ملک بھرمیں یکساں فوڈ اسٹینڈرڈز پالیسی یقینی بنائیں گےزاہدحامد
ادارے پی ایس کیوسی اے اورپی سی ایس آئی آرکی جدیدلیبارٹریزسے فائدہ اٹھائیں، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
ادارے پی ایس کیوسی اے اورپی سی ایس آئی آرکی جدیدلیبارٹریزسے فائدہ اٹھائیں، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوٹو: فائل
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ پورے ملک میں نیشنل فوڈ اسٹینڈرڈز پالیسی ایک جیسی ہونی چاہیے نہ کہ صوبوں میں علیحدہ علیحدہ پالیسی قائم ہو۔
پاکستان کونسل سائٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ( پی سی ایس آئی آر) کے آفس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پاکستان اسٹینڈر اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے درمیان مسائل کے حل اور تجاویز کے بارے میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، اس موقع پر ڈی جی پی سی ایس آئی آر ڈاکٹر شہزاد اسلم، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اسدعثمان مانی، ڈائریکٹر پاکستان اسٹینڈر اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی محمد یسین اختر سمیت دیگر سرکاری عہدایداران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں اہم امور پرتبادلہ خیال کیاگیا اور محکمہ کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی گئیں۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ملک بھر میں ایک جیسی فوڈ اسٹینڈر پالیسی کو یقینی بنایاجائے گا اور اس سلسلے میں صوبوں کو اس پرعملدرآمد کے لیے ٹاسک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسٹینڈر اور کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے پاس جدید لیبارٹریز موجود ہیں، دوسروں اداروں کو چاہیے کہ وہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی ایس کیو سی اے اور پی سی ایس آئی آر اسٹینڈرائزڈ پالیسیاں اور پروگرام مرتب کریں تا کہ انڈسٹریل شعبے کی ترقی ممکن ہو سکے اور صارفین ملکی پیداوار سے مستفید ہو سکیں۔
پاکستان کونسل سائٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ( پی سی ایس آئی آر) کے آفس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پاکستان اسٹینڈر اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے درمیان مسائل کے حل اور تجاویز کے بارے میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، اس موقع پر ڈی جی پی سی ایس آئی آر ڈاکٹر شہزاد اسلم، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اسدعثمان مانی، ڈائریکٹر پاکستان اسٹینڈر اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی محمد یسین اختر سمیت دیگر سرکاری عہدایداران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں اہم امور پرتبادلہ خیال کیاگیا اور محکمہ کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی گئیں۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ملک بھر میں ایک جیسی فوڈ اسٹینڈر پالیسی کو یقینی بنایاجائے گا اور اس سلسلے میں صوبوں کو اس پرعملدرآمد کے لیے ٹاسک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسٹینڈر اور کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے پاس جدید لیبارٹریز موجود ہیں، دوسروں اداروں کو چاہیے کہ وہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی ایس کیو سی اے اور پی سی ایس آئی آر اسٹینڈرائزڈ پالیسیاں اور پروگرام مرتب کریں تا کہ انڈسٹریل شعبے کی ترقی ممکن ہو سکے اور صارفین ملکی پیداوار سے مستفید ہو سکیں۔