یاسین ملک کا ’’کشمیر چھوڑ دو تحریک‘‘ شروع کرنیکا اعلان

کالے قانون کے تحت نظر بند کشمیریوں کوبنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، امریکا

عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف بانڈی پورہ میں مظاہرہ،کالے قانون کے تحت نظر بند کشمیریوں کوبنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، امریکا۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے''کشمیر چھوڑ دو تحریک' شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے معاملے کو اٹھانے کا واحد مقصد کشمیریوں کو ایک نئی بحث میں الجھانا ہے۔


یاسین ملک نے سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کااصلی چہرہ سامنے آنا شروع ہو گیاہے۔ یاسین ملک نے کہاکہ بھارتی حکومت یا پارلیمنٹ کودفعہ 370کو ختم کرنے کا اختیار نہیں جبکہ یہ اختیار صرف مقبوضہ علاقے کی نام نہاد اسمبلی کے پاس ہے۔ لبریشن فرنٹ تحریک آزادی کو مضبوط بنانے کیلئے دوبارہ سے '' کشمیر چھوڑ دو'' مہم شروع کریگی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے آرٹیکل 370کی منسوخی کی مخالفت محض ایک ڈرامہ بازی ہے۔ کشمیریوں کا جذبہ آزادی غیر متزلزل ہے اور وہ تحریک آزادی کو ہر قیمت پر اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

دریں اثناء بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ میں لشکر طیبہ کے ڈویژنل کمانڈر ابو اکاشاافغانی کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کاکہنا ہے کہ دیگرجنگجوئوں کی تلاش کیلیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ضلع بانڈی پورہ میں لوگوں نے قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ کی طرف سے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوںکو وکلاء تک رسائی اور طبی سہولیات سے محروم رکھاجا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ قابض انتظامیہ کالے قانون کے تحت کسی شخص کو بغیر کسی جرم یا عدالتی کارروائی کے کم از کم دو برس تک جیل میں رکھ سکتی ہے۔
Load Next Story