بڑی عمر کے افراد کو پولیو ویکسین انجکشن سے لگانے کی تجویز
ڈبلیو ایچ او بڑی عمر اور کم قوت مدافعت کے افراد کیلیے انجکشن والی پولیوویکسین فراہم کرے، ماہرین
ڈبلیو ایچ او بڑی عمر اور کم قوت مدافعت کے افراد کیلیے انجکشن والی پولیوویکسین فراہم کرے، ماہرین۔ فوٹو: فائل
پولیو ویکسین بے ضرر ہے اور اس کے کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین ضرور پلائی جائے اور بیرون ملک سفرکرنے والے تمام مسافر پولیوکے قطرے بلاخوف پی سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد جن کی عمر زیادہ ہے اور ان کی قوت مدافعت کم ہے ان کے لیے انجکشن کے ذریعے پولیو ویکسین کی سہولت فراہم کرے ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے تحت عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان پر سفری پابندیوں سے متعلق پریس بریفنگ میں انفیکشس ڈیزیزکی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے خطاب میں کیا، اس موقع پر نیورولوجسٹ ڈاکٹر شاہد مصطفی،ڈاکٹر اعجاز وہرہ اور پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر، ڈاکٹر سلمان احمد، ڈاکٹر ثاقب انصاری ، ڈاکٹر احمر حامد، ڈاکٹرشایان شادمانی،ڈاکٹرعمر سلطان، ڈاکٹر ذیشان حسین انصاری موجود تھے۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ پولیو وائرس منہ کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر معدے کے راستے آنتوں کو متاثر کرتا ہے جن بچوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے ان میں پولیو وائرس کے اثرات جسم کے مختلف حصوں میں سامنے آنا شروع ہوتے ہیں، پاکستان میں اورل پولیو ویکسین کی کوریج خراب ہے جس کی بنیادی وجہ ناقص ٹیکہ جاتی پروگرام ہے، ایسے بچے جن پر پولیو ویکسین پلانے کے باوجود پولیو وائرس حملہ کرتا ہے ان بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، غریب آبادیوں کے بچے غذائی کمی کا شکار ہیں اور ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کو بھارت میں پولیو وائرس سے زیادہ پریشانی تھی لیکن بھارت سے پولیو وائرس کے خاتمے پر وہ حیران ہیں، انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین انفرادی طور پر فائدہ مند ہے جبکہ اورل پولیو ویکسین کے قطرے معاشرے کے دیگر افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں، پروفیسر اعجاز وہرہ نے کہا کہ سفری پابندیوں کے بعد پاکستانیوں نے پولیو کے قطرے پینے سے بچنے کے لیے سرٹیفکیٹ خریدنا شروع کر دیے ہیں، پولیو ویکسین کے قطرے انتہائی محفوظ ہے، حاملہ خواتین کو پولیو کے قطرے نہیں پینے چاہئیں انھیں انجکشن کی صورت میں پولیو ویکسین دینی چاہیے لیکن پولیو کے قطرے پینے سے حاملہ خواتین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
کینسر میں مبتلا اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوںکو پولیو کے قطرے نہیں پینے چاہئیں، پاکستان سے پولیو کا وائرس2 ختم ہوچکا ہے اور اس وقت پاکستان میں پی ون اور پی تھری وائرس موجود ہے، عوام پولیو کے خلاف کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور ملک سے پولیو کا داغ مٹانے کے لیے پولیو کے قطرے ضرور پئیں، ڈاکٹر شاہد مصطفی نے کہا کہ پاکستان پر سفری پابندیاں لگنا بہت بڑا اقدام ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے، حکومت اورل پولیو ویکسین کے ساتھ انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین کی فراہمی بھی یقینی بنائے۔
عالمی ادارہ صحت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد جن کی عمر زیادہ ہے اور ان کی قوت مدافعت کم ہے ان کے لیے انجکشن کے ذریعے پولیو ویکسین کی سہولت فراہم کرے ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے تحت عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان پر سفری پابندیوں سے متعلق پریس بریفنگ میں انفیکشس ڈیزیزکی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے خطاب میں کیا، اس موقع پر نیورولوجسٹ ڈاکٹر شاہد مصطفی،ڈاکٹر اعجاز وہرہ اور پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر، ڈاکٹر سلمان احمد، ڈاکٹر ثاقب انصاری ، ڈاکٹر احمر حامد، ڈاکٹرشایان شادمانی،ڈاکٹرعمر سلطان، ڈاکٹر ذیشان حسین انصاری موجود تھے۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ پولیو وائرس منہ کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر معدے کے راستے آنتوں کو متاثر کرتا ہے جن بچوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے ان میں پولیو وائرس کے اثرات جسم کے مختلف حصوں میں سامنے آنا شروع ہوتے ہیں، پاکستان میں اورل پولیو ویکسین کی کوریج خراب ہے جس کی بنیادی وجہ ناقص ٹیکہ جاتی پروگرام ہے، ایسے بچے جن پر پولیو ویکسین پلانے کے باوجود پولیو وائرس حملہ کرتا ہے ان بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، غریب آبادیوں کے بچے غذائی کمی کا شکار ہیں اور ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کو بھارت میں پولیو وائرس سے زیادہ پریشانی تھی لیکن بھارت سے پولیو وائرس کے خاتمے پر وہ حیران ہیں، انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین انفرادی طور پر فائدہ مند ہے جبکہ اورل پولیو ویکسین کے قطرے معاشرے کے دیگر افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں، پروفیسر اعجاز وہرہ نے کہا کہ سفری پابندیوں کے بعد پاکستانیوں نے پولیو کے قطرے پینے سے بچنے کے لیے سرٹیفکیٹ خریدنا شروع کر دیے ہیں، پولیو ویکسین کے قطرے انتہائی محفوظ ہے، حاملہ خواتین کو پولیو کے قطرے نہیں پینے چاہئیں انھیں انجکشن کی صورت میں پولیو ویکسین دینی چاہیے لیکن پولیو کے قطرے پینے سے حاملہ خواتین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
کینسر میں مبتلا اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوںکو پولیو کے قطرے نہیں پینے چاہئیں، پاکستان سے پولیو کا وائرس2 ختم ہوچکا ہے اور اس وقت پاکستان میں پی ون اور پی تھری وائرس موجود ہے، عوام پولیو کے خلاف کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور ملک سے پولیو کا داغ مٹانے کے لیے پولیو کے قطرے ضرور پئیں، ڈاکٹر شاہد مصطفی نے کہا کہ پاکستان پر سفری پابندیاں لگنا بہت بڑا اقدام ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے، حکومت اورل پولیو ویکسین کے ساتھ انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین کی فراہمی بھی یقینی بنائے۔