جب وہ ابھی تموچن تھا

صحرائے گوبی کا شاہزادہ تموچن ہو یا سلطنت عثمانیہ کا سلطان یہ سب وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں ...

Abdulqhasan@hotmail.com

انسانوں کی تاریخ اپنے آپ کو دہرانے سے باز نہیں آتی۔ تاریخ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ کوئی انسان اس سے خوش ہوتا ہے یا نہیں۔ بس یہ تاریخ کے موڈ کی بات ہے۔ آج مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے شاید یہ بعض لوگوں کے لیے خوشی کا سبب ہو یا برہمی کا اس کا ذکر نا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ صحرائے گوبی کی بے رحم وسعتوں کا نام ہے جن میں مال مویشی لے کر ایک نوجوان تموچن سرگرداں رہتا تھا۔ وہ ایک سردار کا بیٹا تھا ایک شہزادہ مگر بلا کا خود دار کسی سے مدد لینا اس کے لیے قابل برداشت نہیں تھا۔

اس کے والد کے چند دوستوں نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے والد کے دوستوں کے پاس جا کر اپنی سرداری کے لیے ان سے مدد طلب کرے۔ اس کی موروثی سرداری اس کی یتیمی کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اور اپنے والد کے دوستوں کی مدد سے وہ اسے واپس لے سکتا تھا۔ اس نے اپنے مخلص مشیروں کی بات سنی اس پر غور کیا لیکن اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے پر آمادہ نہ کر سکا۔ اس نے اپنے والد کے دوستوں سے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست لیکن اس وقت میری کوئی حیثیت نہیں کہ غربت کے اس زمانے میں اپنے والد کے دوست سرداروں سے کچھ عرض کر سکوں۔ میری کوئی حیثیت بن جائے تو میں اپنے بزرگوں کے پاس جائوں گا اور ان سے مدد مانگوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری مدد کریں گے۔

نوجوان تموچن کی حالت یہ تھی کہ وہ چوہے پکڑ کر کھا جاتا تھا اور بھوک کو مٹانے کے لیے کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا بے سہارا تموچن کے حالات بدل گئے اس نے رفتہ رفتہ اپنی سرداری واپس لینی شروع کر دی اور ایک دن وہ دوسرے سرداروں کی طرح ایک سردار بن گیا جس کی کمر میں تلوار تھی اور جس کی سواری میں پست قامت مگر تیز رفتار گھوڑے تھے۔ اس نے رفتہ رفتہ ایک لشکر تیار کر لیا اور اپنے علاقے اور عملداری سے باہر نکل کر غارتیں شروع کر دیں جو رفتہ رفتہ ایک دنیا میں پھیل گئیں اور بڑے بڑے اس کے نام سے کانپنے لگے۔


یہ تموچن چنگیز خان کے نام سے مشہور ہوا اس سے آگے دنیا کی تاریخ اس کا پتہ دیتی ہے کہ وہ اور اس کے خاندان کے سردار کہاں کہاں حکمرانی کرتے رہے اور اس کے لشکر کن بادشاہتوں کو زیر کرتے رہے اور ان کے لیے سامان عبرت بنتے رہے۔ تاریخ میں اگر کا لفظ بڑا خطرناک سمجھا جاتا ہے لیکن اگر تموچن ہمت نہ کرتا اور اپنی مویشیوں کی چراگاہوں تک محدود رہتا تو کون اس کا نام بھی جانتا، ترک سلطنت عثمانیہ کے آخری کامیاب سلطان نے ایک بار اپنے دربار میں حاضری دینے والے ایک سفیر سے کہا کہ تم جا کر اپنے بادشاہ کو بتا دو کہ سلطان سلیمان کے گھوڑوں کے قدم جہاں پڑتے ہیں وہ جگہ خود بخود اس کی ملکیت میں آ جاتی ہے۔

یہ وہ اعتماد تھا اور عزم کی طاقت تھی جس سے پوری دنیا آگاہ تھی اور تین براعظموں پر اس سلطان کا پرچم لہراتا تھا۔ بات دوسری طرف نکل جائے گی لیکن اس پرچم کو اتارنے کے لیے مغربی دنیا نے ایک عالمی جنگ کا ڈھونگ رچایا اور گزشتہ صدی کے نصف آخر میں عثمانی سلطنت کو ختم کر سکے اور اس کا پایہ تخت استنبول اس کے قبضے میں آ سکا۔ اس مسلمان بادشاہ کی سمندروں پر حکومت کا یہ حال تھا کہ کسی ملک کا کوئی جہاز اس کے سمندر کی طرف آنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ ذرا غور کیجیے کہ جب اس بادشاہ کا سمندروں کی بادشاہت سنبھالنے والا سردار انتقال کر گیا تو اس کی قبر پر اس کے نام کی جگہ لکھا گیا ''مات امیر البحر'' سمندروں کا بادشاہ مر گیا۔

صحرائے گوبی کا شاہزادہ تموچن ہو یا سلطنت عثمانیہ کا سلطان یہ سب وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں عزم و ہمت اور قومی محبت کے چراغ روشن تھے اور جن کو بجھانے کے لیے کسی کے پاس کوئی طریقہ موجود نہ تھا۔ اب اپنی تاریخ کی بات کرتے ہیں کوئی صدی نصف صدی پہلے مسلمانوں کے ہندوستان میں دو تین لیڈروں کا ایک گروہ ایک ہی عزم لے کر سامنے آیا۔ اقبال اور محمد علی جناح اور ان کے چند ساتھی۔ انھوں نے اس خطے میں مسلمانوں کی حکومت بحال کرنے کا عزم کر لیا۔ ہندوئوں کے اس خطے میں انھوں نے تعداد میں کم مسلمانوں کی حکومت قائم کر لی اور ان کے دشمن دیکھتے رہ گئے کہ یہ پھر کہاں سے آگئے لیکن یہ آ گئے تھے اورانھوں نے اس خطے میں ایک مسلمان حکومت پاکستان کے نام سے قائم کرلی۔

یہ مسلمان لیڈر اپنی اس کوشش میں کامیاب تو ہو گئے لیکن یہاں کی پرانی آبادی یعنی ہندوئوں میں آگ لگ گئی اور انھوں نے اپنی پوری سازشی طاقت کے ساتھ پاکستان دشمنی کا آغاز کر دیا۔ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی تو کامیاب نہیں ہو سکتی تھی اس لیے انھوں نے مسلمانوں کے اندر غدار تلاش کر لیے اور ان کی مدد سے وہ دن آ گیا جب ہندوئوں کے دل ٹھنڈے ہو گئے یعنی سقوط ڈھاکہ کا دن' یہ وہ دن تھا جب عہد حاضر کے تموچن اور سلطان سلیمان کے گھوڑے تھک گئے تھے اور کمزور لشکروں نے ان کی سلطنت پر غلبہ پا لیا تھا۔ آج ہم بھی ایسے ہی حالات میں گھر چکے ہیں اور اب ہمیں نئے گھوڑے تیار کرنے ہوں گے۔ ہمارا نیا سفر شروع ہونے والا ہے۔ بوڑھے سلطان کو اور نو عمر تموچن کو جوان ہونا ہو گا۔
Load Next Story