قبائلی علاقوں میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال
تحریک طالبان کو چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کرے
تحریک طالبان کو چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کرے فوٹو؛ فائل
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال خاصی خراب ہے۔ اگلے روز بھی باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند میں پاک افغان سرحد کے قریب گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری میں 15 شدت پسندوں کے ہلاک ہونے اور 30سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ سرحد پار سے وقفے وقفے سے فائرنگ بھی ہوتی رہی ہے۔ اس قسم کی اطلاعات سے یہی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں صورت حال کو خراب کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں میں ناپسندیدہ اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ وزیرستان میں بھی پاکستان کی سیکیورٹی فور سز نے کارروائیاں کیں۔ اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شرپسند عناصر دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ یوں تو پورے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اچھی نہیں ہے لیکن قبائلی علاقوں میں ہتھیار بند گروپوں کی وجہ سے صورت حال زیادہ خراب ہے۔
موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا، آغاز میں ان مذاکرات کے حوالے سے خاصی مثبت اطلاعات آتی رہیں لیکن اس دوران بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ ادھر قبائلی علاقوں میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال کو جلد ازجلد سنبھالا جانا چاہیے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو کسی کنارے لگائے۔
اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو پھر اس کو باقاعدہ بنایا جائے۔ اسی طرح تحریک طالبان کو بھی چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کرے کیونکہ کنفیوژن کے ماحول میں وہ گروپ طاقتو ر ہو رہے ہیں جو پاکستان کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ قبائلی علاقوں میں موجودہ صورت حال سے سب سے زیادہ وہاں کے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ مل کر امن و امان قائم کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں میں ناپسندیدہ اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ وزیرستان میں بھی پاکستان کی سیکیورٹی فور سز نے کارروائیاں کیں۔ اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شرپسند عناصر دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ یوں تو پورے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اچھی نہیں ہے لیکن قبائلی علاقوں میں ہتھیار بند گروپوں کی وجہ سے صورت حال زیادہ خراب ہے۔
موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا، آغاز میں ان مذاکرات کے حوالے سے خاصی مثبت اطلاعات آتی رہیں لیکن اس دوران بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ ادھر قبائلی علاقوں میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال کو جلد ازجلد سنبھالا جانا چاہیے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو کسی کنارے لگائے۔
اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو پھر اس کو باقاعدہ بنایا جائے۔ اسی طرح تحریک طالبان کو بھی چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کرے کیونکہ کنفیوژن کے ماحول میں وہ گروپ طاقتو ر ہو رہے ہیں جو پاکستان کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ قبائلی علاقوں میں موجودہ صورت حال سے سب سے زیادہ وہاں کے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ مل کر امن و امان قائم کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔