ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا فیصلہ قابل عمل نہیں تھاپی سی بی
بین الاقوامی شہرت کی حامل کمپنی نے ایکسٹرنل کے بعد انٹرنل آڈٹ بھی مکمل کرلیا، ترجمان پی سی بی
سابق چیئرمین ذکا اشرف کی طرف سے من پسند کمپنی سے آڈٹ کرانے کے احکامات کا مقصد اپنا نام کلیئر کرانے کی راہ ہموار کرنا تھا،پی سی بی فوٹو:فائل
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ذکا اشرف کی بحالی سمیت تمام اقدامات کالعدم قرار دے دیے گئے تھے۔لہٰذا ان کی طرف سے ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا فیصلہ بھی قابل عمل نہیں تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بین الاقوامی شہرت کی حامل کمپنی نے ایکسٹرنل کے بعد انٹرنل آڈٹ بھی مکمل کرلیا جس میں مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات سامنے آئیں، سابق چیئرمین ذکا اشرف کی طرف سے ایک من پسند غیرمعروف کمپنی کے ذریعے آڈٹ کرانے کے احکامات کا مقصد اپنا نام کلیئر کرانے کی راہ ہموار کرنا تھا، یہ سلسلہ جاری رکھنا بورڈ کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوتا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بین الاقوامی شہرت کی حامل کمپنی نے ایکسٹرنل کے بعد انٹرنل آڈٹ بھی مکمل کرلیا جس میں مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات سامنے آئیں، سابق چیئرمین ذکا اشرف کی طرف سے ایک من پسند غیرمعروف کمپنی کے ذریعے آڈٹ کرانے کے احکامات کا مقصد اپنا نام کلیئر کرانے کی راہ ہموار کرنا تھا، یہ سلسلہ جاری رکھنا بورڈ کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوتا۔