طالبان کی آپس میں رسہ کشی کے باعث مذاکرات معطل ہوئے جو اچھا نہیں حافظ سعید

مذاکرات کرنیوالوں سے قانون کے مطابق حل نکالا جائے، موجودہ ملکی حالات میں نظریہ پاکستان کا احیا بہت ضروری ہوچکا ہے

امریکا اور بھارت کی سازشوں سے معاملات گمبھیر ہورہے ہیں وزیراعظم اے پی سی طلب کرلیں، ملتان میں پریس کانفرنس ڈیرہ، مظفر گڑھ کا خطاب۔ فوٹو: فائل

جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات اچھی پیش رفت تھی لیکن ان کی آپس میں اقتدار کی رسہ کشی سے مذاکرات معطل ہوئے جو اچھا نہیں ہوا۔

معاملات ٹھنڈے کرکے مذاکرات کیے جائیں جو گروپ مذاکرات نہ کرنا چاہے تو ان کا پاکستانی قانون کے مطابق حل نکالا جائے۔ حکومت کو طالبان کے ہر گروپ کو الگ الگ ڈیل کرنا چاہئے۔ انہوں نے گزشتہ شب بوسن روڈ پر واقع ہوٹل میں یحیٰی مجاہد' خواجہ سیف الرحمٰن' میاں سہیل احمد و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سراپا دہشت گرد ہے ان کا آنا بھارت کے اپنے وجود کے لئے خطرناک ہے۔ ان کی پالیسیاں اسلام دشمنی کی بنیاد پر ہیں۔


آشام' احمد آباد اور حیدر آباد میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے مساجد پر حملے کئے جارہے ہیں اور اذان پر پابندی کی باتیں کی جارہی ہیں اس سے بھارت کے مسلمان اکٹھے ہونگے اور دو قومی نظریہ اجاگر ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکا و بھارت کی سازشوں سے معاملات بہت گھمبیر ہورہے ہیں ایسے میں وزیراعظم میاں نواز شریف کو فوری طور پر اے پی سی طلب کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں نظریہ پاکستان کا احیاء بہت ضروری ہوچکا ہے اس کے لئے تمام جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں اور جلد اس کو تحریک کی شکل میں لے کر چلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک میں فوج اور عوام کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

حکومت' عوام اور فوج ایک پیج پر ہونے چاہئیں۔ ٹارگٹ کلنگ' مذہبی منافرت' علاقائی' لسانی مسئلوں کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان والے ہم سے بہتر پاکستانی ہیں۔ وزیرستان کی علیحدگی بارے بیان قطعاً غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف سنجیدہ سیاستدان ہیں ان سے توقع ہے کہ وہ مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرینگے۔ ڈیرہ غازیخان ، مظفر گڑھ سے نمائندہ ایکسپریس ، نامہ نگار کے مطابق امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ امریکا، بھارت اور ان کے اتحادی پاکستان میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ملک میں لسانیت، عصبیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔

قومیتوں اور لسانیت پرستی کے بت توڑ کر ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سے فکری انتشار اور مسلمانوں کوآپس میں لڑانے کی سازشیں متحد ہو کر ہی ناکام بنائی جا سکتی ہیں۔ وہ گزشتہ روز موضع لاڈن، چاہ صابر والا ڈیرہ غازی خان میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ بیرونی قوتیں سندھ، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں لسانی جھگڑے کھڑے کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ ایک سازش کے تحت وطن عزیز میں لسانیت، عصبیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔
Load Next Story