نواز مودی ملاقات کیا کھویا کیا پایا

وزیراعظم نواز شریف نے تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارتی میڈیا نے اپنی ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی

وزیراعظم نواز شریف نے تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارتی میڈیا نے اپنی ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی فوٹو : فائل

پاکستان اور بھارت میں ماحول سازگار بنانے، تجارتی تعلقات بڑھانے اور خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر رابطوں پر اتفاق کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں تصادم کو تعاون میں بدلنے کی کوشش کرنا ہوگی، الزام تراشی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب کہ بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان وعدے کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے، ممبئی حملہ کیس کے ملزموں کے خلاف کارروائی تیز کی جائے۔

پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل میں نواز مودی ملاقات بلاشبہ خطے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ کشمیر سمیت دیگر اہم ایشوز کے تصفیہ کی سمت سفر کا ایک نقطہ آغاز ہے، طبل جنگ کئی بار بج چکے جب کہ اب خطے کی تقدیر جرات مندانہ مکالمہ سے بدلے گی ۔ مگر ملاقات کے دوران اور بالخصوص وزیراعظم مودی نے ممبئی کیس پر جو چارج شیٹ پیش کی وزیراعظم نواز شریف اس کا موثر جواب نہیں دے سکے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی ٹیم مکمل تیاریوں کے ساتھ نہیں گئی ، جب کہ یہ جوائے ٹرپ نہیں تھا۔

اسی طرح بھارتی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کشمیر پر ہمارا جو موقف ہے اسے سب جانتے ہیں،اس کا بھی دوٹوک جواب نہیں دیا گیا بلکہ مسئلہ کشمیر پر تو مکمل خاموشی نظر آئی جب کہ ڈیموں کی متنازعہ تعمیر اورآبی مسئلہ پر بھی نواز ٹیم کی طرف سے پاکستانی موقف سامنے نہیں لایا گیا جو سخت افسوس ناک ہے ۔ ادھر بھارتی میڈیا کے غالب حصہ کے مطابق یہ ملاقات کافی اہم تھی ، نیز اس کے بڑے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے، ایک بڑے انگریزی اخبار نے اسے ''لینڈ مارک ڈائیلاگ '' کہا جس میں نواز شریف اور نریندر مودی کے مابین سرحد پار دہشت گردی موضوع بحث رہی۔

اس ملاقات میں مودی نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کی ، تاہم اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ بھارتی حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں سے عبارت ہے جب کہ پاکستان نے ہمیشہ اصولی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کی بہتری اور تصفیہ طلب مسائل و تنازعات پر مکالمہ کی ضرورت پر زور دیا ۔ لیکن خطے کی تقدیر بدلنے کی مثبت اور ٹھوس سیاسی، سفارتی اور عالمی مصالحتی کوششوں کو بھارتی حکمرانوں نے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ زیادہ دور نہیں اسی ملاقات کے پس منظر میں مودی سرکار نے کشمیرکو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے کارروائی کا آغاز کردیا جس پر مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداﷲ ، پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی اور کشمیری رہنمائوں نے وزیر مملکت برائے وزیراعظم آفس جتندر سنگھ کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔


یہ واضح مس فائر ہے کیونکہ اس قسم کی مہم جوئی اب مناسب نہیں ہے، کہا جاتا ہے کہ مودی نے نواز شریف سے یہ کہا کہ اگر بم دھماکے جاری رہے تو امن کی یہ کوشش اس کے شور میں دب جائے گی ، ظاہر ہے بھارت خود اس شوریدگی کا ذمے دار ہوگا ۔ پاکستان تو دہشت گردی کا ستم رسیدہ ہے۔ جو چیز نواز شریف کو بھارت لے گئی وہ تنازعات کے خاتمہ کا مینڈیٹ ہے۔ نئی مودی سرکار کو اپنی پالیسی ری سیٹ Re set کرنا ہوگی تاکہ خطے میں مسائل اور تنازعات کے حل کی نئی تاریخ لکھی جائے ۔ امریکا نے نواز شریف کی بھارت آمد اور نواز مودی ملاقات اور بات چیت پر محتاط مگر امید افزا خیالات کا اظہار کیا ہے ۔

وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ مودی کے امریکا میں خیر مقدم کے منتظر ہیں۔ نواز مودی مکالمہ کی اس ابتدائی دو طرفہ پیش رفت کے بعد بدگمانی، الزام تراشی،جارحیت ، جنگجوئی اور بدنیتی کے قصے ختم ہونے چاہئیں ۔ بھارتی صدر پرناب مکھر جی اور مودی نے اگرچہ وزیراعظم نوازشریف کو مین آف پیس(مرد امن) قرار دیا ہے تاہم دوسری طرف ایکسپریس نیوز کے مطابق نریندر مودی نے ملاقات میں نواز شریف کو اپنے5 مطالبات تھما دیے ۔ ملاقات میں کشمیر پر بات ہوئی نہ پانی کا مسئلہ اٹھایا گیا ۔ ملاقات کے بعد نواز شریف کو مودی رخصت کرنے بھی نہ آئے ، بھارتی میڈیا کے مطابق نریندر مودی نے پریس کے سامنے تو نوازشریف سے بڑی گرمجوشی دکھائی تاہم ملاقات کے وقت انھوں نے اچانک سخت موقف اپنا لیا اور دہشتگردی اور ممبئی حملوں کے معاملات اٹھا دیے۔

وزیراعظم نواز شریف نے تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارتی میڈیا نے اپنی ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی اور پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف خوب زہر اگلا ۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے الگ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نریندر مودی نے نواز شریف سے ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزا دینے کا مطالبہ دہرایا ہے، تاہم بھارتی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔

بھارت پاکستان کے ساتھ ستمبر 2012 میں ہونے والے تجارتی معاہدے پرکام کر سکتا ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان منگل کو نئی دہلی میں ہونے والی تاریخی ملاقات میں بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لیے آیندہ چار ماہ کے لیے روڈ میپ طے کرلیا گیا ہے ۔ وقت کے سیاسی، عسکری، تزویراتی اور اقتصادی تقاضے اور اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مودی انتظامیہ سنجیدگی سے خطے کی حرکیات اور نئے زمینی حقائق کے گہرے ادراک کے ساتھ گریٹر مکالمہ کے لیے مزید آگے بڑھے ۔ دنیا کی نظریں پاک بھارت تعلقات کے اس نئے دورانئے پر مرکوز ہیں ۔
Load Next Story