فوج اور پولیس کا ملاپ

اب تو خبر چھپی کہ پنجاب پولیس نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے بھی رشوت طلب کی ہے۔

Abdulqhasan@hotmail.com

آپ اگر مضبوط ذہن کے مالک ہیں تو مجھے معلوم نہیں لیکن میں ایک کمزور دل و دماغ والا انسان ہوں اور اگر کوئی دھماکا میرے ذہن کے جتنا قریب ہوتا ہے میں اتنا ہی گھبرا جاتا ہوں۔ اخباروں میں کسی سرکاری ادارے ''نیکٹا'' کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ بڑے شہروں کی سیکیورٹی اور حفاظت کے لیے فوج کو بھی اس کا حصہ بنا دیا جائے یعنی ایک چھوٹا سا مارشل لا نافذ کر دیا جائے۔ اس وقت جب ہمارے کامیاب دشمن نے اپنے جمہوری جشن کا آغاز کیا ہے اور دنیا کی فی الحال بڑی جمہوریت مسلمانوں اور پاکستان کو قتل کرنے کے ارادوں میں مست ہے تو ہم اپنی جیسی تیسی جمہوریت کو بھی خیرباد کہہ رہے ہیں۔

بھارت کے تخریب کاروں نے کیسا موقع محل پسند کیا ہے کہ اپنے دشمن پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا کرنے کی اس وقت ایک کامیاب کوشش کی ہے جب پاکستان والے بھارت کو نام نہاد جمہوریت کہہ رہے ہیں اور تاریخ سے اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ بڑے شہروں کے امن و امان میں فوج کی شرکت کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔ خدا کرے وزیر اعظم اس تجویز کو مسترد کر دیں اور بھاری ووٹوں سے قائم ہونے والی اپنی جمہوری حکومت کی عزت بچا لیں لیکن ایسی بڑی تجویزیں جب سامنے آتی ہیں تو یہ ضروری مرحلوں سے گزر چکی ہوتی ہیں۔ بہرکیف اپنی جمہوری حکومت کی دل و جان سے ہمدردی کے باوجود خواہش یہی ہے کہ فوج کو پولیس میں ضم کرنے کی بجائے پولیس کو اس کی روایات کے قابل بنایا جائے۔

اب تو خبر چھپی کہ پنجاب پولیس نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے بھی رشوت طلب کی ہے۔ اس بین الصوبائی واردات کے موقع پر جناب عمران خان بھی موجود تھے جنھیں پنجاب پولیس نے پہچاننے سے انکار کر دیا اور جب وزیر اعلیٰ نے اپنا تعارف کرایا تو پنجاب پولیس نے پروٹوکول کے بغیر کسی وزیر کے سفر سے انکار کر دیا اور لنگر کے لیے رشوت طلب کی۔ پتہ چلا کہ جس صوبے میں چالیس ہزار پولیس والے پروٹوکول ڈیوٹی پر ہوں اس صوبے میں کسی بڑے آدمی کو بغیر پروٹوکول کے کون زندہ تسلیم کر سکتا ہے۔ جس صوبے کی پولیس دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ تک سے رشوت طلب کرے اس صوبے میں امن و امان کے لیے فوج کو زحمت دینا کوئی اوپری بات نہیں ہے۔

فی الحال تو تجویز صرف اتنی ہے کہ تھانوں میں فوج کے حوالدار متعین ہوں جو تھانہ محرر کا کام کریں اور صوبے دار ایس ایچ او کا اس کے اوپر کے عہدوں کے لیے بھی فوج سے موزوں عہدے دار منگوا لیے جائیں۔ فوج کے لوگ چونکہ زندگی بیرکوں میں بند ہو کر گزار دیتے ہیں اس لیے ان کا سویلین سے تعلق بہت کمزور ہوتا ہے بلکہ فوج کے بڑے افسر تو سویلین کے بارے میں غلط الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں، فوج بھی ہم آپ سے ہوتی ہے اس لیے فوج سے سویلین مزاج کے افسر تلاش کیے جا سکتے ہیں۔


مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ فوج کے دفتر میں بیٹھا کوئی افسر کسی فوجی کو ہمارا صدر یا وزیر اعظم مقرر کر کے نہ بھیج دے اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں۔ ہمارے ہاں ایسا اکثر ہوتا آیا ہے البتہ یہ مناسب ہو گا کہ حکومت کا یہ نیا محکمہ خاص ہدایات لے کر کام کرے اور پولیس کی جگہ فوجی افسروں کو ہائی کمان کی منظوری سے ہی بھیجے لیکن اس کے باوجود میرا ڈر اپنی جگہ قائم ہے۔ میں بات کو پھیلاتا نہیں ہوں، کوئی غلطی ہو سکتی ہے۔ ان دنوں بھی ایسی غلطیوں کی سزا مل رہی ہے۔

یہ تو یاد نہیں آ رہا لیکن مدت ہوئی کہ خود پولیس نے فوجی افسروں کو پولیس میں شامل کرنے کی بات کی تھی۔ اس پر بہت بحث ہوئی لیکن بالآخر یہ طے ہوا کہ کسی ایسی تجویز سے فوج بھی متاثر ہو گی اور خود پولیس بھی۔ پولیس کا ڈسپلن اپنی جگہ پر لیکن فوج اپنے ڈسپلن کو پولیس سے بہت بہتر سمجھتی ہے۔ اگر فوج نے پولیس کو اس کے مشہور زمانہ ڈسپلن سے نکال کر خود فوجی بنانا چاہا تو نہ پولیس باقی رہے گی اور نہ فوج اور ہم دونوں سے محروم ہو جائینگے۔ جو قومی نقصان ہو گا اس لیے مناسب یہی ہے کہ دونوں کے ملاپ کا کوئی محفوظ راستہ تلاش کیا جائے۔ ان دنوں ہم بعض دوست ملکوں سے بہت سے معاملوں میں مدد لے رہے ہیں۔ ان میں چین اور ترکی سرفہرست ہیں۔ ترکی کے تو ڈرامے بھی دیکھ رہے ہیں۔

ایک ڈرامہ جو عثمانی بادشاہوں کے بارے میں ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاندانی قسم کا کھیل ہے ہم کسی حد تک اس کی پیروی بھی کر رہے ہیں۔ دوسرا ملک چین جس کے تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبے ان دنوں ہمارے آئیڈیل ہیں۔ ہم اپنے پولیس اور فوج والے مسئلہ پر دونوں سے مشورہ کر سکتے ہیں اور جو ممکن ہو اسے اپنا بھی سکتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک ہمارے دوست اور خیرخواہ ہیں اور ہمیں کوئی غلط مشورہ نہیں دیں گے۔ چین نے اپنے ہاں امن و امان کے لیے فوج اور پولیس دونوں کو استعمال کیا ہے اور اس کے کامیاب نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ چین کا تجربہ یوں زیادہ مفید ہے وہاں فوج نے حکومت کو پریشان نہیں کیا جب کہ اندیشہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہاں ایک بات ضروری ہے کہ یہ فوج اور پولیس کے محدود ملاپ کا منصوبہ جس کسی نے تجویز کیا ہے اس نے پاکستان کے حالات کو سامنے رکھا ہے۔ پولیس پر اتنی نگرانی ضروری ہے کہ وہ کم از کم کسی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ اور اس کے عملے سے رشوت طلب نہ کرے اور اپنا لنگر دوسری آسامیوں کی مدد سے چلائے۔ پہلے تو نذر و نیاز خانقاہوں اور سجادہ نشینوں کو ملا کرتی تھی مگر یہ اس قدر پھیلی ہے کہ پولیس تک نے اپنے لنگر کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس کا یہ کیسا بابرکت اقدام تھا جو خانقاہوں سے لنگر تک پھیل گیا ہے۔ وہ جو پرانا لطیفہ تھا کہ نوکر کو بتایا گیا کہ تمہاری ڈیوٹی سامنے والے دربار سے خود کھانا کھا لینا اور میرے لیے لیتے آنا ہے۔ اب لنگر تک نذر و نیاز پھیل گئی ہے اور کس کی مجال ہے کہ انکار کر سکے۔
Load Next Story