طالبان میں پھوٹ پڑ گئی
ایسے حالات میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل بھی بے معنی ہو گیا ہے ...
ایسے حالات میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل بھی بے معنی ہو گیا ہے فوٹو: اے ایف پی/ فائل
طالبان کے مختلف گروہوں میں داخلی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور ان میں اندرونی مناقشت شروع ہو چکی ہے اور ہر دو جانب سے ایک دوسرے پر غداری، دہشت گردی اور وطن فروشی کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔ میڈیا میں شایع ہونے والی خبروں کے مطابق محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے خان سید عرف خالد سجنا کی زیر قیادت ایک اہم گروپ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
سجنا گروپ کے ترجمان اور طالبان مرکزی شوریٰ کے رکن اعظم طارق نے گزشتہ روز وزیرستان میں نامعلوم مقام پر میڈیا کو بتایا کہ ہمارے گروپ کے سربراہ خالد محسود عرف خان سید سجنا ہوں گے۔ تحریک طالبان سے علیحدگی کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا موجودہ انتظام سازشی ٹولے کی وجہ سے نادیدہ ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ترجمان نے اپنے دھڑے کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مختلف طریقوں سے تحریک طالبان کے موجودہ نظام کی اصلاح و اتحاد کی کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اعظم طارق نے مزید کہا کہ تحریک طالبان ایک جرائم پیشہ تنظیم بن چکی ہے۔
اعظم طارق کا یہ الزام اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس نے راز دروں خانہ کا افشاء کر دیا ہے۔ ترجمان کا مزید انکشاف بھی چشم کشا ہے کہ موجودہ طالبان قیادت جعلی ناموں سے عوامی مقامات پر بم حملے کرنے کے علاوہ مدرسوں اور دوسرے اداروں سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ ترجمان نے کہا ایسی حرکات ہمارے لیے کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔ ہم اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، عوامی املاک کو نقصان اور دھماکوں کو حرام سمجھتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کو دہشتگردی کے لیے بیرون ملک سے فنڈز ملتے ہیں۔ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے فضل اللہ سے اختلافات ہیں کیونکہ فضل اللہ امارت اسلامی افغانستان کے فیصلوں کا منحرف اور اسلام دشمن خفیہ طاقتوں کا ایجنٹ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارا گروپ تحریک طالبان جنوبی وزیرستان (ٹی ٹی پی ایس ڈبلیو) کے نام سے جانا جائے گا اور ہم امارت اسلامی افغانستان کے قائدین کی ہدایات پر آگے بڑھیں گے۔
طالبان میں تقسیم کی باتیں تو خاصے عرصے سے جاری تھیں لیکن اب یہ طشت ازبام ہو چکی ہیں' اب اس امر کا بھی امکان ہے کہ کہیں دونوں دھڑوں میں باقاعدہ جنگ نہ شروع ہو جائے' ایسے حالات میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل بھی بے معنی ہو گیا ہے' حکومت کو اس صورت حال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور محب الوطن طالبان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی حکومت سے تعاون کریں اور ملک کی مین اسٹریم میں شامل ہو جائیں۔
سجنا گروپ کے ترجمان اور طالبان مرکزی شوریٰ کے رکن اعظم طارق نے گزشتہ روز وزیرستان میں نامعلوم مقام پر میڈیا کو بتایا کہ ہمارے گروپ کے سربراہ خالد محسود عرف خان سید سجنا ہوں گے۔ تحریک طالبان سے علیحدگی کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا موجودہ انتظام سازشی ٹولے کی وجہ سے نادیدہ ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ترجمان نے اپنے دھڑے کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مختلف طریقوں سے تحریک طالبان کے موجودہ نظام کی اصلاح و اتحاد کی کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اعظم طارق نے مزید کہا کہ تحریک طالبان ایک جرائم پیشہ تنظیم بن چکی ہے۔
اعظم طارق کا یہ الزام اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس نے راز دروں خانہ کا افشاء کر دیا ہے۔ ترجمان کا مزید انکشاف بھی چشم کشا ہے کہ موجودہ طالبان قیادت جعلی ناموں سے عوامی مقامات پر بم حملے کرنے کے علاوہ مدرسوں اور دوسرے اداروں سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ ترجمان نے کہا ایسی حرکات ہمارے لیے کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔ ہم اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، عوامی املاک کو نقصان اور دھماکوں کو حرام سمجھتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کو دہشتگردی کے لیے بیرون ملک سے فنڈز ملتے ہیں۔ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے فضل اللہ سے اختلافات ہیں کیونکہ فضل اللہ امارت اسلامی افغانستان کے فیصلوں کا منحرف اور اسلام دشمن خفیہ طاقتوں کا ایجنٹ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارا گروپ تحریک طالبان جنوبی وزیرستان (ٹی ٹی پی ایس ڈبلیو) کے نام سے جانا جائے گا اور ہم امارت اسلامی افغانستان کے قائدین کی ہدایات پر آگے بڑھیں گے۔
طالبان میں تقسیم کی باتیں تو خاصے عرصے سے جاری تھیں لیکن اب یہ طشت ازبام ہو چکی ہیں' اب اس امر کا بھی امکان ہے کہ کہیں دونوں دھڑوں میں باقاعدہ جنگ نہ شروع ہو جائے' ایسے حالات میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل بھی بے معنی ہو گیا ہے' حکومت کو اس صورت حال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور محب الوطن طالبان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی حکومت سے تعاون کریں اور ملک کی مین اسٹریم میں شامل ہو جائیں۔