یوتھ بزنس لون اسکیم وزیراعظم نواجوانوں کو خود چیک دیں گے
5350کامیاب درخواست گزاروں میں قرضوں کی تقسیم چندروزمیں متوقع ہے
دوسری قرعہ انداز ی آئندہ ماہ متوقع ہے،ذرائع،نیشنل بینک ہفتہ کوکھلے گا،صدر فوٹو: فائل
وزیراعظم نواز شریف یوتھ بزنس لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں کامیاب نوجوانوں کو بذات خود قرضوں کے چیکس تقسیم کریں گے۔
نیشنل بینک کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون اسکیم کے درخواست گزاروں کی یہ پہلی قرعہ اندازی 28 فروری کو ہوئی تھی جس میں کامیاب ہونے والے درخواست گزاروں میں سے 5350 نے مطلوبہ دستایزات مکمل کرلی ہیں جنہیں آئندہ چند روز میں وزیراعظم خود منظورشدہ قرضوں کے چیکس تقسیم کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے والوں کی ایک بڑی تعداد نے زراعت کے مختلف شعبوں کے کاروبار کے لیے قرضے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے زرعی قرضوں کے حجم میں اضافے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوں گی ۔
کیونکہ مرکزی بینک بھی زرعی قرضوں کے تیزرفتار اجرا کے حوالے سے بینکوں کو پہلے ہی مختلف نوعیت کی اسکیمیں متعارف کرانے کی ہدایات جاری کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال نیشنل بینک آف پاکستان زرعی قرضوں کی مد میں تقریباً 60 ارب روپے مالیت کے قرضے جاری کرچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائم منسٹریوتھ بزنس لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں کامیاب درخواست کنندگان کوصرف8 فیصد رعایتی شرح سود پر3 ارب روپے سے زائد مالیت کے قرضے جاری کیے جائیں گے، اسکیم کے تحت قرضوں کے حصول کے لیے نیشنل بینک کو مجموعی طور پر60 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے والے درخواست گزاروں کو ہی قرعہ اندازی کا اہل قراردیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسکیم کی دوسری قرعہ اندازی بھی آئندہ ماہ متوقع ہے۔
اس ضمن میں نیشنل بینک کے صدر سید احمد اقبال اشرف نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون اسکیم کے درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے نیشنل بینک کی مخصوص برانچیں ہفتہ31 مئی کو بھی کھلی رہیں گی، اسکیم کے کامیاب 5350 درخواست گزاروں کوآفر لیٹرز جاری کیے جاچکے ہیں اور اس حوالے سے انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اطلاع دے دی گئی ہے، ہفتہ کو برانچز کھولنے کا مقصد قرض اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں کامیاب نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ درخواست گزار جنہوں نے اپنی مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں کیں وہ بھی جلد ازجلد اپنی دستاویزات مکمل کریں تاکہ انہیں بھی قرعہ اندازی میں شامل کرتے ہوئے قرضوں کے آفرلیٹرز جاری کیے جاسکیں۔
نیشنل بینک کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون اسکیم کے درخواست گزاروں کی یہ پہلی قرعہ اندازی 28 فروری کو ہوئی تھی جس میں کامیاب ہونے والے درخواست گزاروں میں سے 5350 نے مطلوبہ دستایزات مکمل کرلی ہیں جنہیں آئندہ چند روز میں وزیراعظم خود منظورشدہ قرضوں کے چیکس تقسیم کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے والوں کی ایک بڑی تعداد نے زراعت کے مختلف شعبوں کے کاروبار کے لیے قرضے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے زرعی قرضوں کے حجم میں اضافے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوں گی ۔
کیونکہ مرکزی بینک بھی زرعی قرضوں کے تیزرفتار اجرا کے حوالے سے بینکوں کو پہلے ہی مختلف نوعیت کی اسکیمیں متعارف کرانے کی ہدایات جاری کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال نیشنل بینک آف پاکستان زرعی قرضوں کی مد میں تقریباً 60 ارب روپے مالیت کے قرضے جاری کرچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائم منسٹریوتھ بزنس لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں کامیاب درخواست کنندگان کوصرف8 فیصد رعایتی شرح سود پر3 ارب روپے سے زائد مالیت کے قرضے جاری کیے جائیں گے، اسکیم کے تحت قرضوں کے حصول کے لیے نیشنل بینک کو مجموعی طور پر60 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے والے درخواست گزاروں کو ہی قرعہ اندازی کا اہل قراردیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسکیم کی دوسری قرعہ اندازی بھی آئندہ ماہ متوقع ہے۔
اس ضمن میں نیشنل بینک کے صدر سید احمد اقبال اشرف نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون اسکیم کے درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے نیشنل بینک کی مخصوص برانچیں ہفتہ31 مئی کو بھی کھلی رہیں گی، اسکیم کے کامیاب 5350 درخواست گزاروں کوآفر لیٹرز جاری کیے جاچکے ہیں اور اس حوالے سے انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اطلاع دے دی گئی ہے، ہفتہ کو برانچز کھولنے کا مقصد قرض اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں کامیاب نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ درخواست گزار جنہوں نے اپنی مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں کیں وہ بھی جلد ازجلد اپنی دستاویزات مکمل کریں تاکہ انہیں بھی قرعہ اندازی میں شامل کرتے ہوئے قرضوں کے آفرلیٹرز جاری کیے جاسکیں۔