سی آئی اے نے پاکستان میں ڈرون حملے بند کردیے امریکی میڈیا
امریکی صدر نے یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تاہم پاکستان کا نام نہیں لیا
اب پاکستان کے قبائلی علاقے کے بجائے القاعدہ کی سرگرمیوں کا مرکز یمن اور شام ہے، امریکی صدر براک اوباما۔ فوٹو: فائل
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستان میں ڈرون حملوں کا پروگرام ختم کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ رہنما مارے جا چکے ہیں اور اب پاکستان کے قبائلی علاقے کے بجائے القاعدہ کی سرگرمیوں کا مرکز یمن اور شام ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر اوباما نے امریکی ملٹری اکیڈمی میں خارجہ پالیسی سے خطاب میں القاعدہ کے خاتمے کیلیے یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تاہم ان ممالک کے ساتھ پاکستان کا نام نہیں لیا گیا ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے افغانستان میں قائم سی آئی اے کے بیس کیمپ کی جانب سے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کیے جاتے تھے تاہم امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد یہ انٹیلی جنس شئیرنگ بھی رک جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ابھی بھی اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم یہ ڈرون حملوں سے گریز کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ رہنما مارے جا چکے ہیں اور اب پاکستان کے قبائلی علاقے کے بجائے القاعدہ کی سرگرمیوں کا مرکز یمن اور شام ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر اوباما نے امریکی ملٹری اکیڈمی میں خارجہ پالیسی سے خطاب میں القاعدہ کے خاتمے کیلیے یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تاہم ان ممالک کے ساتھ پاکستان کا نام نہیں لیا گیا ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے افغانستان میں قائم سی آئی اے کے بیس کیمپ کی جانب سے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کیے جاتے تھے تاہم امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد یہ انٹیلی جنس شئیرنگ بھی رک جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ابھی بھی اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم یہ ڈرون حملوں سے گریز کر رہے ہیں۔