فرزانہ قتل کیس مزید 5 ملزم گرفتار چھاپوں کا سلسلہ جاری
تفتیش شروع،گرفتار ملزموں کی تعداد 10 ہو گئی،جلد عدالت میں پیش کرینگے، پولیس
پولیس نے مقتولہ کے والد عظیم کا عدالت سے سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے۔ فوٹو: فائل
لاہور پولیس نے فرزانہ قتل کیس کے مزید 5 ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش شروع کر دی۔
ادھر ایڈیشنل سیشن جج عبدالقیوم نیفرزانہ کے والد کی ضمانت کیلیے دائر درخواست پر سماعت آج تک کیلیے ملتوی کرتے ہوئے وکلاء کو بحث کیلیے طلب کر لیا،پیر کو سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق نے میڈیا کو بتایا کہ فرزانہ قتل کیس کے مزید پانچ ملزمان کو مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، اس طرح اب تک گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد 10 ہو چکی ہے، مزید 18 ملزمان کی گرفتاری کیلیے پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے والد عظیم کا عدالت سے سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے جبکہ دیگر گرفتار ملزمان کو بھی جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا، ادھر ایس پی سول لائنز عدیل نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے، پولیس نے پہلے جن افراد کو حراست میں لیا تھا، ان میں مقتولہ کا والد محمد عظیم اور بھائی جہان خان، محمد عطا، ناصر اور عالم شیر شامل تھے، واضح رہے کہ 25 سالہ پروین کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے اہلِ خانہ نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر اینٹیں مار کر ہلاک کردیا تھا۔
ادھر ایڈیشنل سیشن جج عبدالقیوم نیفرزانہ کے والد کی ضمانت کیلیے دائر درخواست پر سماعت آج تک کیلیے ملتوی کرتے ہوئے وکلاء کو بحث کیلیے طلب کر لیا،پیر کو سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق نے میڈیا کو بتایا کہ فرزانہ قتل کیس کے مزید پانچ ملزمان کو مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، اس طرح اب تک گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد 10 ہو چکی ہے، مزید 18 ملزمان کی گرفتاری کیلیے پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے والد عظیم کا عدالت سے سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے جبکہ دیگر گرفتار ملزمان کو بھی جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا، ادھر ایس پی سول لائنز عدیل نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے، پولیس نے پہلے جن افراد کو حراست میں لیا تھا، ان میں مقتولہ کا والد محمد عظیم اور بھائی جہان خان، محمد عطا، ناصر اور عالم شیر شامل تھے، واضح رہے کہ 25 سالہ پروین کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے اہلِ خانہ نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر اینٹیں مار کر ہلاک کردیا تھا۔