کے ایم سی ملازم کی بازیابی کیلیے رینجرز اور پولیس افسران کو نوٹس
عدالت نے فوج کے سابق ملازم کی سزا قانونی طور پر کم نہ کرنے پر صوبائی حکام سے جواب طلب کرلیا
عدالت نے فوج کے سابق ملازم کی سزا قانونی طور پر کم نہ کرنے پر صوبائی حکام سے جواب طلب کرلیا. فوٹو: فائل
ہائی کورٹ نے جوبلی سے شہری کی غیرقانونی حراست کے خلاف دائر درخواست پر محکمہ داخلہ ، ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ،ایڈیشنل آئی جی کراچی، انچارج سی آئی ڈی اور ایس ایچ او نبی بخش کو 12جون کیلیے نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسرت امین کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا شوہر امین الحق کے ایم سی کا ملازم ہے، 30 مئی کو غوثیہ سینٹرجوبلی میں واقع گھر میں موجودتھا کہ رینجر اہلکاروں نے چھاپہ مارکر اسے حراست میں لے لیا ، بعد ازاں درخواست گزار نے متعلقہ پولیس اور رینجرز ہیڈکوارٹر سے بھی رابطہ کیا مگر امین الحق کا پتہ نہیں چلا، درخواست گزار نے مزید کہا کہ امین الحق کی گرفتاری کے حوالے سے ایس ایچ او نبی بخش کو درخواست دی گئی تو اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، امین الحق کی گرفتاری آئین کی دفعات 4,9,10اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے امین الحق کو بازیاب کرایا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس کاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ، اس موقع پر اسٹینڈنگ کونسل اشفاق جنجوعہ نے وفاق کو جاری کردہ نوٹس وصول کرلیا ،آئندہ سماعت پر جواب داخل کیا جائے گا،علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے جاسوسی کے الزام میں سزا پانے والے فوج کے سابق ملازم کی سزا قانونی طور پر کم نہ کرنے پر صوبائی حکام سے جواب طلب کرلیا ، درخواست گزار محمدخان ملاح نے اپنی درخواست میں وزارت دفاع ، لیفٹننٹ کرنل جہانزیب ملیر کینٹ ، میجر شاہد رسول( ایم آئی ) اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج میں سپاہی تھا ۔
اسے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ، بعد ازاں فوجی عدالت نے مئی2011میں 3سال کی سزا سنائی اور جیل بھیج دیاگیا ،درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ قانون کے تحت اسے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات کو علیحدہ شمار کرکے سزا میں رعایت دی جائے ، عدالت نے آبزرویشن دی کی بادی النظر میں درخواست گزار اس رعایت کا حق دار تھا ،اس موقع پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کرلی،عدالت نے سماعت6جون تک ملتوی کردی۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسرت امین کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا شوہر امین الحق کے ایم سی کا ملازم ہے، 30 مئی کو غوثیہ سینٹرجوبلی میں واقع گھر میں موجودتھا کہ رینجر اہلکاروں نے چھاپہ مارکر اسے حراست میں لے لیا ، بعد ازاں درخواست گزار نے متعلقہ پولیس اور رینجرز ہیڈکوارٹر سے بھی رابطہ کیا مگر امین الحق کا پتہ نہیں چلا، درخواست گزار نے مزید کہا کہ امین الحق کی گرفتاری کے حوالے سے ایس ایچ او نبی بخش کو درخواست دی گئی تو اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، امین الحق کی گرفتاری آئین کی دفعات 4,9,10اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے امین الحق کو بازیاب کرایا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس کاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ، اس موقع پر اسٹینڈنگ کونسل اشفاق جنجوعہ نے وفاق کو جاری کردہ نوٹس وصول کرلیا ،آئندہ سماعت پر جواب داخل کیا جائے گا،علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے جاسوسی کے الزام میں سزا پانے والے فوج کے سابق ملازم کی سزا قانونی طور پر کم نہ کرنے پر صوبائی حکام سے جواب طلب کرلیا ، درخواست گزار محمدخان ملاح نے اپنی درخواست میں وزارت دفاع ، لیفٹننٹ کرنل جہانزیب ملیر کینٹ ، میجر شاہد رسول( ایم آئی ) اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج میں سپاہی تھا ۔
اسے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ، بعد ازاں فوجی عدالت نے مئی2011میں 3سال کی سزا سنائی اور جیل بھیج دیاگیا ،درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ قانون کے تحت اسے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات کو علیحدہ شمار کرکے سزا میں رعایت دی جائے ، عدالت نے آبزرویشن دی کی بادی النظر میں درخواست گزار اس رعایت کا حق دار تھا ،اس موقع پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کرلی،عدالت نے سماعت6جون تک ملتوی کردی۔