نواز شریف مودی ملاقات… مثبت اشارے

وزیراعظم مودی اوران کی ٹیم نے اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اورتقریب حلف برداری میں سارک کے سربراہان کوشرکت کی دعوت دی

وزیراعظم مودی اوران کی ٹیم نے اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اورتقریب حلف برداری میں سارک کے سربراہان کوشرکت کی دعوت دی فوٹو : فائل

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا جس گرم جوشی سے خیرمقدم کیا گیا ہے اور انھیں جو پروٹوکول دیا گیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے سارک کے دیگر لیڈروں کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت حفظ ماتقدم کے طور پر دی گئی تھی کہ مبادا بھارتی اپوزیشن نئے وزیراعظم پر یہ اعتراض نہ کر سکے کہ انھوں نے پاکستانی وزیراعظم کو کیوں خاص طور پر بلوایا ہے جب کہ مودی کا اصل مقصد اپنے پاکستانی ہم منصب کو ہی بلانا تھا۔

وزیراعظم مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے حالیہ الیکشن میں چونکہ پاکستان کے خلاف سخت موقف لیا تھا، اس لیے اگر وہ صرف وزیراعظم نواز شریف کو دورہ بھارت کی دعوت دیتے تو ان کے لیے سیاسی لحاظ سے خاصی مشکلات پیدا ہوتیں۔ بہرحال وزیراعظم مودی اور ان کی ٹیم نے اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور تقریب حلف برداری میں سارک کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی۔ یوں بھارتی وزیراعظم نے اپنی ساکھ کو بھی بچا لیا اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کر کے ایک مثبت پیغام بھی دے دیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھارت پہنچ کر کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں نیز بات چیت کا سلسلہ وہیں سے شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں 1999میں اپنے سابق دور حکومت میں چھوڑا تھا اور اس کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں، انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور وہ امن کا پیغام لے کر بھارت آئے ہیں۔ نئی دہلی میں بھارتی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے خلاف بداعتمادی، خوف اور نفرت کو ختم کرنا ہو گا۔ بعدازاں نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ ملاقات بہت مثبت رہی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات چاہتا ہے، سب کومل کر خطے میں امن کے لیے کام کرنا ہو گا۔ بھارتی وزیر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے خلاف جن منفی خیالات کا اظہار کیا اس کے بارے میں مبصرین کا تجزیہ ہے کہ وہ ان کی انتخابی مہم کا تقاضہ تھا جب کہ منصب اقتدار سنبھالنے کے بعد اب انھیں زمینی حقائق کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا اور ان کا نقطہ نظر تبدیل ہو جائے گا۔ ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ ایک دوسرے کے قریب آنے کا بہترین موقع ہے، دونوں ممالک کی حکومتوں کے پاس بھاری مینڈیٹ موجود ہے۔ یہ مینڈیٹ دو طرفہ تعلقات کو اہم سنگ میل پر لے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ثقافتوں اور روایات کے اشتراک کو طاقت بنا کر آگے چلا جا سکتا ہے، ہمیں خدشات، اعتراضات اور تحفظات مل کر ختم کرنے ہوں گے۔ نریندر مودی کے ساتھ وہیں سے تعلقات شروع کریں گے جہاں سابق وزیراعظم واجپائی کے ساتھ 1999میں ختم ہوئے تھے۔ نئے بھارتی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے لیے داخلہ، خارجہ اور دفاع کے کلیدی محکموں کے لیے جن وزراء کو نامزد کیا ہے وہ اپنے ہاکش یا عقابی طرز عمل کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مثلاً نامزد وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے بارے میں خاصے سخت بیانات دیے تھے تاہم اگر اب نئی حکومت کا پاکستان کے ساتھ افہام و تفہیم ہو جاتا ہے تو مودی صاحب کی کابینہ کو بھی اپنے لیڈر کا اتباع کرنا ہی ہوگا۔


وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بھارتی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے تیس فیصد منافع کی پیش کش کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں باہمی تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کر سکتی ہیں کیونکہ دونوں کے پاس واضح مینڈیٹ ہے جو دونوں ممالک کو ایک صف پر کھڑا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کو عدم استحکام اور عدم تحفظ کے ماحول سے نکالیں۔

ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ بھارتی عوام کے لیے خیر سگالی، محبت اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں، بھارت کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری پر انھیں خوشی ہو گی۔ پاکستان میں توانائی کی بہت زیادہ قلت ہے، اگر بھارتی سرمایہ کار پاکستان آتے ہیں تو انھیں خطیر منافع جو30 فیصد تک ہو سکتا ہے، کے ساتھ بہت پرکشش پاکستانی مارکیٹ ملے گی۔ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اس سے بڑھ کر کوئی بھی ملک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا پاکستان اور بھارت کی دونوں حکومتوں کے پاس اس وقت بھاری مینڈیٹ موجود ہے ہمیں ایک دوسرے کے خدشات دور کر کے خوشحالی ترقی اور پسماندگی دور کرنے کے لیے نئے باب کھولنے دیے جائیں اور آگے بڑھنے دیا جائے۔

دورہ بھارت کے حوالے سے کسی بھی قسم کا داخلی دباؤ نہیں تھا، انتہا پسند عناصر سے خوفزدہ نہیں ہوں اور مودی سے واجپائی جیسی پیش رفت کی امید رکھتے ہیں۔ بھارت آنا ایک اچھا اور بہترین موقع ہے، ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ قبل ازیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے تو ائر پورٹ پر بی جے پی کے رہنماؤں، اعلی بھارتی فوجی حکام، پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان اگلے روز جو ملاقات ہوئی اور جس انداز میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خیرمقدم کیا گیا، اس سے یہ واضح ہو گیا کہ دونوں ملکوں کی قیادت مستقبل میں انقلابی اقدامات کرے گی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان اگلے روز پندرہ منٹ کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ یوں دیکھا جائے تو سارک کے دیگر سربراہان کے مقابلے میں پاکستانی وزیراعظم کی زیادہ پذیرائی ہوئی۔ دونوں جانب سے حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں۔ نریندر مودی نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی ہے تاہم ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ بہرحال نریندر مودی کا پاکستان آنا ایک بڑا بریک تھرو ہو گا۔ نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ جناب نواز شریف صاحب آپ کا آنا بھارتی عوام کے لیے خصوصی جیسچر ہے۔ میڈیا میں یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ واہگہ اٹاری بارڈر پر تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی تنازعات کو کیسے حل کرتی ہے۔ کشمیر کا تنازع کور ایشو ہے۔ اس تنازع پر بھارتیہ جنتا پارٹی بہت سخت مؤقف رکھتی ہے۔

ادھر دونوں ملکوں کے درمیان پانی کا تنازع بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بھارت کا اس حوالے سے بھی رویہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ان تنازعات پر روایت سے ہٹ کر کوئی مؤقف اختیار کرنا خاصا مشکل کام ہو گا۔ جہاں تک باہمی تجارت کا تعلق ہے تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھ بھی جائیں اور دیگر تنازعات خصوصاً تنازع کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر تجارتی تعلقات کسی بھی وقت منقطع ہو سکتے ہیں۔

اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وزیراعظم نریندر مودی ان معاملات کو کیسے لے کر چلتے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھارت کے ساتھ کن شرائط کے تحت تعلقات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بظاہر اشارے مثبت نظر آ رہے ہیں لیکن مسائل کی گتھیاں الجھی ہوئی ہیں۔ جب تک انھیں سلجھایا نہیں جاتا دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم ہونے کی باتیں محض باتیں ہی رہیں گی اور ان کا حقیقت میں تبدیل ہونا خاصا مشکل ہو گا۔
Load Next Story