احتجاجی سیاست اور جمہوری تقاضے

جمہوریت میں حکومت پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کا مقصد بحران پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے ...

جمہوریت میں حکومت پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کا مقصد بحران پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے . فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو لاہور میں یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین اور لانگ مارچ کی سیاست سمجھ سے بالاتر ہے، مخالفین 4 سال انتظار کریں، قوم خود فیصلہ کرے گی کہ کسے ووٹ دینا ہے۔

جمہوریت میں حکومت پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کا مقصد بحران پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ تنقید مثبت انداز میں کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے تو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اسے روکنا اپوزیشن کا حق ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف مثبت تنقید کے بجائے بحران پیدا کرنے کی کوشش کی۔

سیاستدانوں کا یہ غیر جمہوری رویہ رہا کہ ہارنے والا اپنی شکست کو خوش دلی سے قبول کرنے کے بجائے دھاندلی کا الزام لگا کر حکومت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کرتا رہا اور پھر مظاہروں اور دھرنوں کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا' سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات سو فیصد شفاف نہیں ہوئے، کہیں نہ کہیں دھاندلی ضرور ہوتی رہی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے الیکشن ہی کو مشکوک قرار دے دیا جائے۔ لیکن ہمارے ہاں سیاستدانوں نے یہ فرض کر لیا کہ انھیں الیکشن ہر صورت جیتنا ہے خواہ اس کے لیے انھیں جائز و ناجائز حربہ ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔ہمارے ہاں یہ افسوس ناک روایت رہی ہے کہ جب کوئی سیاستدان الیکشن ہار جاتا ہے تو وہ اپنی ہار کو انجینئرڈ قرار دے کر حکومت اور الیکشن کمیشن پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 80ء اور 90ء کی دہائی میں ٹرین مارچ اور لانگ مارچ کرنے والوں کی ایسی ہی سیاست کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ماضی میں اپوزیشن نے حکومت کو گرانے کے لیے جلسے جلوس، لانگ مارچ، ٹرین مارچ اور تشدد کی سیاست کا راستہ اپنایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی بھی حکومت کو عوامی فلاح کے منصوبے اور ترقیاتی کام مکمل کرنے کا موقع نہ مل سکا،اس نے جتنا عرصہ بھی حکومت کی اپوزیشن کی جانب سے پیدا کردہ مشکلات سے نمٹنے ہی میں گزارا ۔اپوزیشن نے کسی بھی حکومت کو پرسکون انداز میں کام کرنے کا موقع نہ دیا۔


اس کی اس سیاست کا نتیجہ ملک میں افراتفری، خلفشار،بدامنی اور ہڑتالوں کی صورت میں مسلسل سامنے آنے لگا۔ملک میں پھیلی اس افراتفری میں کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی ۔ایک طویل عرصہ تک حکومتیں بننے اور ٹوٹنے کا سلسلہ یونہی چلتا رہا اور غیر جمہوری قوتیں ملک پر حکمرانی کرتی رہیں۔ اس افراتفری کی سیاست میں ملکی ترقی کا گراف گرتا چلا گیا اور معاشی نظام کمزور ہوتا چلا گیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جمہوریت بحال ہونے کے بعد سیاستدان مثبت رویہ اپناتے تاکہ جمہوری عمل چلتا اور قوت پکڑتا۔مگر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے اس عمل نے آمرانہ نظام کو دعوت دی اور جمہوریت کا تختہ الٹ دیا گیا۔حکومت کھونے کے بعد سیاستدانوں کے روئیے میں تبدیلی آئی اور انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے مل کر جمہوریت کی بحالی کے لیے کوشش شروع کر دی۔

یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف نے اپوزیشن میں آکر پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے مسائل پیدا نہیں کیے اور جمہوری عمل کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع دیا۔ان کی اس مثبت سیاست کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار ایک پارٹی سے دوسری پارٹی تک پرامن طریقے سے منتقل ہوا اور جمہوری سلسلہ چل نکلا۔اب میاں نواز شریف کی حکومت کو ایک سال گزر گیا ہے ،تو بعض اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔حکومت اگر درست کام نہیں کر رہی تو اس پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے مگر حکومت کی راہ میں بلا جواز رکاوٹ پیدا کرنا جمہوری روایات کے خلاف ہے۔

اقتدار حاصل کرنا ہر سیاسی پارٹی کا حق ہے،مگر اسے اپنا یہ حق حاصل کرنے کے لیے انتخابات کا راستہ اپنانا چاہیے،انتخابی عمل سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کرنا بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا بالکل درست ہے کہ ان کے مخالفین چار سال انتظار کریں اور جب انتخابات کا وقت آئے تو جی بھر کے سیاست کی جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اگر دس برس تک آگے بڑھنے دیا جائے تو پاکستان اس منزل کو حاصل کر لے گا جس کا خواب قائد اعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوڈ شیڈنگ نے کاروبار زندگی کو شدید متاثر کیا ہے ،مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی بھی منصوبہ راتوں رات مکمل نہیں ہو سکتا،یہ ٹیکنیکل عمل ہے جس کی تکمیل کے لیے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔

موجودہ حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور متعدد پر ہوم ورک جاری ہے۔وزیر اعظم نے بتایا کہ بھاشا ڈیم سے چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور اس ڈیم کی تکمیل میں آٹھ دس سال لگیں گے۔پاکستان اس وقت جن اندرونی اور بیرونی مسائل میں جکڑا ہوا ہے اس کا بھی تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ مل کر ملکی ترقی میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور ایجی ٹیشن کی سیاست سے گریز کریں۔ایجی ٹیشن کی سیاست سے مسائل بڑھیںگے اور ملک مزید مسائل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بہتر ہے کہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کا جمہوری رویہ اپنایا جائے۔
Load Next Story