ڈینگی وائرس سے معمر شخص ہلاک شہر میں اسپرے مہم بند

انسداد ڈنگی پروگرام کے سربراہ وائرس سے ہلاکتیں اور بجٹ کی تفصیل خفیہ رکھنے لگے

پروگرام سربراہ کا42 ملین کے فنڈز ٹھکانے لگانے کیلیے فرم سے رابطہ،مشکوک خریداریوں اورمن پسندافسران کی بھرتی کی تحقیقات کرائی جائے،افسران۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی میں ڈنگی وائرس سے ایک مریض دم توڑگیا، انسداد ڈنگی پروگرام (ڈنگی پروینشن اینڈ کنٹرول پروگرام) کے سربراہ نے متوفی کے کوائف ظاہر نہیں کیے۔

پروگرام منیجر نے اپریل سے متاثرہ مریضوں کے اعدادو شمارجاری نہیں کیے، اعلیٰ حکام کی مداخلت پر انسداد ڈنگی پروگرام کو صرف 2 ماہ میں 42 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں، شہر میں ڈنگی وائرس کے خاتمے کی اسپرے مہم بھی شروع نہیںکی گئی، تفصیلات کے مطابق انسداد ڈنگی پروگرام کے ذمے دار افسر نے بتایا ہے کہ کراچی کے اورنگی ٹاؤن کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں65 سالہ مدد علی ڈنگی وائرس کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگیا ہے، متوفی گزشتہ کئی دن سے اسپتال میں زیر علاج تھا اطلاع انسداد ڈنگی پروگرام کے منیجرکو دی جس پر پروگرام کے منیجر نے ڈنگی وائرس سے ہونے والی اموات کے کوائف جاری نہ کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ سیکریٹری صحت کی ہدایت ہے کہ ڈنگی سے ہونے والی اموات کے کوائف جاری نہ کیے جائیں اورکسی کو بجٹ کی تفصیلات سے بھی آگاہ نہ کیاجائے۔


ڈنگی سرویلنس سیل کو انسداد ڈنگی پروگرام میں تبدیل کیے جانے کے بعد شعبہ2 ماہ سے غیر فعال ہے، انسداد پروگرام کے قیام کا مقصد حکومت سے فنڈز لینا پروگرام میں من پسند افسران بھرتی کرنا تھا، پروگرام کے قیام کے فوری بعد محکمہ صحت کے اعلیٰ افسر نے حکومت سے پروگرام کی مد میں 42 ملین روپے جاری کرائے ہیں، پروگرام کے تحت شہر بھر میں اسپرے کیا جانا تھا لیکن کراچی میں اسپرے مہم بندکردی گئی جبکہ ڈنگی وائرس سے آگہی کی کوئی مہم نہیں چلائی گئی، ذرائع کے مطابق انسداد ڈنگی پروگرام کے سربراہ نے من پسند فرم سے کمپیوٹر سمیت دیگر سامان کی خریداری کیلیے رابطہ کیا ہے اور خانہ پوری کی قانونی کارروائی کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈنگی پروگرام کو صرف2 ماہ کے لیے42 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں یہ فنڈز جون میں ختم ہونے والے سال سے قبل عجلت میں استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ فنڈز ضائع نہ ہوجائیں، انسدا ڈنگی پروگرام کے افسران نے پروگرام کے لیے کی جانے والی خریداریوں پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے اپیل کی ہے کہ فنڈز اور من پسند افسران کی بھرتی کی تحقیقات کرائیں، پروگرام کے سربراہ کے علاوہ ایک ایڈیشنل پروگرام منیجر اور5 ڈپٹی پروگرام منیجر تعینات کیے گئے ہیں جبکہ دیگر اسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے پروگرام غیر فعال ہے۔
Load Next Story