گھڑی کی ٹک ٹک منتظمین کا چین چھیننے لگی
افتتاحی مقابلے کے میزبان اسٹیڈیم میں اب بھی بہت کام باقی، ملک بھر میں مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ بھی جاری
افتتاحی مقابلے کے میزبان اسٹیڈیم میں اب بھی بہت کام باقی، ملک بھر میں مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ بھی جاری۔ فوٹو: فائل
گھڑی کی ٹک ٹک ورلڈ کپ منتظمین کا چین چھیننے لگی، ورلڈ کپ افتتاحی مقابلے کے میزبان اسٹیڈیم میں اب بھی بہت کام کرنے باقی ہیں، دوسرے آزمائشی میچ میں بھی سائوپائولو کے گرائونڈ کو شائقین سے بھرا نہیں جاسکا، دوسری جانب مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق فٹبال ورلڈ کپ کے آغاز میں اب ڈیڑھ ہفتے سے بھی کم رہ گیا لیکن کئی وینیوز تاحال زیر تکمیل ہیں، سب سے زیادہ تشویش سائوپائولو کے کورنتھیانس اسٹیڈیم کے حوالے سے پائی جاتی ہے جہاں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، گذشتہ روز یہاں پر دوسرا آزمائشی مقابلہ فل ہائوس کے سامنے نہیں کھیلا جا سکا، کورنتھیانس اور جیڈسن کے درمیان یہ مقابلہ1-1 سے برابر رہا مگر68 ہزار سے زائد کی گنجائش والے اس وینیو میں میچ دیکھنے کیلیے37 ہزار 119 تماشائی موجود تھے، یہاں پر گنجائش میں اضافے کیلیے جو 20 ہزار اضافی نشستیں لگائی گئی ہیں فائر ڈپارٹمنٹ ان کی مکمل آزمائش کی اجازت ہی نہیں دے رہا، گذشتہ روز ایک اسٹینڈ کو تو کھولنے ہی نہیں دیاگیا، دوسرے اسٹینڈ میں بھی صرف 5 ہزار تماشائیوں کو بٹھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
21 مئی کو اس وینیو پر پہلے آزمائشی مقابلے کے برخلاف اس بار یہاں میٹل ڈیٹیکٹرز لگے ہوئے تھے مگر قریب میں ایک زیر تعمیر ایریا دیکھنے میں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کے آپریٹنگ منیجر تیاگو پائیس نے کہاکہ اس اسٹیڈیم میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، عارضی اسٹینڈز میں کچھ تبدیلیاں لانی ہیں، انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا، ایگزیکٹیو باکسز کو مکمل کرنا ہے، ابھی وہاں پرصوفے رکھے گئے نہ ہی دیگر آرائش کی گئی مگر ہمیں یقین ہے کہ یہ سب کام افتتاحی میچ سے قبل ہی مکمل کرلیے جائینگے۔دوسری جانب مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، گذشتہ روز بھی بس ڈرائیوروں نے اچانک گاڑیاں بند کرکے ایک طرح سے پورے سائو پائولو کو جام کردیا۔
تفصیلات کے مطابق فٹبال ورلڈ کپ کے آغاز میں اب ڈیڑھ ہفتے سے بھی کم رہ گیا لیکن کئی وینیوز تاحال زیر تکمیل ہیں، سب سے زیادہ تشویش سائوپائولو کے کورنتھیانس اسٹیڈیم کے حوالے سے پائی جاتی ہے جہاں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، گذشتہ روز یہاں پر دوسرا آزمائشی مقابلہ فل ہائوس کے سامنے نہیں کھیلا جا سکا، کورنتھیانس اور جیڈسن کے درمیان یہ مقابلہ1-1 سے برابر رہا مگر68 ہزار سے زائد کی گنجائش والے اس وینیو میں میچ دیکھنے کیلیے37 ہزار 119 تماشائی موجود تھے، یہاں پر گنجائش میں اضافے کیلیے جو 20 ہزار اضافی نشستیں لگائی گئی ہیں فائر ڈپارٹمنٹ ان کی مکمل آزمائش کی اجازت ہی نہیں دے رہا، گذشتہ روز ایک اسٹینڈ کو تو کھولنے ہی نہیں دیاگیا، دوسرے اسٹینڈ میں بھی صرف 5 ہزار تماشائیوں کو بٹھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
21 مئی کو اس وینیو پر پہلے آزمائشی مقابلے کے برخلاف اس بار یہاں میٹل ڈیٹیکٹرز لگے ہوئے تھے مگر قریب میں ایک زیر تعمیر ایریا دیکھنے میں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کے آپریٹنگ منیجر تیاگو پائیس نے کہاکہ اس اسٹیڈیم میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، عارضی اسٹینڈز میں کچھ تبدیلیاں لانی ہیں، انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا، ایگزیکٹیو باکسز کو مکمل کرنا ہے، ابھی وہاں پرصوفے رکھے گئے نہ ہی دیگر آرائش کی گئی مگر ہمیں یقین ہے کہ یہ سب کام افتتاحی میچ سے قبل ہی مکمل کرلیے جائینگے۔دوسری جانب مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، گذشتہ روز بھی بس ڈرائیوروں نے اچانک گاڑیاں بند کرکے ایک طرح سے پورے سائو پائولو کو جام کردیا۔