ضلع شرقی کی عدالتوں کو منتقل کرنے کیخلاف درخواست پر حکم امتناع

سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،درخواست گزار، ہائیکورٹ نے معاملہ جوں کا توں رکھنے کا حکم دیدیا

وکلا دفاتر کوکمرشل بجلی بلوں کے اجرا پرجواب طلب،سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں زائدداخلوں پرحکم امتناع میں توسیع فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کراچی بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ضلع شرقی کی عدالتوں کو منتقل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے معاملہ جوں کا توں رکھنے کا حکم دے دیا ۔

حکومت سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کیے ہیں ، کراچی بار کے صدر صلاح الدین ،سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر زیڈ کے جتوئی،جنرل سیکریٹری عاصم اقبال ،نثار احمد شر ودیگرکی جانب سے دائر درخواست میں حکومت سندھ اور صوبائی محکمہ داخلہ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاہے کہ شرقی کی عدالتوں کو منتقل کرنے سے وکلا تقسیم ہوجائیں گے،سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ندیم اختر پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے مضر صحت اشیائے خوردونوش اور مشروبات کی فروخت کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی ،حکومت سندھ اور کمشنرکراچی سے 3جولائی تک جواب طلب کرلیا۔


درخواست گذار یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،درخواست گذار نے موقف اختیار کیا تھا کہ سندھ بھر میں مضر صحت گھی ،آئل ،مشروبات ،چائے ،آٹا اوردیگر اشیاء میں ملاوٹ کرکے فروخت کی جارہی ہیں،عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ،حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے 3جولائی تک جواب طلب کرلیا،سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دورکنی بنچ نے وکلا کے دفاتر کو بجلی کمرشل بلوں کے اجرا کے خلاف دائر درخواست پر حکم امتناع جاری کردیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ پر مشتمل دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت ایڈوکیٹ رشید اے رضوی نے موقف اختیار کیا کہ وکلا کے دفاتر رہائشی علاقوںمیں ہیں اور انہیں ماہانہ 25سے 30ہزار روپے کا بل آتا تھا ،اب کے الیکٹرک نے تجارتی بنیادوں پر بلوں کا اجرا شروع کردیا،جس کے باعث بل کی رقم ماہانہ 90ہزار روپے سے زائدہوگئی ہے ،رہائشی علاقوں سے تجارتی بنیادوں پر بلوں کی وصولی غیرقانونی طریقے سے کی جارہی ہے ۔

ہائی کورٹ نے سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں گنجائش سے زائد داخلوں پر حکم امتناع میں توسیع کردی ،سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی ایم شیخ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر مبشر سمیت 7دیگر درخواست گزاروں کی درخواست پر کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت نیب کے وکیل نے عدالت میں جواب داخل کرایا کہ سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی 279نشستوں پر 315طلبا کو داخلہ دے دیا گیا ہے جو معیار پر بھی پورا نہیں اترتے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے پر فی کس 50ہزار روپے زائد وصول کیے ہیں ،دوران سماعت سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے وکیل کی عدم حاضری پر عدالت نے حکم امتناع میں توسیع کردی ۔
Load Next Story