یورپی یونین کو پاکستانی آم پر پابندی کا موقع نہیں دینگے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ

یورپی یونین کوفروٹ فلائی سے پاک آم کی برآمد کیلیے سخت جانچ ہوگی،نیشنل سیڈز اتھارٹی قائم، بیج تیاری میں...، سکندربوسن

معیاری آم 20 فیصد زائد قیمت پرخریدیں گے، وحید احمد، اسٹینڈرڈ پر پورا اترنے والے باغات کی فہرست جلد جاری کرینگے، ڈاکٹر مبارک، رانا اعجازو دیگر کا سیمینار سے خطاب۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ میں کمی ہوجائے لیکن یورپی یونین کو پاکستانی آم پر پابندی لگانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

یورپی یونین کو فروٹ فلائی سے پاک آم کی برآمد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے ہیں، یورپ کو ایکسپورٹ کرنے کے خواہش مند سخت ترین قرنطینہ جانچ کے لیے تیار رہیں، ملک میں نیشنل سیڈز اتھارٹی قائم کی جائے گی، پاکستان میں بیج تیار کرنے والی عالمی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنے اور عالمی معیار کے بیج مہیا کرنے کے لیے ترمیمی بل جلد قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یو این آئی ڈی او (یونیڈو) کے ٹی آرٹی اے پروگرام اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے ملتان میں آم کے کاشت کاروں اور ایکسپورٹرز کیلیے آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سیمینار سے پی ایف وی اے کے چیئرمین عبدالمالک، کو چیئرمین وحید احمد، پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹری ایگری کلچر رانا اعجاز احمد نون، ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر مبارک، یواین آئی ڈی کے نمائندے کٹ چین نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیح زراعت کے شعبے کی ترقی ہے، کابینہ نے سیڈ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، اسی طرح آئندہ اجلاس میں پیٹنٹ ایکٹ کا ترمیمی بل پیش کیا جائے گا جبکہ نیشنل سیڈ اتھارٹی کے قیام کے لیے مسودہ قانون بھی کابینہ کی منظوری سے جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، ان اقدامات کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیاری کی بیج بنانے والی کمپنیاں سرمایہ کاری کر سکیں گی اور ان کے کاروبار کو تحفظ حاصل ہو گا۔


وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال یورپی یونین کو ایکسپورٹ کی کنسائنمنٹ کی سختی سے جانچ کی جائے گی، فروٹ فلائی کی روک تھام کے لیے پنجاب حکومت کا کردار مثالی ہے تاہم سندھ حکومت نے وزارت کے خط کا جواب تک دینا ضروری نہ سمجھا۔ اس موقع پر پی ایف وی اے کے شریک چیئرمین وحید احمد نے فروٹ فلائی سے پاک یورپی یونین کے معیار پر پورا اترنے والے آم کو مارکیٹ سے 20 فیصد زائد پریمیم پر خریدنے کی پیشکش کی جسے کاشت کاروں نے سراہا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آم کے معیار کی بہتری کے لیے آگہی مہم جاری رکھی جائے اور کینو کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی قومی سطح پر مہم شروع کی جائے، زرعی پالیسی کی تشکیل کیلیے ایسوسی ایشن سے مشاورت، ہارٹی کلچر کی نیشنل کانفرنس منعقد اورملک میں کامن فیسلیٹی کے لیے ایسوسی ایشن کی مشاورت لازمی قراردی جائے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالمالک نے نے معیار کی بہتری اور جدید رجحانات کے لیے کاشت کاروں کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔ پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹری ایگری کلچر رانا اعجاز خان نون نے کہا کہ فروٹ فلائی کے موثر تدارک کے لیے آم پیدا کرنے والے 5 اضلاع میں آگہی مہم جاری ہے۔ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈی جی ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ہنگامی حکمت عملی کے تحت سندھ اور پنجاب کے 100 سے زائد باغات کا معائنہ کیا جا چکاہے، معیار پر پورا اترنے والے باغات کی فہرست جلد جاری کردی جائے گی۔

گزشتہ سال پاکستان کے 236 کنسائنمنٹس برطانیہ اور یورپ نے مسترد کیے، اس سال پہلے سے بہت زیادہ سختی ہو گی، بعض اطلاعات ہیں کہ پاکستان پر جولائی تک پابندی لگ سکتی ہے لیکن وفاقی وزیر سکندربوسن کا عزم ہے کہ کسی صورت پابندی نہیں لگنے دی جائیگی کیونکہ پابندی لگنے کی صورت میں فشریز کی طرح پابندی کھلوانے میں کئی سال لگیں گے۔ یونیڈو TRTA پروگرام کے انٹرنیشنل ایکسپرٹ کٹ چین نے کہا کہ پاکستان کو اچھا موقع ملا ہے، معیار کو بہتر بنا کر یورپی منڈی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ورنہ نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ سیمینار سے پلانٹ پروٹیکشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر طارق خان، محمد اشفاق، انجم علی بھٹر، عبدالغفار، کاشت کاروں کے نمائندوں میجر ریٹائرڈ طارق خان، فرید خاکوانی نے بھی خطاب کیا اور کاشت کارو ں کو فروٹ فلائی کے تدارک کے طریقوں سے آگاہ کیا۔
Load Next Story