90 کروڑ روپے خرچ کرنے کا الزام سراسر غلط ہے آصف باجوہ
اپنے دور میں سابق اولمپئنز کو عہدے نہیں دیے جس کی وجہ سے وہ مخالف ہوگئے، آصف باجوہ
آڈٹ رپورٹ سامنے لانا آڈیٹر جنرل آف پاکستان ،حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کام ہے، آصف باجوہ فوٹو: فائل
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری آصف باجوہ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دور میں سابق اولمپئنز کو عہدے نہیں دیئے جس کی وجہ سے وہ مخالف ہوگئے۔
''ایکسپریس نیوز'' کے پروگرام'' اسپورٹس آور'' میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہا کہ میرے دور میں 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کا الزام سراسر غلط ہے، ہمیں 6 سال میں حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر56 کروڑ ملے جبکہ 6 کروڑ کی گرانٹ کھلاڑیوں کو انعامات کی صورت میں ملی تھی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گذشتہ چار سال کا آڈٹ کیا ہے جس میں پی ایچ ایف کو کلین چٹ دی گئی۔ آڈٹ رپورٹ سامنے لانا آڈیٹر جنرل آف پاکستان ،حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کام ہے، حکومت کے پاس اس حوالے سے سمری گئی ہے جس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ نے اعداد وشمارلکھ کر دیے ہیں۔اس رپورٹ میں پی ایچ ایف کے مالی نظام کی تفریق کی گئی ہے اگر اب بھی کسی کو اعتراض ہو تو وہ بین الصوبائی رابطے کی وزارت،آڈیٹر جنرل اور پبلک اکائونٹس کمیٹی سے رابطہ کرسکتا ہے۔
اگر فنڈز غلط استعمال ہوئے ہیں تو بتائیں۔ انھوں نے شہناز شیخ کو قومی ہاکی ٹیم کا کوچ مقرر کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے گذشتہ دور میںٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی،2006 کے ورلڈ کپ میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی، اسی سال دوحا قطر میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم چین سے بھی ہار گئی۔آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ فیڈریشن پر تنقید کر کے عہدے حاصل کرنے والے سابق اولمپئنز اولڈ ایج بینیفٹ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اب سمیع اللہ کو بھی پی ایچ ایف کا حصہ بن جانا چاہیے۔
آصف باجوہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے دور میں پی ایچ ایف کو مضبوط اسٹرکچر فراہم کیا۔ سکول،کالج اور یونیورسٹیز میں ہاکی کو فروغ دیا جانا چاہیے، اگر گراس روٹ لیول پر کام نہ کیا گیا تو پاکستانی ہاکی اور نیچے چلی جائے گی۔ اس موقع پر پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان حسن سردار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ایف کی قائم کردہ اکیڈمیز سے کوئی پلیئرسامنے نہیں آیا، سابق اولمپئنز کے مختلف عہدوں پر فائز ہونے سے ہاکی پر اتنی جلدی کوئی فرق نہیں پڑے گاکیونکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے۔
''ایکسپریس نیوز'' کے پروگرام'' اسپورٹس آور'' میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہا کہ میرے دور میں 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کا الزام سراسر غلط ہے، ہمیں 6 سال میں حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر56 کروڑ ملے جبکہ 6 کروڑ کی گرانٹ کھلاڑیوں کو انعامات کی صورت میں ملی تھی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گذشتہ چار سال کا آڈٹ کیا ہے جس میں پی ایچ ایف کو کلین چٹ دی گئی۔ آڈٹ رپورٹ سامنے لانا آڈیٹر جنرل آف پاکستان ،حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کام ہے، حکومت کے پاس اس حوالے سے سمری گئی ہے جس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ نے اعداد وشمارلکھ کر دیے ہیں۔اس رپورٹ میں پی ایچ ایف کے مالی نظام کی تفریق کی گئی ہے اگر اب بھی کسی کو اعتراض ہو تو وہ بین الصوبائی رابطے کی وزارت،آڈیٹر جنرل اور پبلک اکائونٹس کمیٹی سے رابطہ کرسکتا ہے۔
اگر فنڈز غلط استعمال ہوئے ہیں تو بتائیں۔ انھوں نے شہناز شیخ کو قومی ہاکی ٹیم کا کوچ مقرر کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے گذشتہ دور میںٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی،2006 کے ورلڈ کپ میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی، اسی سال دوحا قطر میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم چین سے بھی ہار گئی۔آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ فیڈریشن پر تنقید کر کے عہدے حاصل کرنے والے سابق اولمپئنز اولڈ ایج بینیفٹ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اب سمیع اللہ کو بھی پی ایچ ایف کا حصہ بن جانا چاہیے۔
آصف باجوہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے دور میں پی ایچ ایف کو مضبوط اسٹرکچر فراہم کیا۔ سکول،کالج اور یونیورسٹیز میں ہاکی کو فروغ دیا جانا چاہیے، اگر گراس روٹ لیول پر کام نہ کیا گیا تو پاکستانی ہاکی اور نیچے چلی جائے گی۔ اس موقع پر پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان حسن سردار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ایف کی قائم کردہ اکیڈمیز سے کوئی پلیئرسامنے نہیں آیا، سابق اولمپئنز کے مختلف عہدوں پر فائز ہونے سے ہاکی پر اتنی جلدی کوئی فرق نہیں پڑے گاکیونکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے۔