امریکا کو طالبان قیدیوں کی رہائی پر شدید تنقید کا سامنا

پاکستان، افغانستان ناراض ہیں، برطانوی میڈیا، قیدی لڑائی میں شامل ہوسکتے ہیں، ریپبلکنز

قیدیوں کے تبادلے کے بعد طالبان کا امریکا کیساتھ دشمنی کا درجہ تبدیل ہوسکتا ہے. فوٹو: فائل

امریکی فوجی کی رہائی کے بدلے گوانتاناموبے جیل سے پانچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے پر اوباما انتظامیہ کوشدید تنقیدکاسامنا ہے۔

ریپبلکن پارٹی نے کہا ہے کہ اس سے امریکیوںکی جانیں خطرے میں پڑجائیں گی، سابق صدارتی امیدوارسینیٹر جان میک کین نے کہا جن قیدیوںکوقطرکے حوالے کیاگیا،انتہائی خطرناک قسم کے لوگوں میں شامل ہیں، وہ ممکنہ طور پر ہزاروں لوگوںکے قتل کے ذمہ دار ہیں اور وہ دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔افغان عوام کا بھی کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی سے طالبان شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس سے خطے میں امن کے امکانات کم ہونگے۔افغان عوام کو سب سے زیادہ اعتراض نوراللہ نوری پر ہے جو صوبہ بلخ کے گورنر تھے اور اس دوران انہوں نے ہزاروں شیعہ افراد کا قتل عام کیا۔


وائٹ ہائوس کے ترجمان جے کارنی نے کہاکہ گوانتاناموسے رہاکئے گئے طالبان امریکا کیلئے خطرہ رہے ہیں نہ ہی انکی رہائی سے کسی کی جان خطرے میں ڈالی،انہوں نے کہا امریکی فوجی کی رہائی کیلئے طالبان سے مذاکرات کوخفیہ رکھاگیا،جے کارنی کاکہنا تھاکہ حامدکرزئی کو بتاکر طالبان سے مذاکرات کوظاہرکرنا نہیںچاہتے تھے اورکانگریس کو بتاتے تو نوٹیفکیشن کیلئے ایک ماہ انتظارکرنا پڑتا۔افغان حکومت نے طالبان اور امریکہ کے درمیان قیدیوں میں تبادلے پرناراضی کا اظہارکیا ہے اور اندرون خانہ شایدیہی ردعمل پاکستان کا بھی ہے۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ قیدی کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنا بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی ہے۔ماہرین کہتے ہیںکہ اس کامیابی کے بعد امریکہ طالبان کیساتھ اس مذاکراتی عمل کو شاید مزید آگے وسیع بنیادوں پر لیجاناچاہے گا۔امریکی اعلان کہ وہ 2016 تک تمام فوجی افغانستان سے نکال دیگا،طالبان کواس بات پرراضی کرنے میںمدد دیگاکہ وہ اسے اپنادشمن تصورکرنیکا درجہ تبدیل کردے۔اسکے بعدافغان حکومت کا یہ جواز بھی ختم ہوجائیگا کہ طالبان مغرب کے دشمن ہیں اوربالآخرافغان حکومت سے بھی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیںکہ پاکستان کیلئے بہتر ہوگاکہ وہ براہِ راست مداخلت سے بازرہے اور افغانوں کو خود اپنے مسائل حل کرنے دے۔
Load Next Story