بہت مختلف ہے اور وقت کے ساتھ مزید مختلف ہوتا چلا جائے گا۔ اس ملک میں غریب موجود ہیں لیکن ان کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ کروڑوں پر مشتمل ایک جدید طرز زندگی رکھنے والی مڈل کلاس وجود میں آ چکی ہے جس کی تعداد میں صبح شام اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر بہت طاقتور ہے اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں اس شعبے کے مالکان شامل ہیں جن کے پاس اپنے ذاتی جہاز اور ہیلی کاپٹر ہیں۔ مشرقی پنجاب کے کسان کا معیار زندگی' امریکی کسان سے کم نہیں ہے۔
جب تک ہندوستان میں کاروبار محدود تھا اور اس کے لیے داخلی منڈی کی طلب پوری کرنی ممکن نہیں تھی اس وقت تک ہندوستان کا چھوٹا کارپوریٹ سیکٹر اور مختصر سی مڈل کلاس بہت تنگ نظر تھی کیونکہ وسیع النظری اس کی معاشی ضرورت نہیں تھی۔ آج کے بہت بڑے کاروباری طبقے کی ضرورت یہ ہے کہ نہ صرف پورے ہندوستان کو ایک مربوط اور مضبوط مارکیٹ میں بدل دیا جائے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر موجود کاروباری مواقعے سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے اس نے بی جے پی اور اس کے رہنما نریندر مودی کا انتخاب کیا ہے۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے بڑے کارپوریٹ سیکٹر' مضبوط مڈل کلاس اور عام ووٹروں نے 128 سال پہلے نو آبادیاتی دور میں قائم ہونے والی کانگریس جیسی سیکولر جماعت جس نے برطانوی سامراج کے خلاف طویل' صبر آزما اور کامیاب جدو جہد کی اور ہندوستان کو غلامی سے آزادی دلائی کو کیوں مسترد کیا اور بی جے پی جیسی جماعت اور فرقہ پرستی کا تشخص رکھنے والے نریندر مودی کے انتخاب کو کیوں ترجیح دی؟
اس اہم سوال اور دیگر امور پر گفتگو اگلے کالم تک اٹھائے رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)