’ایکسپریس نیوز‘ کا طنز ومزاح سے بھرپور نیا پروگرام ’سیاسی تھیٹر‘
زندگی کے تمام شعبوں کی حقائق پرمبنی سچی خبریں اورلوگوں کے مسائل اجاگر کرنے میں ایکسپریس میڈیا گروپ کا کوئی ثانی نہیں
پروگرام میں ’’ سماجی مسائل اور وصی شاہ کے شاعرانہ تبصرے ، ٹونی اور سعدیہ کی مزاح سے بھرپور چھیڑچھاڑ، بابا اور چیلے کی مخبریاں ، سیاسی چٹکلے اورشرارتی گدگدیاں شامل ہیں ‘‘۔ فوٹو : شہباز ملک / ایکسپریس
' ایکسپریس میڈیا گروپ 'اپنے معیاراور انداز کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے جس کا باعث وہ تمام پروگرام، خبریں ، سیاسی تبصرے، کالم ، ڈرامہ سیریل اورتفریحی شو ہیں، جنہوں نے ملک اور بیرون ملک بسنے والے ناظرین اورقارئین کواپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
بلا شبہ ' ایکسپریس نیوز' ، 'ایکسپریس انٹرٹینمنٹ' نے ریٹنگ کی اس بھاگ دوڑ میں بڑی تیزی کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اوراب ان کا شمار پاکستان کے صف اول کے چینلز میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ' روزنامہ ایکسپریس' اور ' ایکسپریس ٹریبیون ' نے اخبارات کی دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔
زندگی کے تمام شعبوں کی حقائق پر مبنی سچی خبریں اور لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے میں ایکسپریس میڈیا گروپ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بعد اب بیرون ممالک بسنے والی پاکستانی کمیونٹی بھی ایکسپریس نیوز دیکھتی اور انٹرنیٹ کے ذریعے اردو اور انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبریں پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
'ایکسپریس نیوز' نے دہشتگردی، مہنگائی، بے روزگاری اور شدید لوڈ شیڈنگ جیسے اہم مسائل کے دورمیں ناظرین کو انٹرٹین کرنے کیلئے حال ہی میں '' سیاسی تھیٹر'' کے نام سے طنزومزاح سے بھرپور ایک ایسا پروگرام شروع کیا ہے جو چند ہی ہفتوں میں لوگوں کی اولین پسند بن چکا ہے۔ خاص طورپریہ پروگرام صرف کسی خاص عمر کے افراد کیلئے نہیں بلکہ اس پروگرام کو تو تمام عمر کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے اور قہقہے لگاتے ہیں۔
پروگرام میں '' سماجی مسائل اور وصی شاہ کے شاعرانہ تبصرے ، ٹونی اور سعدیہ کی مزاح سے بھرپور چھیڑچھاڑ، بابا اور چیلے کی مخبریاں ، سیاسی چٹکلے اورشرارتی گدگدیاں شامل ہیں ''۔ جبکہ پروگرام میں ہر بار ایک ایسی شخصیت کوبطور مہمان مدعو کیا جاتا ہے جوکسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی سے محظوظ کرنے کیلئے نوجوان گلوکارجوئیل جنید کی آواز میں مقبول گیت بھی سنائے جاتے ہیں۔ پروگرام کا سکرپٹ، ہدایات اورپیشکش ظفراقبال کی ہیں جبکہ پروگرام کے ایگزیکٹوپروڈیوسر محمد یاسر خان سواتی اورپروڈیوسرقاسم سندھو ہیں۔
'ایکسپریس نیوز' سے آن ائیرہونے والے ' سیاسی تھیٹر ' میں اداکارہ ریما، گلوکارہ شاہدہ منی، جواد احمد، ابرارالحق، حمیراارشد، اور فلمسٹارز اراشیخ شرکت کرچکے ہیں، جبکہ آنیوالے دنوں میں ناظرین اپنے بہت سے پسندیدہ فنکاروں، گلوکاروں، ماڈلز، ڈیزائنرز کے علاوہ کھلاڑیوں، سیاستدانوں اور دیگر شعبوں کی اہم شخصیات کی دلچسپ گفتگو بھی پروگرام میں دیکھ سکیں گے۔ پروگرام میں شریک ہونے والے معروف فنکاروں نے '' سیاسی تھیٹر'' جیسا منفرد پروگرام پیش کرنے پر ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کو مبارکباد کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
'' روزنامہ ایکسپریس '' سے بات کرتے ہوئے پاکستان فلم انڈسٹری پربرسوں راج کرنے والی اداکارہ و ہدایتکارہ ریما خان کا کہنا ہے کہ ''سیاسی تھیٹر'' ایک مکمل تفریحی پروگرام ہے جو موجودہ ملکی حالات میں لوگوں کے اداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر رہا ہے۔ پروگرام کی میزبانی کے فرائض وصی شاہ جیسا بہترین شاعراورمصنف ادا کررہا ہے جبکہ بابا، چیلے اورٹونی کے کردار ادا کرتے ہوئے سردار کمال، اکمل راہی اورہنی البیلا ناظرین اورشرکاء کو لوٹ پوٹ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے طویل فنی سفرکے دوران بہت سے پروگراموں میں شرکت کرچکی ہوں لیکن جو انداز اس پروگرام کا ہے اس نے مجھے بھی بہت متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' نے جہاں لوگوں تک سچی اور حقائق پرمبنی خبریں پہنچانے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ، وہیں اس ادارے کی طرف سے مسائل میں گھری عوام کوطنزو مزاح سے بھرپور''سیاسی تھیٹر'' کا تحفہ بہت انمول ہے۔
مجھے اس پروگرام میں آکر بہت اچھا لگا اوراب میں امریکہ واپس جاتے ہوئے اپنے ساتھ اس پروگرام کی بہت سی یادیں ، لے کرجاؤں گی۔ خاص طورپرنوجوان گلوکار نوئیل جنید کی گائیکی نے مجھے بہت متاثرکیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ 'سیاسی تھیٹر' کی بدولت ہماری میوزک انڈسٹری کوجوئیل کی شکل میں ایک بہترین ٹیلنٹ مل رہا ہے جو میرے نزدیک میوزک کے شعبے میں ایک بہترین اضافہ ثابت ہوگا۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ جب مجھے 'سیاسی تھیٹر' میں مدعو کیا گیا توپروگرام کا نام سن کرمجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ اب مجھے پاکستان میں جاری سیاسی دنگل پربات کرنا ہوگی یا پھر یہ کوئی سنجیدہ پروگرام ہے، لیکن اس پروگرام میں شرکت کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ آجکل جو دیگر چینلز پر پیش کیا جارہا ہے وہ صرف پیسہ کمانے کیلئے کیا جارہا ہے جبکہ اس پروگرام میں جہاں لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں لائی جارہی ہیں ،وہیں زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے والی اہم شخصیات سے بات چیت کرتے ہوئے ایک مثبت پیغام نوجوانوں تک پہنچایا جارہا ہے۔
واقعی ہی یہ منفرد انداز کا پروگرام ہے جس کو دیکھ کرمیرا خراب موڈ بھی اچھا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ' وہ واحد ادارہ ہے جس نے چند برسوں کے دوران اپنی ایک ایسی پہچان بنا لی ہے جس تک پہنچنے کیلئے صدیاں لگ جاتی ہیں۔ یہ سب اس ادارے کی شب وروزمحنت اورلگن سے کام کرنے والی ٹیم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ میری نیک تمنائیں '' سیاسی تھیٹر '' اور'' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کے ساتھ ہیں۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار جواد احمد نے کہا کہ اس وقت ملک بھرمیں نجی چینلز پر ایسے سیاسی طنزومزاح پرمبنی پروگرام پیش کئے جا رہے ہیںِ ، جن میں زندگی کے مختلف شعبوں کی اہم شخصیات کومدعو کرکے ان کا مزاق اڑایا جاتا ہے، لیکن 'سیاسی تھیٹر' موجودہ ریٹنگ کے دور میں واحد پروگرام ہے جس میں مہمانوں کی بہترانداز سے مہمان نوازی کی جاتی ہے اوراس میں شرکت کرکے مجھے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کابہترین موقع ملا۔
جہاں تک بات طنزومزاح کی ہے تواس کے ذریعے ان مسائل پر بڑی مہارت کے ساتھ توجہ دلائی جاتی ہے ، جوہمارے دیرینہ مسائل بن چکے ہیں ۔ مجھے ''سیاسی تھیٹر''کا یہ انداز بہت پسند آیا اور میں چاہوں گا کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ' اسی طرح اپنا معیار برقرار رکھتے ہوئے ناظرین کوحقائق پرمبنی خبروں کے ساتھ ایسے تفریحی پروگرام دکھانے کا سلسلہ جاری رکھے۔
گلوکار ابرارالحق، حمیراارشد اور فلمسٹار زارا شیخ نے کہا کہ ''سیاسی تھیٹر''ایک لاجواب پروگرام ہے۔ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پاکستان کا واحد گروپ ہے جوہمیشہ ہی نئے انداز کے ساتھ ناظرین اورقارئیں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ 'سیاسی تھیٹر' موجودہ مسائل زدہ حالات میں تازہ ہوا کے جھونکے جیسا لگتا ہے۔ ہفتے میں دوروزٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے لیکن ہفتہ بھر چلنے والے پرومو دیکھتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ پروگرام میں شرکت کرکے تو اچھا لگا، لیکن اس کا انداز دیکھ کرہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔ ہم دعا گوہیں کہ اللہ پاک اس پروگرام کو بہت سی کامیابیاں عطا کرے۔
'سیاسی تھیٹر'سے لائم لائٹ کا حصہ بننے والے نوجوان گلوکار جوئیل جنید کا کہنا ہے کہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح سے راتوں رات مجھے پہچان ملے گی۔ میں گزشتہ بارہ برس سے میوزک کے شعبے سے وابستہ ہوں لیکن ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' نے مجھے ایک ایسی پہچان دیدی ہے جس کے ذریعے اب میں اس پروفیشن میں مزید کام کرسکوں گا۔
واضح رہے کہ ''سیاسی تھیٹر'' پیر اور منگل کی شب گیارہ بجے ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔
بلا شبہ ' ایکسپریس نیوز' ، 'ایکسپریس انٹرٹینمنٹ' نے ریٹنگ کی اس بھاگ دوڑ میں بڑی تیزی کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اوراب ان کا شمار پاکستان کے صف اول کے چینلز میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ' روزنامہ ایکسپریس' اور ' ایکسپریس ٹریبیون ' نے اخبارات کی دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔
زندگی کے تمام شعبوں کی حقائق پر مبنی سچی خبریں اور لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے میں ایکسپریس میڈیا گروپ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بعد اب بیرون ممالک بسنے والی پاکستانی کمیونٹی بھی ایکسپریس نیوز دیکھتی اور انٹرنیٹ کے ذریعے اردو اور انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبریں پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
'ایکسپریس نیوز' نے دہشتگردی، مہنگائی، بے روزگاری اور شدید لوڈ شیڈنگ جیسے اہم مسائل کے دورمیں ناظرین کو انٹرٹین کرنے کیلئے حال ہی میں '' سیاسی تھیٹر'' کے نام سے طنزومزاح سے بھرپور ایک ایسا پروگرام شروع کیا ہے جو چند ہی ہفتوں میں لوگوں کی اولین پسند بن چکا ہے۔ خاص طورپریہ پروگرام صرف کسی خاص عمر کے افراد کیلئے نہیں بلکہ اس پروگرام کو تو تمام عمر کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے اور قہقہے لگاتے ہیں۔
پروگرام میں '' سماجی مسائل اور وصی شاہ کے شاعرانہ تبصرے ، ٹونی اور سعدیہ کی مزاح سے بھرپور چھیڑچھاڑ، بابا اور چیلے کی مخبریاں ، سیاسی چٹکلے اورشرارتی گدگدیاں شامل ہیں ''۔ جبکہ پروگرام میں ہر بار ایک ایسی شخصیت کوبطور مہمان مدعو کیا جاتا ہے جوکسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی سے محظوظ کرنے کیلئے نوجوان گلوکارجوئیل جنید کی آواز میں مقبول گیت بھی سنائے جاتے ہیں۔ پروگرام کا سکرپٹ، ہدایات اورپیشکش ظفراقبال کی ہیں جبکہ پروگرام کے ایگزیکٹوپروڈیوسر محمد یاسر خان سواتی اورپروڈیوسرقاسم سندھو ہیں۔
'ایکسپریس نیوز' سے آن ائیرہونے والے ' سیاسی تھیٹر ' میں اداکارہ ریما، گلوکارہ شاہدہ منی، جواد احمد، ابرارالحق، حمیراارشد، اور فلمسٹارز اراشیخ شرکت کرچکے ہیں، جبکہ آنیوالے دنوں میں ناظرین اپنے بہت سے پسندیدہ فنکاروں، گلوکاروں، ماڈلز، ڈیزائنرز کے علاوہ کھلاڑیوں، سیاستدانوں اور دیگر شعبوں کی اہم شخصیات کی دلچسپ گفتگو بھی پروگرام میں دیکھ سکیں گے۔ پروگرام میں شریک ہونے والے معروف فنکاروں نے '' سیاسی تھیٹر'' جیسا منفرد پروگرام پیش کرنے پر ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کو مبارکباد کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
'' روزنامہ ایکسپریس '' سے بات کرتے ہوئے پاکستان فلم انڈسٹری پربرسوں راج کرنے والی اداکارہ و ہدایتکارہ ریما خان کا کہنا ہے کہ ''سیاسی تھیٹر'' ایک مکمل تفریحی پروگرام ہے جو موجودہ ملکی حالات میں لوگوں کے اداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر رہا ہے۔ پروگرام کی میزبانی کے فرائض وصی شاہ جیسا بہترین شاعراورمصنف ادا کررہا ہے جبکہ بابا، چیلے اورٹونی کے کردار ادا کرتے ہوئے سردار کمال، اکمل راہی اورہنی البیلا ناظرین اورشرکاء کو لوٹ پوٹ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے طویل فنی سفرکے دوران بہت سے پروگراموں میں شرکت کرچکی ہوں لیکن جو انداز اس پروگرام کا ہے اس نے مجھے بھی بہت متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' نے جہاں لوگوں تک سچی اور حقائق پرمبنی خبریں پہنچانے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ، وہیں اس ادارے کی طرف سے مسائل میں گھری عوام کوطنزو مزاح سے بھرپور''سیاسی تھیٹر'' کا تحفہ بہت انمول ہے۔
مجھے اس پروگرام میں آکر بہت اچھا لگا اوراب میں امریکہ واپس جاتے ہوئے اپنے ساتھ اس پروگرام کی بہت سی یادیں ، لے کرجاؤں گی۔ خاص طورپرنوجوان گلوکار نوئیل جنید کی گائیکی نے مجھے بہت متاثرکیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ 'سیاسی تھیٹر' کی بدولت ہماری میوزک انڈسٹری کوجوئیل کی شکل میں ایک بہترین ٹیلنٹ مل رہا ہے جو میرے نزدیک میوزک کے شعبے میں ایک بہترین اضافہ ثابت ہوگا۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ جب مجھے 'سیاسی تھیٹر' میں مدعو کیا گیا توپروگرام کا نام سن کرمجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ اب مجھے پاکستان میں جاری سیاسی دنگل پربات کرنا ہوگی یا پھر یہ کوئی سنجیدہ پروگرام ہے، لیکن اس پروگرام میں شرکت کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ آجکل جو دیگر چینلز پر پیش کیا جارہا ہے وہ صرف پیسہ کمانے کیلئے کیا جارہا ہے جبکہ اس پروگرام میں جہاں لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں لائی جارہی ہیں ،وہیں زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے والی اہم شخصیات سے بات چیت کرتے ہوئے ایک مثبت پیغام نوجوانوں تک پہنچایا جارہا ہے۔
واقعی ہی یہ منفرد انداز کا پروگرام ہے جس کو دیکھ کرمیرا خراب موڈ بھی اچھا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ' وہ واحد ادارہ ہے جس نے چند برسوں کے دوران اپنی ایک ایسی پہچان بنا لی ہے جس تک پہنچنے کیلئے صدیاں لگ جاتی ہیں۔ یہ سب اس ادارے کی شب وروزمحنت اورلگن سے کام کرنے والی ٹیم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ میری نیک تمنائیں '' سیاسی تھیٹر '' اور'' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کے ساتھ ہیں۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار جواد احمد نے کہا کہ اس وقت ملک بھرمیں نجی چینلز پر ایسے سیاسی طنزومزاح پرمبنی پروگرام پیش کئے جا رہے ہیںِ ، جن میں زندگی کے مختلف شعبوں کی اہم شخصیات کومدعو کرکے ان کا مزاق اڑایا جاتا ہے، لیکن 'سیاسی تھیٹر' موجودہ ریٹنگ کے دور میں واحد پروگرام ہے جس میں مہمانوں کی بہترانداز سے مہمان نوازی کی جاتی ہے اوراس میں شرکت کرکے مجھے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کابہترین موقع ملا۔
جہاں تک بات طنزومزاح کی ہے تواس کے ذریعے ان مسائل پر بڑی مہارت کے ساتھ توجہ دلائی جاتی ہے ، جوہمارے دیرینہ مسائل بن چکے ہیں ۔ مجھے ''سیاسی تھیٹر''کا یہ انداز بہت پسند آیا اور میں چاہوں گا کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ' اسی طرح اپنا معیار برقرار رکھتے ہوئے ناظرین کوحقائق پرمبنی خبروں کے ساتھ ایسے تفریحی پروگرام دکھانے کا سلسلہ جاری رکھے۔
گلوکار ابرارالحق، حمیراارشد اور فلمسٹار زارا شیخ نے کہا کہ ''سیاسی تھیٹر''ایک لاجواب پروگرام ہے۔ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پاکستان کا واحد گروپ ہے جوہمیشہ ہی نئے انداز کے ساتھ ناظرین اورقارئیں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ 'سیاسی تھیٹر' موجودہ مسائل زدہ حالات میں تازہ ہوا کے جھونکے جیسا لگتا ہے۔ ہفتے میں دوروزٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے لیکن ہفتہ بھر چلنے والے پرومو دیکھتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ پروگرام میں شرکت کرکے تو اچھا لگا، لیکن اس کا انداز دیکھ کرہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔ ہم دعا گوہیں کہ اللہ پاک اس پروگرام کو بہت سی کامیابیاں عطا کرے۔
'سیاسی تھیٹر'سے لائم لائٹ کا حصہ بننے والے نوجوان گلوکار جوئیل جنید کا کہنا ہے کہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح سے راتوں رات مجھے پہچان ملے گی۔ میں گزشتہ بارہ برس سے میوزک کے شعبے سے وابستہ ہوں لیکن ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' نے مجھے ایک ایسی پہچان دیدی ہے جس کے ذریعے اب میں اس پروفیشن میں مزید کام کرسکوں گا۔
واضح رہے کہ ''سیاسی تھیٹر'' پیر اور منگل کی شب گیارہ بجے ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔