لندن میں پاکستانی لیڈروں کا ہجوم
سیاسی اتحادوں کی کئی مثالیں ہیں جو اتحاد بن گئے اور انھیں صحیح قیادت مل گئی وہ منزل مراد تک جا پہنچے...
Abdulqhasan@hotmail.com
سات سمندر پار کے لوگوں نے ہمیں بہت کچھ دیا۔ سو برس سے کچھ اوپر کی غلامی سے نجات دلائی بلکہ نجات دے دی اور اس میں کوئی کنجوسی نہیں کی۔ اپنی مفتوحہ زمین میں تعلیم پھیلائی جدید زمانے کی نعمتیں عام کیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اپنے پیچھے دلچسپ انسانوں کا ایک گروہ چھوڑ گئے۔ یہ لوگ ہمارے لیے ایک تحفہ ہیں۔ جانے والوں نے جاتے جاتے ان کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا کہ ہم جس ملک کو آزاد کر رہے ہیں اور جس کی ملکیت سے دستبردار ہو رہے ہیں یہ سب آپ کا ہے کیونکہ آپ نے اور آپ کے آبائو اجداد نے جس وفا داری اور جانفشانی سے ہماری خدمت کی ہے، ہماری تابعداری کی ہے، ہمارے بادشاہ کو اپنا بادشاہ مانا ہے اور علاوہ اس کے اور بھی بہت کچھ تو ہم اس کے عوض میں آپ کو یہ آباد ملک دے کر جا رہے ہیں اب آپ جانیں اور آپ کا یہ ملک جانیں۔ گڈبائی!
یہ برطانیہ کی قوم تھی جس نے بزور بازو ہمارے ملک پر قبضہ کیا بڑی مشکل سے رعایا کو قابو میں رکھا اسے جی بھر کر لوٹا لیکن انصاف یہ کیا کہ جاتے ہوئے سب کچھ واپس کر دیا۔ اب ان دنوں انھی انگریزوں کے شہر لندن میں ان کی سابقہ نسل در نسل چلی آنے والی غلام سیاسی قیادت نے ہجوم کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی ہئیت ترکیبی دیکھیں تو ہنسی آتی ہے ان میں برطانوی دور کے اشرافیہ کے نمایندے تو ہیں ہی اب کچھ مولوی بھی ان میں زبردستی شامل ہو گئے ہیں جنھیں آزادی کے نعروں میں منہ سے جھاگ اڑاتے دیکھ کر لطف آتا ہے۔
یہ لوگ برطانوی عہد کی اشرافیہ میں ایک دلچسپ اضافہ ہیں مگر اتنے چالاک اور ہوشیار کہ برطانوی دور کی اشرافیہ کو اپنا محتاج بنا لیا ہے اور ان کی محفلوں اور مجلسوں میں وہ پیرو مرشد بن کر بیٹھتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اشرافیہ کا ماتم کیا جائے اور ان قائدین اسلام کی تعریف کی جائے جن کا مطالبہ ہے کہ وہ کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں کی نماز کی امامت کرائیں گے۔ ہمارا روتا دھوتا اشرافیہ آمین آمین کہتا رہ جاتا ہے۔ لندن کے ان جلسوں نے پاکستان کی دنیا ہی بدل دی ہے اور عمران خان جو اس گروہ کا روایتی حصہ نہیں ہیں وہ بھی اپنے بچوں سے ملاقات کے بہانے ان دنوں لندن میں ہیں۔ غرض جو بھی ہے ان دنوں وہ کسی نہ کسی بہانے لندن میں ہے اور پاکستانی عوام سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بھی یاد رکھیں۔ سنا ہے شیخ الاسلام کا تو ایک مکان بھی لندن میں ہے۔ رہائش کی آسانی ہے۔
لندن کے یہ اجتماع ہوں یا لاہور اور اسلام آباد کے، ان کی اصل وجہ یہ ہے کہ لیڈروں نے اپنا کام فراموش کر دیا ہے اور اب ان کے لیے ان کے عوام ایک آزمائش بن چکے ہیں۔ جب عام لوگوں کے قائد برسرعام لٹیرے بن جائیں پولیس اور عدالتوں میں ان کے نام پکارے جائیں اور وہ یہ دھمکیاں دینے لگیں کہ کوئی ان کو پکڑ کر تو دیکھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ ہیں تو پکڑے جانے کے لائق لیکن اپنی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں اتنی طاقت جمع کر لی ہے کہ اب وہ ریاستی مشین کو چیلنج کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے اس پر کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مولا نہ مارے تے مولا مردا نئیں۔ یہ ایک ایسے لیڈر کی بات ہے جو اس ملک کا وزیراعظم رہا ہے اور ملک اور قوم کو اس اعزاز کا بدلہ دھمکیوں میں دے رہا ہے اور جس ریاست کا وہ وزیراعظم تھا اس کو شکست دینا چاہتا ہے۔
بہر کیف ہمارے جو لیڈر لندن میں ہیں ان کو پاکستان میں مقیم لیڈر بے روز گار کہتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب ان کے پاس ان کا سیاسی اثاثہ ختم ہو گیا ہے اور وہ بے روز گار ہو چکے ہیں۔ سچ ہے جس کا جو روز گار ہو اگر اس کا مال ختم ہو جائے تو وہ بے روز گار نہ ہوا تو کیا ہوا۔
اس وقت لندن میں یا کسی دوسرے شہر میں جو پاکستانی لیڈر کوئی اتحاد بنا رہے ہیں اور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سب کے سب بے روز گار ہیں یعنی کاروباری اثاثے سے محروم ہیں اور یہ اثاثہ ہے عوام کا اثاثہ۔ جن لوگوں کے پاس عوام ہیں انھیں کسی اتحاد کی کیا ضرورت ہے اس سے پہلے نو عدد جماعتوں کا اتحاد بنایا گیا تھا جو بہت کامیاب رہا اس لیے کہ اس اتحاد میں جتنی بھی جماعتیں تھیں الگ الگ ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی لیکن جب یہ سب مل کر ایک اتحاد کی صورت اختیار کر گئیں تو ان کی ایسی زبردست سیاسی حیثیت بنی کہ بھٹو جیسا لیڈر بھی گھبرا گیا اور نتیجہ جو بھی نکلا بظاہر اتحاد کے حق میں نکلا۔
سیاسی اتحادوں کی کئی مثالیں ہیں جو اتحاد بن گئے اور انھیں صحیح قیادت مل گئی وہ منزل مراد تک جا پہنچے۔ نو جماعتی اتحاد پی این اے کو ایک دلچسپ بیرونی سرپرستی بھی حاصل تھی اور پاکستان میں بی بی سی کے نمایندے مارک ٹیلی کو جو یہودی تھا اس نو جماعتی اتحاد کا نواں رکن سمجھا جاتا تھا۔ ان دنوں جب کبھی مارک سے ملاقات ہوتی تو وہ مسکرا کر رہ جاتا۔ یہ اس کی مہربانی تھی کہ وہ ہماری بے عزتی نہیں کرتا تھا کہ دیکھو اپنی سیاسی قیادت کی اوقات کو۔
کالم کے دوران ایک سانحہ کی خبر ملی کہ حاجی سیف اللہ وفات پا گئے۔ حاجی صاحب ہماری رپورٹنگ کے دور میں پنجاب اسمبلی کے سب سے مقبول پارلیمنٹیرین تھے۔ حاجی صاحب اپنے کام پر بے حد محنت کرتے تھے اور اس کے عوض میں بے حد عزت پاتے تھے۔ پھر جدائی کا زمانہ آ گیا میں رپورٹنگ چھوڑ کر صحافت کے دوسرے شعبوں میں چلا گیا اور حاجی صاحب پہلے تو وفاقی وزیر بھی بن گئے پھر عملی سیاست سے گویا ریٹائر ہو گئے۔ اس دوران ان سے ایک ڈاکٹر کے کلینک میں ملاقات ہوئی وہ بڑے پیار کے ساتھ ملے اور کہا کہ ڈاکٹر کا شکریہ جس نے ایک بار پھر ملا دیا۔ یہ وہ یاد گار لوگ تھے جو ہماری پارلیمنٹ کی سیاست میں زندہ رہیں گے۔ اب ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کیا ہے۔ وہ نیک اور صالح لیڈر تھے اور اس لحاظ سے ایک منفرد مقام کے مالک تھے اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ہرگز ضایع نہیں کرے گا۔
یہ برطانیہ کی قوم تھی جس نے بزور بازو ہمارے ملک پر قبضہ کیا بڑی مشکل سے رعایا کو قابو میں رکھا اسے جی بھر کر لوٹا لیکن انصاف یہ کیا کہ جاتے ہوئے سب کچھ واپس کر دیا۔ اب ان دنوں انھی انگریزوں کے شہر لندن میں ان کی سابقہ نسل در نسل چلی آنے والی غلام سیاسی قیادت نے ہجوم کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی ہئیت ترکیبی دیکھیں تو ہنسی آتی ہے ان میں برطانوی دور کے اشرافیہ کے نمایندے تو ہیں ہی اب کچھ مولوی بھی ان میں زبردستی شامل ہو گئے ہیں جنھیں آزادی کے نعروں میں منہ سے جھاگ اڑاتے دیکھ کر لطف آتا ہے۔
یہ لوگ برطانوی عہد کی اشرافیہ میں ایک دلچسپ اضافہ ہیں مگر اتنے چالاک اور ہوشیار کہ برطانوی دور کی اشرافیہ کو اپنا محتاج بنا لیا ہے اور ان کی محفلوں اور مجلسوں میں وہ پیرو مرشد بن کر بیٹھتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اشرافیہ کا ماتم کیا جائے اور ان قائدین اسلام کی تعریف کی جائے جن کا مطالبہ ہے کہ وہ کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں کی نماز کی امامت کرائیں گے۔ ہمارا روتا دھوتا اشرافیہ آمین آمین کہتا رہ جاتا ہے۔ لندن کے ان جلسوں نے پاکستان کی دنیا ہی بدل دی ہے اور عمران خان جو اس گروہ کا روایتی حصہ نہیں ہیں وہ بھی اپنے بچوں سے ملاقات کے بہانے ان دنوں لندن میں ہیں۔ غرض جو بھی ہے ان دنوں وہ کسی نہ کسی بہانے لندن میں ہے اور پاکستانی عوام سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بھی یاد رکھیں۔ سنا ہے شیخ الاسلام کا تو ایک مکان بھی لندن میں ہے۔ رہائش کی آسانی ہے۔
لندن کے یہ اجتماع ہوں یا لاہور اور اسلام آباد کے، ان کی اصل وجہ یہ ہے کہ لیڈروں نے اپنا کام فراموش کر دیا ہے اور اب ان کے لیے ان کے عوام ایک آزمائش بن چکے ہیں۔ جب عام لوگوں کے قائد برسرعام لٹیرے بن جائیں پولیس اور عدالتوں میں ان کے نام پکارے جائیں اور وہ یہ دھمکیاں دینے لگیں کہ کوئی ان کو پکڑ کر تو دیکھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ ہیں تو پکڑے جانے کے لائق لیکن اپنی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں اتنی طاقت جمع کر لی ہے کہ اب وہ ریاستی مشین کو چیلنج کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے اس پر کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مولا نہ مارے تے مولا مردا نئیں۔ یہ ایک ایسے لیڈر کی بات ہے جو اس ملک کا وزیراعظم رہا ہے اور ملک اور قوم کو اس اعزاز کا بدلہ دھمکیوں میں دے رہا ہے اور جس ریاست کا وہ وزیراعظم تھا اس کو شکست دینا چاہتا ہے۔
بہر کیف ہمارے جو لیڈر لندن میں ہیں ان کو پاکستان میں مقیم لیڈر بے روز گار کہتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب ان کے پاس ان کا سیاسی اثاثہ ختم ہو گیا ہے اور وہ بے روز گار ہو چکے ہیں۔ سچ ہے جس کا جو روز گار ہو اگر اس کا مال ختم ہو جائے تو وہ بے روز گار نہ ہوا تو کیا ہوا۔
اس وقت لندن میں یا کسی دوسرے شہر میں جو پاکستانی لیڈر کوئی اتحاد بنا رہے ہیں اور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سب کے سب بے روز گار ہیں یعنی کاروباری اثاثے سے محروم ہیں اور یہ اثاثہ ہے عوام کا اثاثہ۔ جن لوگوں کے پاس عوام ہیں انھیں کسی اتحاد کی کیا ضرورت ہے اس سے پہلے نو عدد جماعتوں کا اتحاد بنایا گیا تھا جو بہت کامیاب رہا اس لیے کہ اس اتحاد میں جتنی بھی جماعتیں تھیں الگ الگ ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی لیکن جب یہ سب مل کر ایک اتحاد کی صورت اختیار کر گئیں تو ان کی ایسی زبردست سیاسی حیثیت بنی کہ بھٹو جیسا لیڈر بھی گھبرا گیا اور نتیجہ جو بھی نکلا بظاہر اتحاد کے حق میں نکلا۔
سیاسی اتحادوں کی کئی مثالیں ہیں جو اتحاد بن گئے اور انھیں صحیح قیادت مل گئی وہ منزل مراد تک جا پہنچے۔ نو جماعتی اتحاد پی این اے کو ایک دلچسپ بیرونی سرپرستی بھی حاصل تھی اور پاکستان میں بی بی سی کے نمایندے مارک ٹیلی کو جو یہودی تھا اس نو جماعتی اتحاد کا نواں رکن سمجھا جاتا تھا۔ ان دنوں جب کبھی مارک سے ملاقات ہوتی تو وہ مسکرا کر رہ جاتا۔ یہ اس کی مہربانی تھی کہ وہ ہماری بے عزتی نہیں کرتا تھا کہ دیکھو اپنی سیاسی قیادت کی اوقات کو۔
کالم کے دوران ایک سانحہ کی خبر ملی کہ حاجی سیف اللہ وفات پا گئے۔ حاجی صاحب ہماری رپورٹنگ کے دور میں پنجاب اسمبلی کے سب سے مقبول پارلیمنٹیرین تھے۔ حاجی صاحب اپنے کام پر بے حد محنت کرتے تھے اور اس کے عوض میں بے حد عزت پاتے تھے۔ پھر جدائی کا زمانہ آ گیا میں رپورٹنگ چھوڑ کر صحافت کے دوسرے شعبوں میں چلا گیا اور حاجی صاحب پہلے تو وفاقی وزیر بھی بن گئے پھر عملی سیاست سے گویا ریٹائر ہو گئے۔ اس دوران ان سے ایک ڈاکٹر کے کلینک میں ملاقات ہوئی وہ بڑے پیار کے ساتھ ملے اور کہا کہ ڈاکٹر کا شکریہ جس نے ایک بار پھر ملا دیا۔ یہ وہ یاد گار لوگ تھے جو ہماری پارلیمنٹ کی سیاست میں زندہ رہیں گے۔ اب ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کیا ہے۔ وہ نیک اور صالح لیڈر تھے اور اس لحاظ سے ایک منفرد مقام کے مالک تھے اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ہرگز ضایع نہیں کرے گا۔