بلدیاتی اداروں کی غفلت شاہراہیں اور سڑکیں گڑھوں میں تبدیل
شاہراہوں اور اندرونی گلیوں کی مرمت بند ،سڑکوں پر ہر20 فٹ کے فاصلے پرگڑھے پڑگئے
موٹر سائیکل سوار کمر کی تکلیف میں مبتلا،عوام سڑکوں کی ابتری سے اذیت کے شکار ،ڈرائیور مخصوص رفتار سے کم پر گاڑیاں چلانے لگے،اسٹریٹ لائٹ بند ہونے سے لوٹ ماربڑھ گئی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
کراچی میں بلدیاتی اداروں کی لاپروائی اور غفلت کے باعث شہر کی شاہراہیں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، شاہراہیں اور سڑکیں مرمت اوراستر کاری نہ ہونے سے گڑھوں سے بھرگئی ہیں۔
رات کے وقت حادثات معمول بن گئے، سڑکوں پر بے تحاشہ گڑھوں سے گاڑیوں کے انجن اور ٹائروں کو نقصان پہنچنے لگا، شاہراہوں پر گڑھوں اور اسٹریٹ لائٹس کی بندش سے لوٹ مارکی وارداتیں بڑھ گئیں، تفصیلات کے مطابق شہر میں بلدیاتی اداروں کی لاپروائی اور سنگین غفلت سے تمام شاہراہیں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بندرگاہ روڈ ، شاہراہ لیاقت ، ایم اے جناح روڈ ، جمشید روڈ ، پٹیل پاڑہ ، نشتر روڈ ، کینٹ اسٹیشن ، کورنگی روڈ ، ایکسپریس وے،سائٹ ،تین ہٹی ، شاہراہ پاکستان، بلدیہ ٹاؤن ، شیرشاہ ، میٹروول، اورنگی ٹاؤن ، مسان روڈ ، نیو کراچی ، محمود آباد ، لانڈھی،کورنگی ، ملیر ، شاہ فیصل کالونی ، لائنزایریا ، طارق روڈ سمیت شہر بھر کی شاہراہوں، سڑکوں اور اندرونی گلیوں کی طویل عرصے سے مرمت اور استر کاری نہیں کی جارہی جس سے ان شاہراہوں اور سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑگئے ہیں۔
شاہراہوں اور سڑکوں کے کنارے صفائی نہ ہونے سے جگہ جگہ پتھر اور مٹی کے ڈھیر جمع ہیں، گڑھوں کے باعث دن کے علاوہ رات کے اوقات میں بھی حادثات معمول بن گئے ہیں ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار گڑھوں کے باعث گرجاتے ہیں سڑکوں پر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر بڑے گڑھوں کی وجہ سے پڑنے والے جھٹکوں سے موٹر سائیکل سوار کمر کی تکلیف میں مبتلا ہورہے ہیں، حادثات کے باعث کئی موٹرسائیکل سوار اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، اکثر کھودی گئی شاہراہوں اور سڑکوں کے گڑھوں کو شہری اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ڈال کر ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سڑکوں کی استر کاری نہ ہونے اور گڑھوں کے باعث موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جمپ اور چیسز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
شہری گاڑیوں کو مرمت پر اضافی اخراجات برداشت کررہے ہیں، شہری سڑکوں کی ابتر حالت اور ناقص صفائی سے ذہنی الجھن کا شکار ہوکر نفسیاتی مریض بن رہے ہیں، سڑکوں پرگڑھوں میں نوکیلے پتھروں اور صفائی نہ ہونے سے گاڑیوں کے ٹائر پنکچر ہورہے ہیں،دھول اور مٹی کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے، شہر میں ناقص امن سے ٹائر پنکچر کی دکانیں رات کو جلدی بند ہوتی ہیں جبکہ رات گئے گاڑی پنکچر ہونے پر شہریوں کو اذیت کا سامنا ہوتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور کارپیٹنگ نہ ہونے اور رات کے وقت شہر کی60 فیصد سے زائد شاہراہوں اور سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس بند ہونے سے حادثات کے علاوہ جرائم پیشہ عناصر کی لوٹ مار کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں جو اندھیرے میں بلاخوف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ کراچی میں جب سے شہری حکومت کا نظام ختم ہوا ہے،شہر کا بلدیاتی نظام غیر فعال ہے اور شہر کی 70 فیصد شاہراہوں اور سڑکوں کی مرمت نہیں کی جا رہی جس سے سڑکوں پر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر 2 سے 3 فٹ کے گہرے گڑھے پڑگئے ہیں، ان گڑھوں سے بڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے ٹائروں اور انجن کو نقصان پہنچ رہا ہے جگہ جگہ گڑھوں کے باعث گاڑیوں کو مخصوص رفتار سے بھی کم پر چلایا جاتا ہے جس سے نہ صرف اضافی ایندھن خرچ ہوتا ہے بلکہ ہر ماہ گاڑیوں کی مرمت کرانی پڑتی ہے، شہریوں نے وزیر بلدیات اور بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دے کر شاہراہوں اور سڑکوں کی مرمت اور کارپیٹنگ فوری شروع کراکر شاہراہوں کو محفوظ بنائیں۔
رات کے وقت حادثات معمول بن گئے، سڑکوں پر بے تحاشہ گڑھوں سے گاڑیوں کے انجن اور ٹائروں کو نقصان پہنچنے لگا، شاہراہوں پر گڑھوں اور اسٹریٹ لائٹس کی بندش سے لوٹ مارکی وارداتیں بڑھ گئیں، تفصیلات کے مطابق شہر میں بلدیاتی اداروں کی لاپروائی اور سنگین غفلت سے تمام شاہراہیں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بندرگاہ روڈ ، شاہراہ لیاقت ، ایم اے جناح روڈ ، جمشید روڈ ، پٹیل پاڑہ ، نشتر روڈ ، کینٹ اسٹیشن ، کورنگی روڈ ، ایکسپریس وے،سائٹ ،تین ہٹی ، شاہراہ پاکستان، بلدیہ ٹاؤن ، شیرشاہ ، میٹروول، اورنگی ٹاؤن ، مسان روڈ ، نیو کراچی ، محمود آباد ، لانڈھی،کورنگی ، ملیر ، شاہ فیصل کالونی ، لائنزایریا ، طارق روڈ سمیت شہر بھر کی شاہراہوں، سڑکوں اور اندرونی گلیوں کی طویل عرصے سے مرمت اور استر کاری نہیں کی جارہی جس سے ان شاہراہوں اور سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑگئے ہیں۔
شاہراہوں اور سڑکوں کے کنارے صفائی نہ ہونے سے جگہ جگہ پتھر اور مٹی کے ڈھیر جمع ہیں، گڑھوں کے باعث دن کے علاوہ رات کے اوقات میں بھی حادثات معمول بن گئے ہیں ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار گڑھوں کے باعث گرجاتے ہیں سڑکوں پر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر بڑے گڑھوں کی وجہ سے پڑنے والے جھٹکوں سے موٹر سائیکل سوار کمر کی تکلیف میں مبتلا ہورہے ہیں، حادثات کے باعث کئی موٹرسائیکل سوار اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، اکثر کھودی گئی شاہراہوں اور سڑکوں کے گڑھوں کو شہری اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ڈال کر ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سڑکوں کی استر کاری نہ ہونے اور گڑھوں کے باعث موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جمپ اور چیسز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
شہری گاڑیوں کو مرمت پر اضافی اخراجات برداشت کررہے ہیں، شہری سڑکوں کی ابتر حالت اور ناقص صفائی سے ذہنی الجھن کا شکار ہوکر نفسیاتی مریض بن رہے ہیں، سڑکوں پرگڑھوں میں نوکیلے پتھروں اور صفائی نہ ہونے سے گاڑیوں کے ٹائر پنکچر ہورہے ہیں،دھول اور مٹی کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے، شہر میں ناقص امن سے ٹائر پنکچر کی دکانیں رات کو جلدی بند ہوتی ہیں جبکہ رات گئے گاڑی پنکچر ہونے پر شہریوں کو اذیت کا سامنا ہوتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور کارپیٹنگ نہ ہونے اور رات کے وقت شہر کی60 فیصد سے زائد شاہراہوں اور سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس بند ہونے سے حادثات کے علاوہ جرائم پیشہ عناصر کی لوٹ مار کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں جو اندھیرے میں بلاخوف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ کراچی میں جب سے شہری حکومت کا نظام ختم ہوا ہے،شہر کا بلدیاتی نظام غیر فعال ہے اور شہر کی 70 فیصد شاہراہوں اور سڑکوں کی مرمت نہیں کی جا رہی جس سے سڑکوں پر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر 2 سے 3 فٹ کے گہرے گڑھے پڑگئے ہیں، ان گڑھوں سے بڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے ٹائروں اور انجن کو نقصان پہنچ رہا ہے جگہ جگہ گڑھوں کے باعث گاڑیوں کو مخصوص رفتار سے بھی کم پر چلایا جاتا ہے جس سے نہ صرف اضافی ایندھن خرچ ہوتا ہے بلکہ ہر ماہ گاڑیوں کی مرمت کرانی پڑتی ہے، شہریوں نے وزیر بلدیات اور بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دے کر شاہراہوں اور سڑکوں کی مرمت اور کارپیٹنگ فوری شروع کراکر شاہراہوں کو محفوظ بنائیں۔