’’دی سسٹم‘‘ کا پریمیئر

معروف فنکاروں کی کہکشاں نے تقریب کو چار چاند لگادیئے

معروف فنکاروں کی کہکشاں نے تقریب کو چار چاند لگادیئے۔ فوٹو : طارق حسن

پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

ایک طرف تو ملک بھرمیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھر بنائے جارہے ہیں اوردوسری جانب گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان میں بننے والی فلمیں اپنے بہترین معیارکی بدولت انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی سے بننے والی فلموں میں جہاں اچھوتے موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے ، وہیں فلم انڈسٹری کو بحران کی دلدل تک پہنچانے والے ''چہروں'' کی جگہ اب پڑھے لکھے نوجوان فنکاروں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جارہا ہے۔



حال ہی میں پاکستانی نژاد نارویجن فلمسازغفوربٹ نے کثیرسرمائے سے ایک ایسی فلم بنائی ہے جو شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے بلکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں بھی اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔

فلم کے ڈائریکٹرشہزاد غفورپہلی بار ڈائریکشن کے میدان میں اترے ہیں لیکن ان کے کام کا انداز اور فلم کی تشہیری مہم کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب پاکستان فلم انڈسٹری کوبحران سے نکالنے کیلئے صرف نوجوانوں ہی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈائریکٹر نے تشہیری مہم کو اس خوبصورت انداز سے ڈیزائن کیا تھا کہ اب لوگ اپنی فیملیزکے ساتھ سینما گھروں کا رخ کر رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال فلم کی ریلیز سے ایک روز قبل لاہور کے مقامی سینما گھر میں ہونیوالے پریمیئر کو دیکھ کردی جاسکتی ہے۔ ''دی سسٹم'' کے پریمیئر میں برسوں تک فلم انڈسٹری پر راج کرنیوالے فنکاروں کی کہکشاں نے تقریب کو چار چاند لگادیئے۔




جونہی کوئی فنکار سینما گھر میں پہنچتا توان کے چاہنے والے ان کے ساتھ تصاویربنوانے اور آٹوگراف کیلئے اکھٹے ہوجاتے۔ تقریب میں فلمسٹارندیم بیگ ، بہاربیگم، نشوبیگم، عرفان کھوسٹ، لیلیٰ، نیئراعجاز، سید نور، پرویزکلیم، شہزاد رفیق، جمشید ظفر، جونی ملک، سلیم شاہ، سورج بابا، صندل، مریم علی حسین، صفدرخان، حافظ اکرم، صفدرملک، موسیٰ خان، ڈاکٹر اعجازوارث، حمزہ پاشا ، کشف علی ، فیشن ڈیزائنر صدف شفقت خان عباسی اوربین الاقوامی شہرت یافتہ پاپ سٹار عاطف اسلم سمیت دیگر موجود تھے۔



فلم میں مرکزی کردارادا کرنے والے اداکارشیراز، ہدایتکار شہزاد غفوراور فلمساز غفور بٹ ایک بہترین فلم بنانے پر مبارکباد کے ساتھ نیک تمناؤں کے پیغام وصول کررہے تھے۔ دوسری جانب ہال میں بیٹھے شائقین ناروے کی خوبصورت لوکیشنز پرفلمبند گیتوں اور فنکاروںکی پرفارمنس پرانہیں دل کھول کرداد دے رہے تھے۔

اس موقع پر ''ایکسپریس''سے بات کرتے ہوئے فلمسٹارندیم نے کہا کہ '' دی سسٹم'' کا موضوع، میوزک اور نوجوان فنکاروں کی بہترین اداکاری نے مجھے بہت متاثر کیا۔ جدید ٹیکنالوجی سے بنائی گئی فلم میں شائقین کوانٹرٹین کرنے کیلئے وہ کچھ شامل تھا جو موجودہ دور کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ گلوکارعاطف اسلم نے کہا کہ پاکستانی فلموں کا معیاردن بدن بہتر ہورہا ہے۔ ''دی سسٹم'' جیسی فلم نے پاکستان میں جدید فلمسازی کو فروغ دیدیا ہے۔ فلم کے ہیرو شیراز کے ساتھ عرفان کھوسٹ، نیئراعجاز اور ندیم بیگ کی اداکاری بہت پسند آئی۔ سینئر اداکارہ بہار بیگم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے بنائی جانیوالی ''دی سسٹم'' کی کہانی اور میوزک بہت جاندار ہے۔

فیشن ڈیزائنر صدف شفقت خان عباسی نے کہا کہ ''دی سسٹم'' ایک مکمل انٹرٹینگ فلم ہے۔ فلم میں ایک اہم ایشو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی منفرد فلمیں ہی نوجوان نسل کی پسند ہیں اور مجھے یہ دیکھ کرخوشی ہوئی ہے کہ نوجوانوں نے اپنے سینئرز کے ساتھ مل کرایک ایسی فلم بنائی ہے جوپاکستان کوبین الاقوامی مارکیٹ تک لے کرجائیگی۔

فلمساز غفوربٹ اورڈائریکٹر شہزاد غفور نے کہا کہ ہم نے کثیرسرمائے سے ایک بین الاقوامی معیار کی فلم بنائی ہے جس کی کامیابی پر مبارکباد کے پیغام مل رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ شائقین کی بڑی تعداد اپنی فیملیز کے ہمراہ سینما گھروں کا رخ کرے گی اورہماری فلم بزنس اور کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کرے گی۔
Load Next Story