نگلیریا سے بچاؤ کیلیے پانی کے نمونوں کی جانچ کرائی جائے وزیر صحت
پانی میں کلورین کی مقدار کو جانچاجائے،گرمی میں نگلیریااورڈنگی سے بچاؤ کیلیے عوام کوآگہی دی جائے،ڈاکٹر صغیراحمد
آج وزیر بلدیات اور واٹر بورڈ حکام کیساتھ اجلاس ہوگا،انسداد ڈنگی پروگرام ڈنگی سے متاثرہ مریضوں کیلیے آئی سولیشن یونٹ قائم کرے۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
کراچی کے تمام سوئمنگ پول کے پانی میں کلورین کے مقدار کی جانچ کی جائے گی، پانی میں مطلوبہ مقدار کی کلورین شامل نہ کرنے والے سوئمنگ پولز میں نہانے پر پابندی لگائی جائے۔
ٹاؤن ہیلتھ افسران نگلیریا سے بچاؤ کیلیے اپنے علاقوں سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں جانچ کرائیں، یہ ہدایت صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر صغیراحمد نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی اجلاس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور انسداد ڈنگی پروگرام کے افسر شریک تھے، وزیر صحت نے کہا کہ کراچی میں موجود تمام سوئمنگ پول میں نہانے کی عارضی پابندی لگاکر سوئمنگ پول مالکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سوئمنگ پول میں کلورین کی مطلوبہ مقدار یقینی طورپر شامل کریں ۔
تاکہ نگلیریا کی وبا سے محفوظ رہا جاسکے، وزیر صحت نے ٹاؤن ہیلتھ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے سرکاری لیبارٹری سے جانچ کراکر معلوم کریں کہ پانی میں کلورین کی کتنی مقدار شامل ہے، اس حوالے سے آج وزیر بلدیات شرجیل میمن اور واٹربورڈ حکام کے ساتھ اجلاس ہوگا جس میں پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کرنے پر غور ہوگا،وزیر صحت نے ڈنگی وائرس سے بچاؤ کے لیے انسداد ڈنگی پروگرام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈنگی کی وبا سے نمٹنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرتے ہوئے اسپتالوں میں آئی سولیشن یونٹ قائم کریں تاکہ متاثرہ افراد کا علاج یقینی بنایا جاسکے۔
انھوں نے کہا کہ گرمی میں بارشوں کے دوران نگلیریا اور ڈنگی وائرس شدت اختیارکرتا ہے لہٰذاعوام کوان امراض سے بچاؤ کے لیے آگہی فراہم کی جائے،ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مقدار یکساں نہ ہونے سے نگلیریا کا مرض جنم لیتا ہے، نگلیریاکا جرثومہ صاف پانی میں نشوونما پاتا ہے، جس سے بچاؤکا واحد حل پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کرنا ہے پانی میں کلورین کی مقدار 0.25 پی پی ایم ہونے پر نگلیریا کا جرثومہ زندہ نہیں رہتا، پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارشامل کرنا واٹر بورڈ حکام کی ذمے داری ہے۔
شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں بعض مقامات پرکلورین کی مطلوبہ مقداردرست جبکہ بعض جگہوں میں کلورین کی مقدارکم ہونے سے مرض شدت اختیارکرسکتا ہے، شہر میں یہ مرض گرمیوں کے دوران کئی سال سے رپورٹ ہورہا ہے، ماہرین طب نے کہا ہے کہ شہری گرمیوں میں پانی کے ٹینک صاف کرکے ٹینکوں میں کلورین کی مقدار شامل کریں بصورت دیگر پانی کو اچھی طرح ابال کر استعمال کریں۔
صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر صغیر احمد نے نگلیریاکے بارے میں عوام میں عوامی شعور کی بیداری کے لیے صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن سے رابطہ کرکے باہمی تعاون کے ذریعے نگلیریا جرثومے پر قابو پانے کے حوالے سے گفتگوکی،صوبائی وزیر صحت اور صوبائی وزیر بلدیات نے دونوں محکموں کے حکام کا اجلاس آج 12 بجے دن کو طلب کرلیا ہے۔
کراچی کے تمام سوئمنگ پول کے پانی میں کلورین کے مقدار کی جانچ کی جائے گی، پانی میں مطلوبہ مقدار کی کلورین شامل نہ کرنے والے سوئمنگ پولز میں نہانے پر پابندی لگائی جائے۔
ٹاؤن ہیلتھ افسران نگلیریا سے بچاؤ کیلیے اپنے علاقوں سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں جانچ کرائیں، یہ ہدایت صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر صغیراحمد نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی اجلاس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور انسداد ڈنگی پروگرام کے افسر شریک تھے، وزیر صحت نے کہا کہ کراچی میں موجود تمام سوئمنگ پول میں نہانے کی عارضی پابندی لگاکر سوئمنگ پول مالکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سوئمنگ پول میں کلورین کی مطلوبہ مقدار یقینی طورپر شامل کریں ۔
تاکہ نگلیریا کی وبا سے محفوظ رہا جاسکے، وزیر صحت نے ٹاؤن ہیلتھ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے سرکاری لیبارٹری سے جانچ کراکر معلوم کریں کہ پانی میں کلورین کی کتنی مقدار شامل ہے، اس حوالے سے آج وزیر بلدیات شرجیل میمن اور واٹربورڈ حکام کے ساتھ اجلاس ہوگا جس میں پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کرنے پر غور ہوگا،وزیر صحت نے ڈنگی وائرس سے بچاؤ کے لیے انسداد ڈنگی پروگرام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈنگی کی وبا سے نمٹنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرتے ہوئے اسپتالوں میں آئی سولیشن یونٹ قائم کریں تاکہ متاثرہ افراد کا علاج یقینی بنایا جاسکے۔
انھوں نے کہا کہ گرمی میں بارشوں کے دوران نگلیریا اور ڈنگی وائرس شدت اختیارکرتا ہے لہٰذاعوام کوان امراض سے بچاؤ کے لیے آگہی فراہم کی جائے،ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مقدار یکساں نہ ہونے سے نگلیریا کا مرض جنم لیتا ہے، نگلیریاکا جرثومہ صاف پانی میں نشوونما پاتا ہے، جس سے بچاؤکا واحد حل پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کرنا ہے پانی میں کلورین کی مقدار 0.25 پی پی ایم ہونے پر نگلیریا کا جرثومہ زندہ نہیں رہتا، پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارشامل کرنا واٹر بورڈ حکام کی ذمے داری ہے۔
شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں بعض مقامات پرکلورین کی مطلوبہ مقداردرست جبکہ بعض جگہوں میں کلورین کی مقدارکم ہونے سے مرض شدت اختیارکرسکتا ہے، شہر میں یہ مرض گرمیوں کے دوران کئی سال سے رپورٹ ہورہا ہے، ماہرین طب نے کہا ہے کہ شہری گرمیوں میں پانی کے ٹینک صاف کرکے ٹینکوں میں کلورین کی مقدار شامل کریں بصورت دیگر پانی کو اچھی طرح ابال کر استعمال کریں۔
صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر صغیر احمد نے نگلیریاکے بارے میں عوام میں عوامی شعور کی بیداری کے لیے صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن سے رابطہ کرکے باہمی تعاون کے ذریعے نگلیریا جرثومے پر قابو پانے کے حوالے سے گفتگوکی،صوبائی وزیر صحت اور صوبائی وزیر بلدیات نے دونوں محکموں کے حکام کا اجلاس آج 12 بجے دن کو طلب کرلیا ہے۔