سپریم کورٹ نے نشریات سے متعلق جیوکی پٹیشن نمٹا دی

گستاخانہ پروگرام پر ملک بھر میں درج مقدمات سے متعلق درخواست پر سماعت ملتوی

گستاخانہ پروگرام پر ملک بھر میں درج مقدمات سے متعلق درخواست پر سماعت ملتوی فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے پیمرا کی اس یقین دہانی کے بعدکہ چینلزکی نشریات دکھانے کے حوالے سے2012کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمدکیا جائے گا۔

جیوکی درخواست نمٹا دی ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سماعت کی ۔فاضل عدالت نے اسلام آباد میںجسٹس جواد ایس خواجہ سے متعلق آویزاں بینرز اور پوسٹرز کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی آئی بی، سیکریٹری داخلہ کوحکم دیا کہ تحقیقات کے بعدکل28 مئی کو رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے کہاکیسے ممکن ہے کہ اسلام آباد میں اس نوعیت کے پوسٹر اور بینر لگے ہوں اور سیکریٹری داخلہ، ڈی جی آئی بی اس کی تفتیش نہ کریں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ بھی اس بات کی چھان بین کریں گے۔


اگرگمنام لوگ ملک کے ریڈ زون میں ایسی حرکت کر سکتے ہیں تو ملک کس حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔فاضل جج نے کہا کہ گمنام لوگ ریڈ زون میں آکر بینر لگا جاتے ہیںکسی کو پتہ ہی نہیں چلتا پھر ملک کتنا غیر محفوظ ہوگا۔عدالت نے جیوکی جانب سے اپنے کیخلاف ملک بھر میں درج ہونے والے تمام مقدمات کو ایک جگہ اکٹھا کرکے تفتیش کرانے کے حوالے سے درخواست کی سماعت28مئی تک ملتوی کر دی ۔ جیو ٹی وی کیخلاف مقدمات گستاخانہ پروگرام نشرکر نے کی وجہ سے درج کیے گئے ہیں۔عدالت میں پیمرا کی جانب سے ابراہیم ستی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ پیمراکو اس درخواست پرنوٹس نہیں ہوا تھا ۔

جسٹس گلزار احمدنے کہا کہ آپ نے ایکشن لیا ہے۔ابراہیم ستی نے کہا کہ ابھی تازہ واقعہ ہوا ہے جس کے بعد جیوکی جانب سے درخواست دائرکی گئی ہے ۔ابراہیم ستی نے پیمرا کے ڈائریکٹرلیگل سے مشاورت کے بعد بتایا کہ ہم عدالت کے 2012کے حکم کے مطابق اسی طرح ایکشن لے رہے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کریںگے۔اکرم شیخ نے کہا پیمرا کے اس بیان کے بعد میری داد رسی ہوگئی ہے۔اس موقع پر اکرم شیخ نے ابراہیم ستی کا طنزیہ انداز میں شکریہ ادا کیا تو ابراہیم ستی نے ان کو کمرہ عدالت میںجھاڑ پلا دی اور کہاکہ آپ اوور ایکٹنگ نہ کر یں، اگر شکریہ ادا کرنا ہے تو عدالت کاکریں ۔
Load Next Story