جنوبی پنجاب میں آم کے 58 باغات کی معائنہ کاری مکمل
عالمی معیارسے مطابقت رکھنے والے باغات کی رجسٹریشن 30مئی تک کر لی جائے گی،محکمہ زراعت
یورپی یونین کوفروٹ فلائی سے پاک سندھڑی، ثمربہشت وچونساآم برآمدکیے جائیں گے۔ فوٹو: فائل
LONDON:
فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ (ایف پی پی ڈی) نے جنوبی پنجاب میں آم کے 58 باغات کی معائنہ کاری مکمل کرلی جبکہ یورپی یونین کو فروٹ فلائی سے پاک صحت مند آم کی برآمدات کے حوالے سے عالمی معیارات سے مطابقت رکھنے والے باغات کومعائنہ کاری کے ذریعے الگ کرکے رجسٹرکرنے کا 25 روز ہ عمل 30 مئی تک مکمل کرلیا جائے گا۔
محکمہ زراعت پنجاب کے میڈیا لائزن یونٹ سے جاری بیان کے مطابق ماہرین کی ٹیم 50 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے آم کے باغات کا معائنہ کر رہی ہے اور اب تک ملتان، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، خانیوال، بہاولپور کے علاوہ شورکوٹ اور وہاڑی میں 58 باغات کی انسپیکشن مکمل ہو چکی ہے، صرف وہ ہی باغاٹ رجسٹر کیے جائیں گے جو معائنہ کاری کے دوران عالمی معیار کے مطابق پائے جائیں گے اور یہی باغات آم برآمد کرنے کے اہل قرار پائیں گے، معائنہ کاری مہم 5مئی کو شروع کی گئی تھی، اس دوران کسانوں کو آم کو فروٹ فلائی سے بچانے کے لیے ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔
محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ رجسٹریشن کے خواہشمند باغات مالکان ایف پی پی ڈی سے معائنہ کاری کے لیے فوری رابطہ کریں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایسے باغات جہان آم کے ساتھ چارہ کاشت کیا گیا ہے یا جہاں کینو، انار یا دیگر پھل بھی لگائے گئے ہیں ان کی معائنہ کاری نہیں کی جائے گی، اسی طرح آم کے ایسے باغات بھی معائنہ کاری کے اہل نہیں ہوں گے جس میں کریلا یا بینگن جیسی سبزیاں کاشت کی گئی ہوں گی۔ انھوں نے بتایا کہ رواں سال فروٹ فلائی سے پاک آم کی 3 اقسام یورپی یونین کو برآمد کی جائیں گی جن میں سندھڑی، ثمربہشت اور چونسا وسفید چونسا شامل ہیں۔
فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ (ایف پی پی ڈی) نے جنوبی پنجاب میں آم کے 58 باغات کی معائنہ کاری مکمل کرلی جبکہ یورپی یونین کو فروٹ فلائی سے پاک صحت مند آم کی برآمدات کے حوالے سے عالمی معیارات سے مطابقت رکھنے والے باغات کومعائنہ کاری کے ذریعے الگ کرکے رجسٹرکرنے کا 25 روز ہ عمل 30 مئی تک مکمل کرلیا جائے گا۔
محکمہ زراعت پنجاب کے میڈیا لائزن یونٹ سے جاری بیان کے مطابق ماہرین کی ٹیم 50 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے آم کے باغات کا معائنہ کر رہی ہے اور اب تک ملتان، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، خانیوال، بہاولپور کے علاوہ شورکوٹ اور وہاڑی میں 58 باغات کی انسپیکشن مکمل ہو چکی ہے، صرف وہ ہی باغاٹ رجسٹر کیے جائیں گے جو معائنہ کاری کے دوران عالمی معیار کے مطابق پائے جائیں گے اور یہی باغات آم برآمد کرنے کے اہل قرار پائیں گے، معائنہ کاری مہم 5مئی کو شروع کی گئی تھی، اس دوران کسانوں کو آم کو فروٹ فلائی سے بچانے کے لیے ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔
محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ رجسٹریشن کے خواہشمند باغات مالکان ایف پی پی ڈی سے معائنہ کاری کے لیے فوری رابطہ کریں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایسے باغات جہان آم کے ساتھ چارہ کاشت کیا گیا ہے یا جہاں کینو، انار یا دیگر پھل بھی لگائے گئے ہیں ان کی معائنہ کاری نہیں کی جائے گی، اسی طرح آم کے ایسے باغات بھی معائنہ کاری کے اہل نہیں ہوں گے جس میں کریلا یا بینگن جیسی سبزیاں کاشت کی گئی ہوں گی۔ انھوں نے بتایا کہ رواں سال فروٹ فلائی سے پاک آم کی 3 اقسام یورپی یونین کو برآمد کی جائیں گی جن میں سندھڑی، ثمربہشت اور چونسا وسفید چونسا شامل ہیں۔