پاک بھارت ہاکی مقابلوں کی راہ ہموار ہونے لگی
وزیراعظم نوازشریف کا بھارتی ہم منصب نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا خوش آئند ہوگا، صدر پی ایچ ایف
پڑوسی ملک ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز کھیلنے کیلیے رضامند ہے، صدر پی ایچ ایف۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور بھارتی ہاکی ٹیموں کے درمیان آئندہ ماہ ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر شیڈول سیریز کی راہ ہموار ہونے لگی۔
صدر پی ایچ ایف چوہدری اختررسول کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کا نومنتخب بھارتی ہم منصب نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا خوش آئند ہوگا،اس موقع پر وہ پاک بھارت ہاکی سیریز کی بحالی پر بھی بات کریں،بھارتی ٹیم پاکستان آنا چاہتی ہے لیکن دورہ اپنی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارتی حکومت کے درمیان جب بھی حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو دوسرے شعبوں کی طرح اس کا براہ راست اثر کھیلوں پر بھی پڑتا ہے۔
دونوں ملکوں کی ہاکی ٹیموں کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر آخری بار سیریز 2006ء میں ہوئی تھی جس میں گرین شرٹس نے روایتی حریف کو شکست دی، بعد ازاں پی ایچ ایف اور ہاکی انڈیا کے درمیان کھیل کی بحالی کے لیے متعدد بار سنجیدہ بنیادوں پرکوششوں کا آغازہوا ، شیڈول کے اعلانات بھی ہوتے رہے لیکن عین موقع پر حکومتوں کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے شائقین روایتی حریفوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلے دیکھنے سے محروم رہ گئے۔
8 سالہ طویل عرصے کے بعد پی ایچ ایف اور ہاکی انڈیا کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز طے پا چکی جس کے مطابق بھارتی ٹیم کو آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے، بھارت میں انتخابی عمل کے بعد نریندر مودی 26 مئی کو وزارت عظمی کا حلف اٹھا رہے ہیں،خصوصی دعوت پر وزیراعظم نوازشریف بھی تقریب کا حصہ بنیں گے،دونوں کے درمیان27 مئی کو ون ٹو ون ملاقات شیڈول ہوئی ہے، پی ایچ ایف کا خیال ہے کہ نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ملاقات سے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی وہاں ہاکی سیریز کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔
نمائندہ''ایکسپریس'' سے بات چیت میں صدر پی ایچ ایف اختر رسول نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ہاکی فیڈریشن کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر معاملات طے پاچکے، پہلے مرحلے میں بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور3 شہروں لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں ایک ، ایک میچ کھیلے گی، دوسرے مرحلے میں گرین شرٹس بھارت جائیں گے۔اختر رسول نے کہا کہ حکومت نے ہم سے وعدہ کیاکہ پاک بھارت ہاکی سیریزکے لیے جون کے وفاقی بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی۔
صدر پی ایچ ایف نے کہاکہ حال ہی میں میری وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بات ہوئی ہے، جس میں ان سے کہا کہ دونوں ملکوں کے دفتر خارجہ کے ذریعے ایسی بات چیت ہونی چاہیے جس کی وجہ سے ٹیموں کو ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ نئی بھارتی حکومت بننے کے بعد پاک بھارت سیریز کے معاملات کو طے کر لیا جائیگا۔چوہدری اختررسول نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف نومنتخب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلیے جارہے ہیں جوخوش آئند ہے، وزیراعظم کو پاک بھارت ہاکی سیریز کی بحالی پر بھی بات کرنی چاہیے کیونکہ بھارتی ہاکی ٹیم پاکستان آنا چاہتی ہے۔
صدر پی ایچ ایف چوہدری اختررسول کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کا نومنتخب بھارتی ہم منصب نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا خوش آئند ہوگا،اس موقع پر وہ پاک بھارت ہاکی سیریز کی بحالی پر بھی بات کریں،بھارتی ٹیم پاکستان آنا چاہتی ہے لیکن دورہ اپنی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارتی حکومت کے درمیان جب بھی حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو دوسرے شعبوں کی طرح اس کا براہ راست اثر کھیلوں پر بھی پڑتا ہے۔
دونوں ملکوں کی ہاکی ٹیموں کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر آخری بار سیریز 2006ء میں ہوئی تھی جس میں گرین شرٹس نے روایتی حریف کو شکست دی، بعد ازاں پی ایچ ایف اور ہاکی انڈیا کے درمیان کھیل کی بحالی کے لیے متعدد بار سنجیدہ بنیادوں پرکوششوں کا آغازہوا ، شیڈول کے اعلانات بھی ہوتے رہے لیکن عین موقع پر حکومتوں کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے شائقین روایتی حریفوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلے دیکھنے سے محروم رہ گئے۔
8 سالہ طویل عرصے کے بعد پی ایچ ایف اور ہاکی انڈیا کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز طے پا چکی جس کے مطابق بھارتی ٹیم کو آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے، بھارت میں انتخابی عمل کے بعد نریندر مودی 26 مئی کو وزارت عظمی کا حلف اٹھا رہے ہیں،خصوصی دعوت پر وزیراعظم نوازشریف بھی تقریب کا حصہ بنیں گے،دونوں کے درمیان27 مئی کو ون ٹو ون ملاقات شیڈول ہوئی ہے، پی ایچ ایف کا خیال ہے کہ نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ملاقات سے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی وہاں ہاکی سیریز کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔
نمائندہ''ایکسپریس'' سے بات چیت میں صدر پی ایچ ایف اختر رسول نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ہاکی فیڈریشن کے درمیان ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر معاملات طے پاچکے، پہلے مرحلے میں بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور3 شہروں لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں ایک ، ایک میچ کھیلے گی، دوسرے مرحلے میں گرین شرٹس بھارت جائیں گے۔اختر رسول نے کہا کہ حکومت نے ہم سے وعدہ کیاکہ پاک بھارت ہاکی سیریزکے لیے جون کے وفاقی بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی۔
صدر پی ایچ ایف نے کہاکہ حال ہی میں میری وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بات ہوئی ہے، جس میں ان سے کہا کہ دونوں ملکوں کے دفتر خارجہ کے ذریعے ایسی بات چیت ہونی چاہیے جس کی وجہ سے ٹیموں کو ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ نئی بھارتی حکومت بننے کے بعد پاک بھارت سیریز کے معاملات کو طے کر لیا جائیگا۔چوہدری اختررسول نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف نومنتخب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلیے جارہے ہیں جوخوش آئند ہے، وزیراعظم کو پاک بھارت ہاکی سیریز کی بحالی پر بھی بات کرنی چاہیے کیونکہ بھارتی ہاکی ٹیم پاکستان آنا چاہتی ہے۔